ٹرائی روم میں کیمرہ ! آمنہ مفتی

ٹرائی روم میں کیمرہ !
آمنہ مفتی
مصنفہ و کالم نگار

اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger اس پوسٹ کو شیئر کریں ای میل شیئر
فیصل آباد میں ایک مشہور برانڈ کے ٹرائی روم میں ایک ڈبے میں چھپایا گیا کیمرہ برآ مد ہوا۔ خبر آئی اور خبروں میں دب گئی۔ مگر میرے ذہن میں یہ خبر کسی کھنکھجورے کی طرح انجے پنجے پھیلا کر پڑگئی۔ یہ کیمرہ جو ایک ڈبے میں چھپایا گیا تھا، ظاہر ہے ایک ہی مقصد کے تحت رکھا گیا تھا کہ جب گاہک اپنے منتخب لباس کو پہن کر دیکھیں تو ان کی برہنہ جھلک کیمرے پہ ریکارڈ کر لی جائے۔

اس ریکارڈنگ کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ کیا اپنی مرضی کے کپڑوں کو پہن کر دیکھنا اور یہ معلوم کرنا کہ یہ لباس ان کی جسامت کے مطابق ہیں یا نہیں کوئی ایسا دل خوش کن منظر ہے، جسے دیکھنے کے لئے اتنی تگ و دو کی جائے؟ یا اس منظر کو عکس بند کر کے بعد ازاں ان گاہکوں کو بلیک میل کیا جائے گا؟

اگر ایسا کوئی خیال تھا تو بڑا عجیب خیال تھا۔ کیا اس ویڈیو سے کوئی بلیک میل ہو سکتا ہے؟ بہت سوچ بچار کے بعد جو جواب ذہن میں آیا اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔ جی ہاں! ہو سکتی ہیں۔ ہماری خواتین۔ ہمارے معاشرے کی خواتین کو اس بات سے بھی بلیک میل کیا جا سکتا ہے کہ وہ کہیں کھڑی کپڑے بدل کر دیکھ رہی تھیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر کبھی ایسا ہوا ہو گا یا آ ئندہ ہوا تو اس میں قصور وار وہ خواتین ہی ہوں گی جو کپڑے خریدتے ہوئے پہلے انہیں پہن کے دیکھنا چاہتی ہوں کہ آیا یہ لباس ان پہ اچھا بھی لگتا ہے یا نہیں۔

جواز بے شمار ہیں۔ ضرورت ہی کیا ہے کپڑے خریدنے کی؟ اور چلیے اگر خریدنے ایسے ضروری بھی ہیں تو بس اٹکل سے لے لیں۔ اس قدر مین میخ نکالنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر کہیں ناپ سے بڑے چھوٹے بھی نکل آ ئے تو خیر ہے اور اگر پہن کربرے لگے تو بی بی لباس تن ڈھانپنے کو لیا جاتا ہے نہ کہ اس لیے کہ اچھا لگے؟

سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ عورتوں کو خود ہی سوچنا چاہیے کہ جب ایک خاص کمرا اسی مقصد کے لیے بنا یا گیا ہے کہ وہاں خواتین کپڑے بدل کر دیکھیں تو کیا مرد وہاں جھانکنے یا کسی اور طرح دیکھنے کا اہتمام نہیں کریں گے؟ کریں گے اور بالکل کریں گے۔ کیسے ممکن ہے کہ نہ کریں۔ انہیں خود ہی احتیاط کرنی چاہیے۔

مغربی طرز کے لباس فروخت کرنے والی اس برانڈ پہ آنے والی خواتین اور لڑکیاں کسی اور سیارے سے تو آ تی نہیں۔ آ پ کے میرے جیسے گھروں سے ہی آ تی ہیں۔ وہی گھر، جہاں چاہے کوئی زبان بولی جاتی ہو، کوئی ثقافت برتی جاتی ہو ، مگر ایک قدر مشترک ہے ‘ عورت کے خلاف ہونے والے ہر جرم کی ذمہ دار عورت ہے’۔ یہ ان سب گھروں کی مشترکہ سوچ ہے۔

ٹرائی روم میں کیمرہ چھپانے کا دوسرا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ویڈیوز یا تو بعد ازاں خود ہی دیکھ کر حظ اٹھائی جائے، یا بہت ممکن ہے بیمار ذہن کے لوگ اس قسم کی ویڈیوز کے باقاعدہ گاہک ہوں، جو ایسی خواتین کی برہنہ جھلک دیکھنا چاہتے ہوں جنہیں وہ جانتے تک نہیں لیکن وہ ان ہی کے شہر، ملک اور معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ تمام مقاصد، جو ابھی صرف ‘مبینہ’ ہی ہیں، اتنے گھٹیا اور تیسرے درجے کے ہیں ان پہ بات کرنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا۔ گاہک جب ایک دکان پہ جاتا ہے تو اس کا وہاں موجود سب لوگوں پہ ایک اعتماد ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دکان کے مالکان کیا اس اعتماد کا احترام کرتے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو اس کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ کپڑوں کی دکانوں کے مالک ملازم رکھتے ہوئے کیا معیار معین کرتے ہیں؟ کیا ان لوگوں کا پچھلا ریکارڈ دیکھا جاتا ہے؟ کیا برانڈز اپنی دکان اور برانڈ کا نام بیچ کر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتی ہے؟ کیا ان دکانوں کا معائینہ کیا جاتا ہے اور کیا اس معائنے میں ٹرائی روم کو کسی بھی قسم کی تا کا جھانکی اور ریکارڈنگ سے محفوظ رکھنا بھی شامل ہوتا ہے؟

کیا دکانداروں کی ایسو سی ایشن اس بات کا اہتمام کرتی ہیں کہ اس قسم کے واقعات پیش نہ آئیں؟ بظاہر یہ ایک ایسی بات تھی جسے زیادہ توجہ کے قابل نہ سمجھا گیا ، لیکن یہ جرم عورتوں کے خلاف کیے جانے والے بڑے جرائم سے کسی طرح کم نہیں۔ در حقیقت ، ٹرائی روم میں کیمرہ رکھنے اور اس سے بننے والی ویڈیو سے کسی قسم کا جنسی حظ تو حاصل کیا نہیں جا سکتا۔ ہاں ایک غلیظ سوچ کی تشفی ضرور ہو سکتی ہے کہ تم کہیں بھی کسی صورت محفوظ نہیں ۔ گاہک بن کر بھی آؤ گی تو ہم ہی جو تمہاری خدمت پہ مامور کیے گیے ہیں تمہیں ہراساں کریں گے۔

فیصل آباد کے اس ٹرائی روم میں کیمرہ نہیں ہمارے معاشرے کی وہ غلیظ آ نکھ لگی ہوئی تھی جسے پھوڑے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جب تک یہ معا شرہ دونوں آنکھوں سے دیکھتا رہے گا ایک آنکھ کسی نہ کسی ٹرائی روم، کسی زنان خانے، کسی کمرے ، کسی کھڑکی کی جالی سے چپکی رہے گی۔ دعا ہے جلد ہی ہم ’جان کانڑیاں’ بنیں اور عورتوں کو ہر وقت گھورنے والی اس آ نکھ سے نجات ملے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں