قادیانی غیر مسلم،ایکٹ 1974

مظفرآباد(عبدالواجد خان سے) آزادکشمیر کی تاریخ کا ایک اور سنگ میل عبور،صدر آزادجموں وکشمیر سردار محمد مسعودخان نے قانون ساز اسمبلی و کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں 6فروری کو متفقہ منظور ہونے والے قانون پر دستخط ثبت کردیئے۔ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق حکومت نے 2روز قبل قانون کے نفاذ کے لیے صدر آزادکشمیر کو سمری ارسال کی تھی جس پر صدر ریاست نے بدھ کے روز آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین1974 ء کی (بارہویں ترمیم) ایکٹ 2018ء کی توثیق کردی ہے جس کے مطابق سیکشن IIایکٹ 1974 (VIII) میں ترمیم سے مسلم کی تعریف کی گئی ہے، جس کے تحت مسلم کا مطلب ایسا شخص جو اتحاد اور اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر یقین رکھتا ہو اور حضرت محمد ۖ کے آخری نبی اور رسول ہونے پر مطلق یقین رکھتا ہو کہ آپ ۖ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے یا اپنے آپ کو نبی ہونا ظاہر کرے تو اس کے جھوٹے ہونے پر یقین رکھتا ہو۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان کے دستخط ثبت ہونے کے بعد اب یہ قانون بن چکا ہے۔ اس موقع پر صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ اس ترمیمی ایکٹ پر ان کی توثیق کے بعد ختم نبوت کا یہ بل “سنگ میل”ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت کا یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے ، یہ معاملہ طویل عرصہ سے التواء میں رہا اور اب وزیر اعظم آزاد کشمیر ، سپیکر قانون ساز اسمبلی اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی وکشمیر کونسل نے ختم نبوت کا یہ قانون بنا کر ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس پر وہ مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں