پاکستان کو ’قیمت چکانا‘ ہو گی

پاکستان کو ’قیمت چکانا‘ ہو گی، بھارتی وزیر دفاع کی دھمکی

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اختتام ہفتہ پر باغیوں کی طرف سے ایک فوجی چھاؤنی پر حملے کے تناظر میں بھارت کی خاتون وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس کی قیمت چکانا ہو گی۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Deutschland Hannover Messe 2015 Industriemesse (DW/Z.Abbany)

ہفتہ 10 فروری کو چار  باغی جموں شہر کے مضافات میں واقع فوجی چھاؤنی کے عقبی راستے سے اندر داخل ہوتے ہوئے رہائشی علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان حملہ آوروں اور فوجیوں کے درمیان 24 گھنٹے سے زائد وقت تک جھڑپ جاری رہی۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر باغیوں کے حملے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ بھارتی فوجی اور ایک عام شہری بھی شامل ہیں۔ (11.02.2018)

بھارتی فوج کے مطابق حملہ آوروں کو چھوٹے سے علاقے تک محدود رکھنے اور رہائشیوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں اتنا زیادہ وقت لگا۔ اتوار 11 فروری کو تاہم اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک سویلین کے علاوہ پانچ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والا سویلین ایک فوجی کا والد بتایا گیا تھا۔

بھارتی وزیر دفاع نِرملا سیتھا رامن نے آج پیر 12 فروری کو اس حملے کے دوران زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر سیتھا رامن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے ہدایات دی جا رہی تھیں۔‘‘ بھارتی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا، ’’پاکستان دہشت کا دائرہ بڑھا رہا ہے۔  فائر بندی کی خلاف ورزیوں کی آڑ میں وہ غیر قانونی طور پر پاکستان سے بھارت میں داخل ہونے والوں کی مدد کر رہا ہے۔ پاکستان کو اپنے ان اقدامات کی قیمت چکانا ہو گی۔‘‘

Indien Kaschmir Soldatہفتہ 10 فروری کو چار  باغی جموں شہر کے مضافات میں واقع فوجی چھاؤنی کے عقبی راستے سے اندر داخل ہوتے ہوئے رہائشی علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

سیتھا رامن نے اس موقع پر اس حملے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی بھی درستی کرتے ہوئے یہ تعداد نو بتائی۔ قبل ازیں بھارتی پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 بتائی تھی جن میں چار حملہ آوروں کی ہلاکت بھی شامل بتائی گئی تھی۔ بھارتی خاتون وزیر دفاع کے مطابق، ’’دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، پہلے معلومات تھیں کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد چار تھی۔ بہت ممکنہ طور پر ان میں سے ایک ان کا گائیڈ تھا اور وہ چھاؤنی کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں