آ ج ریڈیو کا عالمی دن ہے

تحریر :فداحسین

گزشتہ روز 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا ۔اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کا ادرہ برائے تعلیم و ثقافت یونیسکو نے 3نومبر 2011کواپنے 36سالانہ اجلاس میں دی ۔اس کی تجویز سپین ریڈیو اکیڈمی کے صدر نے یونیسکو کے ڈاریکٹر جنرل کے نام 2008میں ایک خط لکھ کر دی تھی۔اس کے بعد ہر سال 13فروری کو ریڈیو کے عالمی دن طور منایا جانے لگا ہے۔
ابتدائی انسانوں کے وہم و گمان میں شاید یہ بات نہیں رہی ہوکہ انسانوں کو تسخیر کائنات پر اس قدر دسترس ہو گی کہ ہوا کو ہی مسخیر کرتے ہوئے وہ خود ہی ہوا میں اڑنا شروع کر دے گا۔لیکن آج کا انسان نہ صرف ہوا میں اڑتاہے بلکہ ہوا کے ہی دوش پر اپنے عزیز و آقاریب اور دوست احباب سے رابطہ بھی قائم کرتاہے۔ ہوائی لہروں کو قابو میں کرتے ہوئے اس سے پیغام رسانی کا لینا اور لوگوں کی کثیر تعداد سے مخاطب ہونا آج کے جدید دور میں بھی کوئی آسان کام تو نہیں ۔ لیکن اس مشکل کام کا آغاز 19ویں صدی کے آخر میں شروع ہوا جو آج ترقی کرتے ہوئے موبائل فون تک آگیا ہے دنیا کی معلوم تاریخ کے مطابق ہوا کی لہروں کو قابو کرنے کا تصور 1830میں ابھر کر سامنے آیا جس کوریڈیو کا نام دیا گیا۔ جو تاروں کی مدد کے بغیر پیغا م رسانی کا عمل سے شروع ہوتا تھا ۔اور اس کے ذریعے لاتعداد لوگوں تک اپنے پیغام پہنچاتے تھے ۔اس کے بعد 1873میں جمیزکلرک میکسویل نامی سائنسدان نے ایک فامولا ایجاد کیا جس کے تحت انہوں نے مقناطیس کے ذریعے برقی لہروں کوفضا میں بھیج کر تجربہ کیا ۔تاہم 1830میں ڈیوڈ ایڈورڈ ہوز نے بین الاقومی سطح پر نشریات کا تجربہ کیا۔اس کے بعد 1888میں ایک مشہور ایک اور سائنسدان ہنرچ ہرٹاز نے اپنے تجربے میکسویل کے دیئے ہوئے فامورمولے کو درست ثابت کیا۔جس کو مکمل شکل گوگلیمو مارکونی نے دی اس کے بعد ریڈیو نے باقاعدہ طور صنعت کا درجہ حاصل کیا۔ اس کے بعد بھی بی بی سی نے 1922میں اپنی نشریات کا آغاز کیا اس وقت اس کا نام برٹش براڈ کاسٹینگ کمپنی تھا جویکم جولائی 1927میں برٹش براڈکاسٹینگ کارپویشن میں بدل گیا۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کااعلان ریڈیو سے ہی کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں 3ریڈیو سٹیشن تھے ۔ ریڈیو پاکستان لاہور،ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو ڈھاکہ جواس وقت بنگلہ دیشن کا درالحکومت ہے۔اس کے بعد1948میں کراچی اور راولپنڈی میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوئے۔ 1950میں سندھ کے شہر حیدر آباد 1956میں کوئٹہ اور 1970میں اسلام آباد میں ٹریننگ سینٹر اور ملتان میں ریڈیو سٹیشن قائم کیا گیا ۔ 1974اور 75میں خیرپور اور بھاولپورمیں1977میں گلگت اور سکردو میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے۔1981میں تربت اور 1982میں ڈیرہ اسماعیل خان ،خضدار اور فیصل آباد میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے ۔ ریڈیو کی صنعت میں ایف ایم کے آمد کے ساتھ اس میں اور جدت آگئی ۔جس کا آغاز محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ہوا ۔پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کے ایسویٹ پروفیسر مرحوم ڈاکٹر احسان اختر ناز کی ایک تحقیق کے مطابق 1994میں پہلا ایف ایم ریڈیو نے کام کا آغاز کر دیا ۔ جس کو ایف ایم گولڈ کا نام رکھا گیاتھا۔جس کی صبح کے سات بجے سے دن 1بجے تک نشریات ہوتی تھی۔ تاہم اس وقت وہ نشریا ت تجرباتی بنیادوں پر تھی جس کی کامیابی کے بعد 1996میں پاکستان بڑاڈ کاسٹینگ کارپورشن نے ایف ایم 101کی باقاعدہ نشریا ت کا آغازکر دیا۔اورا س وقت صورتحال یہ ہے کچھ ٹیلی ویژن چینلز نے بھی اپناایف ایم ریڈیو چینل کی نشریات کا آغاز کیا اور دیگر ٹیلی ویژن بھی ایف ایم ریڈیو کا آغاز کرنے والے ہیں ۔ یہاں تک کہ پاکستان کا ایوان بالا یعنی سینٹ نے بھی ایف ریڈیو کی نشریات شروع کرنے اعلان کر رکھا ہے۔اور ہمارئے ملک کی یونیورسٹیاں بھی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔اورپرائیوٹ سیکٹر میں ایف ایم 99نے پہلی مرتبہ اپنی نشریات کا آغاز 23مارچ 2003سے شروع کیا اس بعد 23مارچ 2007سے خبریں نشر کرنا شروع کردیا۔مزید یہ کہ پرائیوٹ سیکٹر میں ایف ایم 99 بھی ریڈیو کے ذریعے بچوں کو تعلیم دینے کا پروگرام نشرکرتا ہے جس کا آغاز 2012سے ہوا۔ جہاں پر راقم بھی اپنی پیشہ وارنہ ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہے۔ اور اس وقت سماء ٹیلی ویژن ایف ایم 107پر ہر گھنٹے میں اہم خبروں کی شہ سرخیاں نشر کررہاہے ۔اور ایف ایم 100پرڈوچے ویلے کی جانب سے عالمی خبریں نشر کی جاتی ہیں۔تاہم ایف ایم 93 پرپورے پاکستان میں ریڈیوپاکستان اپنی نشریات پیش کر رہا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ایف ایم 93 کے پورے ملک میں 22سٹیشن ہیں۔پاکستان میں یونیسکو کی کنٹری ڈائریکٹر کی طرف سے لکھے گئے آرٹیکل جو 13فروری کو ڈیلی ڈان میں شائع ہوا تھا کے مطابق پورے پاکستان میں اس وقت 143ایف ایم چینل کام کر رہے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں اسلام آباد ٹریفک پولیس والوں کا بھی ایف ایم ریڈیو سٹیشن 92.4 ہے جس کا کام لوگوں کو ٹریفک کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔کچھ عرصے تک ایف ایم 106پر بی بی سی اردو سروس کا مشہور پروگرام سیربین نشر ہوتا رہا جو بعد میں بند ہوا ۔اس کے بعد ایف ایم 106پرصبح دس بجے سے شام 6بجے تک بی بی سی کی اہم خبریں نشر ہوتی تھیں ۔وہ بھی آج کل سننے کو نہیں مل رہی ہیں۔چائنا ریڈیو انٹرنیشنل اب ایف 98پر نہ صرف عالمی خبریں اور حالات حاضرہ پر تبصرہ نشر کرتا ہے بلکہ چینی زبان سیکھنے کا پروگرام نشر کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں