جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن قابل گرفت

اقوام متحدہ کے نامزد ’دہشت گرد‘ اب پاکستان میں بھی قابل گرفت
باقر سجاد سید

اسلام آباد: صدرِ مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کردیا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے قرار دیئے جانے والی کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افراد اب ملک میں بھی قابل گرفت ہوں گے۔

مذکورہ ترمیمی بل پر صدارتی دستخط کے بعد حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) سمیت ال اختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے آرڈیننس کا نوٹیفکیشن گزشتہ روز جاری کیا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اقوام متحدہ اور پاکستان کی تیار کردہ کالعدم تنظیموں کی فہرست میں فرق ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھرو نوریٹ نے 19 جنوری کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ حافظ سعید کا نام اقوام متحدہ کی تیار کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔

ترمیمی آرڈیننس کا فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب 18 فروری کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پہلا اجلاس پیرس میں منعقد ہو رہا ہے جس کی سربراہی امریکا اور بھارت کررہے ہیں۔

دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ پاکستان بھی ایف اے ٹی ایف کا حصہ بن کر بین الااقوامی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق نگراں کا کردار ادا کرے۔

اس سے قبل 2 فروری کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) نے تمام متعلقہ وزارتوں کو اس ضمن میں ضروری قانونی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی ہیں۔

دوسری جانب سول و عسکری کورڈینیشن فورم صوبائی اور وفاقی حکومت کے فیصلے کو ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں جائزہ رہا ہے جس کے تحت پاکستان کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں حافظ سعید اور ان کی دیگر تنظیموں کی مالی امداد بند کرنے سے متعلق تسلی بخش رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی نے گزشتہ مہینے پاکستان دورے میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے بصورت دیگر عالمی تنظیمیں اسلام آباد کے خلاف ٹیکس یا دیگر جرمانے عائد کردیں گی۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف دو طرح کی کیٹیگری ‘گرے’ اور ‘بلیک’ رکھتی ہے، کیٹیگری گرے میں شامل ممالک سے مراد یہ ہے کہ مطلوبہ ملک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معاونت کی روک تھام میں موثر اقدام نہیں اٹھا رہے اگرچہ ایف اے ٹی ایف کے پاس کسی ملک کو اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن ان کی سفارشات کی بنیاد پر بیرون ملک ترسیل ناصرف بہت مہنگی ہو جائے گی بلکہ مقامی سطح پر تجارت پر اضافی مالی بوجھ بھی بڑھ جائے گا جس کا خمیازہ صنعت کار اور شہری برداشت کریں گے۔

خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو فروری 2012 میں گرے کیٹیگری میں شامل کیا تھا جہاں وہ تین سال تک اسی کیٹیگری میں رہا۔

اس ضمن میں واضح رہے کہ جنوری 2018 کو بھارت اور امریکا کے مسلسل دباؤ کے بعد پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید پر عائد پابندیوں کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی 1267 مانیٹرنگ ٹیم برائے حافظ سیعد دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچی تھی۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ کا موقف تھا کہ سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی کی نگراں ٹیم طالبان، القاعدہ اور داعش کے حوالے سے لگائی گئی پابندیوں کا جائزہ لینے پاکستان آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں