ایف آئی آر اور گرفتاری کی عیاشی

وسعت اللہ خان

آٹھ روز پہلے کراچی کے آرٹلری میدان تھانے میں رینجرز سب انسپکٹر شاہد پرویز خان کی مدعیت میں یہ ایف آئی آر درج ہوئی کہ ’’مدعی پریس کلب کے قریب گاڑیوں کی سرسری چیکنگ کر رہا تھا کہ کار نمبر بی ای ڈی سات سو پندرہ الٹرا ہائی بریڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد ولد شمیم احمد کو پایا کہ جن کو مدعی فیس بک پر توہینِ رسالت کے مرتکب بلاگرز کی حمایت میں پیش پیش رہنے اور بڑھاوا دینے کے حوالے سے ذاتی طور پر جانتا ہے۔
وہ آج مورخہ یکم اپریل کو پریس کانفرنس کی غرض سے پریس کلب جا رہا تھا۔ اس کو روکا گیا اور کار سے اتار کر بوقت چار بجے شام تلاشی لی تو پینٹ میں پیچھے کی جانب اڑسی ہوئی شرٹ کے نیچے سے ایک پستول (اسٹاکر گروگر آٹھ ہزار میڈ ان ترکی) بمعہ لوڈ میگزین چھ گولیاں زندہ برآمد ہوا۔ مزید جامہ تلاشی لینے پر اصل شناختی کارڈ، دو اے ٹی ایم کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، موبائیل فون، نقد رقم مبلغ انتیس ہزار روپے اور کار کے ڈیش بورڈ سے مختلف کاغذات برآمد ہوئے۔ پستول کا لائسنس طلب کرنے پر پیش نہیں کر سکا۔ جس کے باعث سندھ آرمز ایکٹ کی دفعہ تئیس اے کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے‘‘۔
اگلے دن ڈاکٹر ریاض احمد کا ریمانڈ لیا گیا اور انھیں چودہ روز کے عدالتی ریمانڈ پر کراچی سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ پانچ روز بعد سیشن عدالت سے ڈاکٹر ریاض احمد کو پچاس ہزار روپے زرِ ضمانت کے عوض رہا کر دیا گیا۔
اگرچہ کراچی کے ایک اردو اخبار نے ایک رپورٹ بھی شایع کی کہ ڈاکٹر ریاض احمد ملک دشمن قوتوں کا آلہِ کار ہے، اس کے نہ صرف ایم کیو ایم لندن بلکہ قوم پرستوں اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی این جی اوز سے بھی روابط ہیں اور وہ پاک فوج سمیت کئی اداروں کی توہین بمعہ غائب بلاگرز کی حمایت میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کے ایک اینکرنے بھی ڈاکٹر ریاض احمد پر لگائے گئے الزامات کی اپنے ذرایع سے توثیق کی مگر وائے افسوس کہ کوئی بھی ان الزامات پر سنجیدگی سے کان دھرنے کے لیے تیار نہیں۔
بہت امید تھی کہ کراچی یونیورسٹی ٹیچرز یونین اپنی مجلسِ عاملہ سے ڈاکٹر ریاض احمد کی رکنیت ختم کر دے گی اور اکیڈمک کونسل سے بھی فارغ کرنے کا مطالبہ کرے گی اور انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے اطلاقی کیمیا میں پی ایچ ڈی کی جو ڈگری برسوں پہلے حاصل کی اس کی دوبارہ تصدیق کا بھی مطالبہ کرے گی اور مستند بین الاقوامی سائنٹفک جرنلز میں ڈاکٹر ریاض احمد کے جو تحقیقی مقالے شایع ہوئے ان میں سرقے اور کٹ پیسٹ کا سراغ لگانے کے لیے اپنے تئیں تحقیقی کمیٹی قائم کرے گی۔ مگر الٹا کراچی یونیورسٹی کی ٹیچرز یونین نے بلا لائسنس پستول کی برآمدگی تک کو بھی جھوٹا قرار دیا اور ڈاکٹر ریاض احمد کی رہائی کے لیے کلاسوں کا بائیکاٹ اور یومِ سیاہ منظم کیا۔
حتیٰ کہ کیمبرج سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کر کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر شپ سے حالیہ ریٹائر ہونے والے اور اپنے اکیڈمک کام کے سبب ملک گیر عزت کمانے والے ڈاکٹر جعفر احمد بھی ڈاکٹر ریاض کی ضمانت کے معاملے پر طلبا و طالبات، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے گمراہ لوگوں کے ہمراہ عدالت کے احاطے میں کھڑے پائے گئے۔ جانے کیوں انھوں نے رینجرز کی نیت پر شک کرتے ہوئے عدالت پر ڈاکٹر ریاض کی رہائی کے حق میں بے جا دباؤ ڈالنے والوں کے شانہ بشانہ رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ اگر ڈاکٹر جعفر جیسے لوگ بھی سڑک پر آ جائیں گے تو پھر اس ملک میں تحقیقی کام کون آگے بڑھائے گا؟ آخر قانون نافذ کرنے والے ادارے کب تک سارا تحقیقاتی بوجھ ڈھوتے پھریں گے؟
اور یہ بیٹھے بٹھائے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ ِ اسلام کی ریٹائرڈ چئر پرسن پچھتر سالہ پروفیسر مہر افروز مراد کو کیا سوجھی جو اپنے سابق ساتھی ریٹائرڈ راندہِ درگاہ پروفیسر اور شعبہِ فلاسفی کے سابق چیرمین ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی رہائی اور انھیں علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے مطالبے پر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کے لیے بے راہرو ڈاکٹر ریاض احمد کی باتوں میں آ کر ان کی کار میں بیٹھ گئیں اور پکڑی گئیں اور پانچ گھنٹے کے لیے تھانے میں بھی بٹھائی گئیں۔ حتیٰ کہ ایک پولیس والے کو رحم کھا کے کہنا پڑا کہ میڈم یہ عمر تو آرام کرنے کی ہے آپ کن چکروں میں پڑ گئی ہیں۔ اور پھر انھیں احترام کے ساتھ سول سوسائٹی کی ایک اور نیم حراستی رکن نغمہ شیخ کے ہمراہ جانے کی اجازت دے گئی۔
میڈم مہر افروز مراد بھلے حسن ظفر عارف کی اکیڈمک ساتھی اور دوست رہی ہوں۔ بھلے حسن ظفر عارف ایم کیو ایم لندن نامی کسی ایسی جماعت کے رکن ہوں جسے اب تک کالعدم تنظیم قرار نہیں دیا گیا۔ بھلے ہی ڈاکٹر ظفر عارف کو پانچ ماہ قبل اسی کراچی پریس کلب کے باہر اسلحہ برآمد ہوئے بغیر گرفتار کیا گیا ہو، بھلے ہی ان پر باقاعدہ مقدمہ اب تک قائم نہ ہوا ہو، بھلے ہی ان کی درخواستِ ضمانت تین بار مسترد ہو چکی ہو، بھلے ہی ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیم انھیں سیاسی قیدی سمجھتی ہو لیکن جب رینجرز والے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ظفر عارف ملک دشمن ہیں تو پھر وہ ملک دشمن ہیں۔ اب میڈم آپ مجھے پلیز وہ لطیفہ نہ سنائیے گا کہ ایوب خان کے زمانے میں جب ایک سیاسی ورکر کو کیمونسٹ ہونے کے جرم میں گرفتار کیا جانے لگا تو اس نے کہا بھائی میں تو اینٹی کیمونسٹ ہوں۔ افسر نے کہا پتر اینٹی ہے تو کیا ہوا، ہے تو کیمونسٹ ہی نا۔۔۔
ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ رینجر سب انسپکٹر شاہد پرویز خان کی مدعیت میں جو ایف آئی آر لکھی گئی وہ ناقص تھی تبھی تو ڈاکٹر ریاض احمد جیسے لوگ اتنی آسانی سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اگر کچھ اور اہم نکات بھی ایف آئی آر میں ڈل جاتے تو ڈاکٹر ریاض کے خلاف معاملہ بہت مضبوط ہو جاتا۔ بلکہ ہمیں تو حیرت ہے کہ سب انسپکٹر شاہد ڈاکٹر صاحب کو ذاتی طور پر جانتا ہے اور اس کے پیٹی بھائی پچھلے تیس برس سے جامعہ کراچی میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے پہرے پر بھی ہیں۔ تب بھی اتنے اہم نکات انسپکٹر کی نظروں سے کیسے اوجھل رہے۔ ایف آئی آر اصل میں یوں کٹنی چاہیے تھی۔
’’ مدعی پریس کلب کے قریب گاڑیوں کی سرسری چیکنگ کر رہا تھا کہ کار نمبر بی ای ڈی سات سو پندرہ الٹرا ہائی بریڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد ولد شمیم احمد کو پایا کہ جن کو مدعی فیس بک پر توہینِ رسالت کے مرتکب بلاگرز کی حمایت میں پیش پیش رہنے اور بڑھاوا دینے کے حوالے سے ذاتی طور پر جانتا ہے۔ نیز مدعی یہ بھی جانتا ہے کہ ڈاکٹر ریاض احمد خود کو کھلم کھلا مارکسسٹ کہتا ہے اور معاشرے میں انارکی پھیلانا چاہتا ہے۔
اس نے بارہ مئی دو ہزار سات کو معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر صدر پرویز مشرف کی حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کی کنٹینر ناکہ بندی کو معصوم طلبا و طالبات کی مدد سے توڑنے کی کوشش کرکے نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کیا بلکہ طلبا و طالبات کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالا۔ ملزم ڈاکٹر ریاض احمد نے ایک ہاوئسنگ سوسائٹی کی تیز ترین پیشقدمی روکنے کے لیے کراچی کے گوٹھوں کی مزاحمتی تحریک کے دوران سپر ہائی وے پر احتجاجی دھرنے میں شرکت کرکے کارِ سرکار میں بے جا مداخلت کی کوشش کی۔
ملزم نے سبین محمود کے قتل کے فوراً بعد لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کی جانب سے ’’ان سائلنسنگ بلوچستان‘‘ کے عنوان سے ایک مباحثے کی منسوخی کے باوجود کراچی یونیورسٹی کی آرٹس لابی میں انتظامی و حساس اداروں کی تنبیہہ کے باوجود اس موضوع پر کھلا سیمینار منعقد کروا کے ریاستی اداروں کے خلاف بدزنی کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ اس سے قبل ملزم ریاستی رٹ کو چڑانے کے لیے پریس کلب کے باہر ماما قدیر کے بھوک ہڑتالی کیمپ کِے آس پاس بھی کئی بار دیکھا گیا۔
ملزم اپنی پاکستان دشمنی کو چھپانے اور لوگوں کو اپنے بارے میں کنفیوز رکھنے کے لیے خود کو مارکسسٹ کہنے کے باوجود اکثر دائیں بازو کی مذہبی تنظیموں کے کارکنوں کے غائب ہونے، مذہبی عبادت گاہوں پر حملوں، توہینِ رسالت پر مبنی مغربی ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والے کارٹونوں اور گستاخانہ تحریروں کے خلاف بھی شدید مذمتی بیانات جاری کرتا رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مزدوروں، شہری حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے پردے میں ہونے والے ہر مظاہرے اور اجتماع میں نہ صرف شرکت کرتا ہے بلکہ ان پلیٹ فارموں کو ریاست، قوانین، خارجہ و داخلہ پالیسیوں نیز دہشتگردوں کے قلع قمع کی حکمتِ عملی پر تنقید کے لیے استعمال کرتا ہے اور ریاستی اداروں پر اچھے اور برے دہشتگردوں میں تمیز کرنے جیسے بے بنیاد الزامات لگا کے پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
خدشہ ہے کہ ڈاکٹر ریاض جیسے نئی نسل کے ذہن پراگندہ کرنے والے لوگوں کو کھلا گھومنے دیا گیا تو ملکی استحکام اور نظریے کو بچانے کی کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ لہٰذا حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ایسے عناصر کو غیر ملکی ایجنٹ بشمول را، ایم کیو ایم لندن (غیر کالعدم)، لبرل فاشسٹ یا توہینِ مذہب سمیت کسی بھی خانے میں ڈال کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ تاکہ ریاست اپنی پوری توجہ ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کی جانب مرکوز رکھ سکے جن کا مقصد ملک میں سکون لانا ہو۔ ایسا سکون جہاں شور ہو تو صرف ہوا کا اور چہچاہٹ ہو تو بس پرندوں کی‘‘۔
(میں مبارک باد دیتا ہوں کہ بہت عرصے بعد ریاستی پالیسیوں کے کسی متحرک ناقد کو سلیمانی ٹوپی اوڑھانے کے بجائے باقاعدہ گرفتار کر کے ایف آئی آر کٹنے کی عیاشی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا)۔