بے شک انسان خسارے میں ہے

وسعت اللہ خان
یہ کائنات کتنی بڑی ہے ؟ شاید اتنی بڑی کہ لفظ ” بڑا ” بھی بہت چھوٹا ہے۔اب تک سب سے طاقتور دوربین ہبل صرف3 ہزار کہکشائیں دیکھ پائی ہے جو12 ارب نوری سال کے دائرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔

ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے کہ زمین نظام شمسی کا تیسرا بڑا سیارہ ہے اور یہ نظامِ شمسی عطارد ، زہرہ ، مریخ ، زمین ، نیپچون ، یورینس ، پلوٹو ، زحل اور مشتری نام کے 9 سیاروں پر مشتمل ہے جو سورج دادا کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور ہمارا یہ سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کے سطح پر ایک قطار میں ہمارے سیارے جتنی109 زمینیں سما سکتی ہیںلیکن ہمارا یہ نظامِ شمسی اگر کائنات کے لق و دق میدان میں رکھ دیا جائے تو اس کا حجم اس میدان میں پھیلی گھاس کے ایک تنکے کی آدھی نوک سے بھی کم ہے۔ہمارا یہ نظامِ شمسی جس کہکشاں کا حصہ ہے اس کا نام ہم نے” ملکی وے“ فرض کر لیا ہے اور یہ کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ ہمارا نظامِ شمسی اس کے انتہائی سرے پر ایک ذرے سے زیادہ بڑا نہیں جسے ننگی آنکھ سے بمشکل دیکھا جاسکتا ہو۔ہمارا سورج اپنی ہی کہکشاں کے مرکزی حصے سے 30 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔اس طرح کی کہکشائیں اور کتنی ہیں کوئی نہیں جانتا۔ہم اپنی آسانی کےلئے فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ایک ارب سے زائد ہیں۔

اپنی اس کہکشاں کے جن چند ستاروں کے بارے میں ہم اب تک دور بیٹھے جان پائے ہیں ان میں ایک ستارہ” وائی کینس میجورس“ ہے۔یہ ہم سے 3 ہزار900 نوری سال کی دوری پر ہے۔اس کے قطر کا اندازہ ایک ارب 98 کروڑ کلو میٹر لگایا گیا ہے یعنی اس میں ہماری زمین جیسی6 لاکھ 40 ہزار زمینیں بآسانی سما سکتی ہیں۔اس ستارے سے بھی بڑے اور کتنے ستارے صرف ہماری اپنی کہکشاں میں ہیں یہ ہم ابھی نہیں جانتے چنانچہ دیگر ایک ارب سے زائد کہکشاو¿ں کا تو ذکر ہی فی الحال فضول ہے۔

اب اگر ہمیں کائنات میں اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیا ہو تو آئیے زمین پر اتر آئیں۔کائناتی کیلنڈر کے پیمانے سے دیکھیں تو یہ زمین محض ایک گھنٹے پہلے ہی وجود میں آئی ہے ( یعنی صرف ساڑھے4 ارب سال پہلے )، اور اس میں زندگی کے ابتدائی آثار صرف 45 منٹ پہلے ہی پیدا ہوئے ہیں ( یعنی صرف ساڑھے3 ارب سال پہلے ) اور ہم اور آپ صرف15سے 20 منٹ پہلے پیدا ہوئے ہیں ( یعنی کوئی ڈیڑھ ارب سال پہلے )۔

لیکن ہماری اکڑ! الامان والحفیظ…. ارسطو اور ٹولمی جیسے علما ءسمیت ہم سب کو ابھی600 برس پہلے تک زعم تھا کہ یہ زمین ہی کائنات کا مرکز ہے۔وہ تو میاں کوپر نیکس نے16ویں صدی میں یہ کہہ کر نشہ خراب کردیا کہ زمین تو خود سورج کی کرایہ دار ہے اور دن رات اس کے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی ہے۔پھر کوپرنیکس کے70برس بعد گیلیلیو نے یہ انکشاف کرکے رہی سہی عزت بھی خراب کر دی کہ سورج کی بھی کیا اوقات، اس جیسے لا تعداد ستارے آسمانوں میں موجود ہیں۔

اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ہم اپنی کھال میں آجاتے اور صبر شکر کے ساتھ کائنات کی فکر میں دبلے ہونے کے بجائے اپنے ہی گھر اور اس کے تمام انسانی و حیوانی باسیوں کی طرف مکمل توجہ دیتے۔ابھی تو ہمیں یہی ٹھیک سے نہیں معلوم کہ اس زمین پر دراصل کتنی اقسام کی زندگی پائی جاتی ہے۔86 فیصد نباتات ،جمادات و حیوانات کا تو ہم ریکارڈ بھی حاصل نہیں کر پائے اور جو زندگی ہمارے علم و دسترس میں آ چکی اس کی بھی دلجمعی سے ایسی تیسی کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔بے شک انسان خسارے میں ہے۔

یہ کرہ¿ ارض ایک چوتھائی خشکی اور تین چوتھائی پانی پر مشتمل ہے۔اس پانی میں سے صرف 3 فیصد میٹھا ہے۔اس میٹھے پانی میں سے بھی آدھا گلیشئیرز کی شکل میں منجمد ہے۔گویا صرف0.75 فیصد پانی ہے جو ہم اور آپ اس وقت استعمال کررہے ہیںاور اس استعمال شدہ پانی میں سے بھی60 فیصد پانی ہم ترسیل و آبپاشی کے ناقص نظام میں ضائع کر بیٹھے ہیں۔ان بے اعتدالیوں کے نتیجے میں دریا ، جھیلیں اور زیرِ زمین پانی کے زخائر تیزی سے خشک ہو رہے ہیں یا پھر ہمارے ہی ذاتی و صنعتی فضلے سے آلودہ ہورہے ہیں۔

ہماری لالچ پچھلے100 برس میں50 فیصد دریافت شدہ حیاتیات کو نسل کشی کی کگار تک لے آئی ہے اور اگلے 50 برس میں آدھے چرند و پرند و آبی حیات ہمیں صرف تصاویر میں ہی دکھائی دے گی۔

لیکن کرہ¿ ارض کی صرف 25 فیصد زمین پر بسنے والوں نے جو حشر75 فیصد پانی کا کیا ، اس کےلئے کم ازکم لفظ ” ریپ ہے ”۔سمندر میں تیل کی تلاش ، رساو¿ اور فضلے کی مسلسل نکاسی نے آدھے ساحلی علاقوں کو آلودگی کے بخار میں مبتلا کردیا ہے۔اگلے 35 برس میں سمندری حیات کا گھر کہلانے والی” کورل ریفز“ 90 فیصد تک ختم ہو جائیں گی۔پچھلے 45 برس میں قابلِ خوراک مچھلیوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے لہذا اب ایسے ٹرالرز سمندر میں اتارے جا رہے جن کے ہاتھ 2 ہزار میٹر ( لگ بھگ 7 ہزار فٹ ) کی گہرائی میں موجود شکار تک پہنچ سکتے ہیں۔بحرالکاہل میں اب سے50 برس پہلے تک اربوں بلو فن ٹونا مچھلی تھی۔آج ان کی تعداد 40 ہزار رہ گئی ہے۔ہمارے ہی کارخانوں نے اس قدر آلودگی خلا میں جمع کردی کہ موسمیاتی سائیکل بھی پاگل ہو چکا اور سمندر کی روزمرہ بغاوت تو معمول بنتی جارہی ہے۔

ہر تہذیبی گروہ کو سوائے اپنے سب کی نجات کی فکر ہے اور وہ اس فکر میں باقی دنیا کو مزید جہنم بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔ہم خود سے تو سنبھالے نہیں جا رہے مگر مریخ پر پانی تلاش کر رہے ہیں۔مخلوقِ خدا کی آنکھیں پڑھنے کے بجائے دیگر سیاروں میں اپنے جیسی ” ذہین مخلوق” کے سگنلز وصول کرنے کے انتظار میں ہیںمگر یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ ہوسکتا ہے کسی اور سیارے کی مخلوق بھی ہماری زمین پر یہ تحقیق کررہی ہو کہ آخر یہاں طرح طرح کی رنگا رنگ زندگی کے باوجود عقل کیوں عنقا ہے ؟