جارحیت بس حماقت !کرشن دیو سیٹھی

جارحیت بس حماقت !کرشن دیو سیٹھی

جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کاحل دے گی
ساحر ؔ لدھیانوی
جموں وکشمیر کے عوام اس وقت ہند وپاکستان کے درمیان کئی روز سے زبردست گولہ باری کے باعث زبردست مصائب و مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔ سیز فائز لائن اور بین اُلاقوامی سرحد پر دونوں جگہ دونوں طرف جنگی صورت حال پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کی فوجیں اندھا دھند فائرنگ کررہی ہیں۔ ہلکے فوجی ہتھیاروں کے علاوہ مارٹر گولوں تک کا بھی استعمال کیا جارہاہے۔ اس جنگی جنون میں کئی فوجی نوجوانوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے علاوہ دونوں طرف شہری بھی لقمہ اجل ہوچکے ہیں اور زخمی ہیں۔ شہری آبادیاں بھی گولہ باری کی زدمیںہیں۔جس سے کئی رہائشی مقامات بھی خاکستر ہوچکے ہیں اور مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ سرحدی دیہات کی آبادی اپنے آبائی ٹھکانوں کو چھوڑ کر دوسرے علاقوںمیں پناہ گزین ہوچکی ہے۔ سرحدی عوام خوف وہراس کا شکارہیں۔ اور ان کا کوئی پُرسان حال نہیںہے۔ دونوں طرف کے حکمران انتقام اور بدلے کی نعری بازی سے سرشار اس قتل وغارت پر فخریہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اور مزید انتقامیہ کا روائیوں اور بدلے کی کاروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جس سے عوام انتہائی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ خطرہ اس امر کا ہے کہ سیزفائر لاین کی خلاف ورزیوں کے اس ماحول میں گولہ باری کہیں باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار نہ کرجائے۔
ہندوپاکستان کی حکومتیں 1947کے بعد کئی بار جنگی جنون کا شکار ہوکر جنگ آزمائی کرچکی ہیں اور مسلسل بحیثیت مجموعی ٹکرائو کشیدگی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس عرصہ میںکئی بار بات چیت اور مذاکرات کے لمحات بھی آئے اور دونوں کے درمیان خیر سگالی کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔ لیکن اس کی مدت مختصر رہی اور دونوںممالک کے عوام مصائب ومشکلات کاشکاررہے۔
گزشتہ سات دہائیوں کاتجربہ گواہ ہے کہ جنگ وجدل، ٹکرائو، کشیدگی، تکرار، صف آرائی اور مقابلہ بازی کے ذریعہ دونوںممالک کے حکمران اپنے مقاصد حاصل کرنے میںناکام رہے ہیں اور اپنے مسائل اور تنازعات طے کرنے میںکوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیںکرسکے ہیں۔ بلکہ اس طویل المدت صف آرائی اور معرکہ بازی کے باعث دونوں ممالک کی تباہی وبرباد ی ہوئی ہے۔ دونوںممالک کی معیشت تباہ و برباد ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کی بہتری اور بہبودی کے اقدامات اٹھانے کی بجائے عوامی خزانہ کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف کرتے رہے ہیں۔ جنگ وجدل اور معرکہ آرائی و صف آرائی کے بعد انہیں پھر مذاکرات اور بات چیت کی میز پرا ٓنا پڑاہے۔ اب کی بار بھی موجودہ صورت کا کوئی بھی نتیجہ نکلے۔ آخر کار دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑے گا۔ جنگ وجلد سے کوئی اور نتیجہ برآمد ہونے کی ہرگز کوئی دوسری صورت ہے ہی نہیں۔ اس لئے بجا طورپر دونوں ممالک کے حکمرانوں سے دریافت کیا جاسکتاہے کہ وہ جنگ بازی کے عمل کے بعد بھی بات چیت کے میز پر آنے کی بجائے جنگی ماحول سے پیشتر ہی مذاکرات اور بات چیت کاراستہ کیوں اختیار نہیںکرتے۔1947 کی جنگ کے بعد بھی اُنہیں ا قوام متحدہ کے ذریعہ مذاکرات کی میز پرا ٓناپڑاتھا۔ 1964-65کی جنگ کے بعد بھی اُنہیں تاشقند میں مذاکرات کرنے پڑے تھے۔
1971 میںبھی آخرکار شملہ معاہدہ پر مجبور ہونا پڑاتھا۔ تو پھر اسی جنگ بازانہ راستہ پر چلنے کی کیا ضرورت ہے۔ تباہی اور بربادی سے پیشتر ہی مذاکرات کی میز پر آکر تنازعات اور مسائل کاحل کیوںنہ ڈھونڈا جائے۔ توقع تھی کہ گزشتہ تجربات کی بنیا د پر وہ جنگ وجدل سے گریز کرکے مذاکرات کے ذریعہ مسائل حل کریںگے۔ لیکن اب کے بھی وہ پرانے راستہ پر چلتے ہی نظرآتے ہیں۔ جو کہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ دونوںممالک کے عوامی مفادات کا تقاضیٰ ہے کہ دونوںممالک کے حکمران صف آرائی ، محاذا ٓرائی اور جنگی جنون کا راستہ ترک کرکے فوری طورپر مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور دونوںممالک کے عوام کو جنگی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔ موجودہ جنگی جنون سے پیشتر حکمران لیڈر خود کہتے رہے ہیں کہ دونوںممالک کے سامنے جنگ و جدل کے ذریعہ مسائل حل کرنے کا راستہ کوئی نہیںہے۔ اس لئے مذاکرات کے ذریعہ ہی مسائل اور تنازعات حل کئے جائیںگے۔ لیکن اب پھر کیوںوہ جنگی جنون پیدا کرکے عوام کو تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
بعض سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ دونوںممالک کے حکمران اس وقت اپنی پالیسیوں کے باعث گھریلو مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی ناکامیوں اور مشکلات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگی جنون پیدا کررہے ہیں۔ اُن مبصرین کا کہناہے کہ پاکستان کے نواز شریف جو کہ وزارت اعظمیٰ سے معزولی کے باوجود پاکستان کے حقیقی حکمران ہیں۔ اس وقت پانامہ لیکس میںملوث ہیں۔ جس کے خلاف اپوزیشن پارٹیاں خصوصاً عمران خان کی انصاف پارٹی پوری طرح صف آراء ہے۔ پیپلز پارٹی بھی میدان میں آنکلی ہے اور کئی مذہبی پارٹیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔ اس لئے اس طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے جنگی جنون پیدا کرنے میںدلچسپی رکھتے ہیں اور پاکستان کی فوج شریف نواز کی مشکلات کافائدہ اٹھا کر دوبارہ اقتدارمیںآنے کی خواہاں ہے۔ اس لئے جنگی جنون پیدا کیا جارہاہے۔ اس طرح ان مبصرین کے مطابق ہندوستان کی مودی سرکار برسر اقتدار آنے سے پیشتر عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب 2019کے لوک سبھا کے انتخابات پر اس کی نظر ہے ۔ اس لئے وہ بھی جنگی جنون پیدا کرکے عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹاکر کامیابی کی خواہاں ہے۔ ہم اس سلسلہ میں وثوق سے کچھ نہیںکہہ سکتے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ان مبصرین کی رائے کہاں تک درست ہے۔ لیکن اگرا یسا ہے تو یہ انتہائی بدبختی کی علامت ہے۔
تقاضہ وقت ہے کہ ہندو پاکستان کے حکمران متنازعہ اور اختلافی مسائل جنگ وجلد اور ٹکرائو و کشیدگی کی بجائے باہمی طورپر مذاکرات اور بات چیت کے ذریعہ حل کریں اور ملکی و قومی ترقی و مسائل پر توجہ دیں۔ دونوںممالک کے عوام بھوک، افلاس، بیکاری، مہنگائی، جبر وتشدد، دہشت گردی، غنڈہ گردی، رشوت ، بھرشٹاچار کا شکار ہیں ۔ حکمران اس طرف توجہ دیں اور عوامی مسائل حل کریں۔ ان مسائل کا حل جنگی جنون میں ہر گز مضمرنہیں ۔ بلکہ جنگی جنون مزید مسائل پیدا کردے گا۔ ملک کومزید کنگال کردے گا اور عوام کی حالت مزیدابتر ہوجائے گی۔
دونوں ممالک تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ترقی پذیر ممالک ہیں۔ جو عرصہ تک برطانوی سامراج کے زیر تسلط رہے ہیں اور اس وجہ سے سامراجی لوٹ کھسوٹ کا شکار رہے ہیں۔برطانوی انخلاء کے بعد بھی دونوں ممالک کی معیشت پر سامراجی غلبہ ہے اور سامراجی طاقتیں مقامی گماشتہ سرمایہ داروں سے شراکت کرکے عوام کی دولت کا استحصال کررہی ہیں۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کی معیشت پر نہ صرف امریکی سامراج کا غلبہ ہے اور ورلڈ بنک، انٹرنیشنل کنشوریم ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور دیگر اداروں کے ذریعہ وہ ان ممالک کی لوٹ کھسوٹ کررہاہے۔ امریکی سامراجی بظاہربے شک دونوںممالک سے دوستی اور دونوں کے درمیان صلح جوئی کا دم بھرتاہے۔ لیکن وہ دونوںممالک کے درمیان کشیدگی ، ٹکرائو اور جنگ وجدل کا خواہاں ہے۔
تاکہ دونوںممالک میںمعاشی استحصال کے علاوہ سیاسی غلبہ بھی قائم رکھ سکے اور اپنا مال خصوصاً اسلحہ اور بارود دونوںممالک میں فروخت کرکے منافع در منافع کماسکے۔ تیسری دُنیا کے دیگر ممالک کا تجربہ بھی اس سلسلہ میں گواہ ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ ہماری ہمسائیگی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو آپس میں لڑا کر وہ کس طرح اس خطہ پر عملی طورپر قابض ہے۔
عراق، شام، یمن، لیبیا، اُردن، خلیجی ریاستوںمیں ایک دوسرے کو محاذ آراء اور صف آرائی کر وا کر وہ کس طرح اپنے مفادات حاصل کررہاہے۔ اس سے سبھی آگاہ ہیں ۔ا فغانستان میںاُس نے کیا گُل کھلائے ہیں۔ اسے سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایران کے خلاف اس کی سازشوں کو کوئی بھُلا نہیں سکتا۔ مشرق وسطیٰ میں شعیہ، سُنی اختلافات کو ہوا دے کر اس نے کیا محشر بپا کررکھاہے۔ وہ سب کی دانست میں ہے۔ اس لئے وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میںسے کسی کا بہی خواہ نہیںہوسکتا۔ درحقیقت برصغیر کے ان دونوں ممالک میں جنگی جنون پیدا کرکے وہ اپنی چودہراہٹ قائم رکھنا چاہتاہے ۔ اس لئے دونوںممالک کو امریکی سازشوں سے باخبر رہ کر اس کی درپردہ سازشوں کو ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔
دونوں ممالک کے حکمرانوں کے اس سلسلہ میں کیا عزائم اور ارادے ہیں۔ اس سلسلہ میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے عوام کا مفاداسی امرمیں مضمر ہے کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے حکمرانوں پر دبائو ڈالیں کہ وہ متنازعہ معاملات اور مسائل باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ حل کریں۔ جنگ وجدل، ٹکرائو، کشیدگی، محاذ آرائی، صف آرائی کے خلاف زوردار آواز بلند کریں۔
جموں وکشمیر کے دونوں حصوں کے عوام کا خصوصی فرض ہے کہ وہ دونوں ممالک پر بات چیت اور مذاکرات کے لئے اپنا پورا زور لگائیں۔ کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹکرائو ، کشیدگی اور جنگ وجدل کا خمیازہ اس ریاست کے لوگوں کو بھگتنا پڑاہے۔ اس وقت بھی سرحدوں پرگولہ باری سے اسی خطہ کے لوگوں پر آفت نازل ہے اور اگر خدانخواستہ اگر کوئی نئی جنگ نازل ہوتی ہے تواُس کی تباہ کاریوں کا نتیجہ اسی ریاست کے ستم رسیدہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
اے شریفِ انسانو!
ساحر ؔ لدھیانوی
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلی انسان کاخون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریںکہ سرحد پر
روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فا قوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو یا کہ ہار کاسوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور ا حتیا ج کل دے گی
اِس لئے اسے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سب کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہترہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برتری کے ثبوت کی خاطر
خون بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تو میدان ہیں
صرف میدانِ کشت و خون نہیں
حاصل زندگی خرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنون ہی نہیں
آئو اس تیرہ بخت دنیامیں
فکرکی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے۔ بربریت سے
امن۔ تہذیب و ارتقاء کے لئے
جنگ۔ مرگ آفریں سیاست سے
امن ۔ انسان کی بقاء کے لئے
جنگ افلاس اور غلامی سے
امن۔ بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن۔ بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے
جنگ جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ جنگوں کے قلع کے خلاف
امن۔ پُرامن زندگی کے لئے
krishandevsethi@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں