انتظار کیجئے

متراں کی نواسی بھی بول پڑی

رانس : سابق صدر متراں کی نواسی کا وزیر ماحولیات پر جنسی زیادتی کا الزامf
پیرس – ایجنسیاں

فرانس کے سابق صدر فرانسوا متراں کی نواسی نے جمعے کی شام اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وزیر ماحولیات نکولا ہیلو کے خلاف دو دہائیوں پرانے جنسی زیادتی کے دعوے کے پیچھے موجود شخصیت وہ خود ہیں۔

فرانس کے اخبار Parisien کی جانب سے پیسکال متراں کے نام کے انکشاف کے بعد سابق صدر کی پوتی نے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ انہوں نے 2008 میں نکولا ہیلو کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ نکولا ماحولیات کے دفاع کے حوالے سے ایک مشہور کارکن اور ٹی وی اداکار بھی ہیں۔

پیسکال کی جانب سے مذکورہ درخواست مبینہ جرم کے ارتکاب کے دس سال سے زیادہ عرصے (STATUTE OF LIMITATIONS) کے بعد دائر کی گئی تھی۔ اس لیے نکولا کے خلاف تحقیقات کا دروازہ نہیں کھلا۔ تاہم رواں ہفتے پیسکال فرانسیسی وزیر کے تعاقب میں پھر سے لوٹ کر آئی ہیں۔

فرانسیسی ہفت روزہ جریدے “ایبڈو” نے نکولا کی جانب سے 1997 میں اپنے ایک گھر میں مبینہ جنسی حملے کے بارے میں ایک طویل رپورٹ شائع کی ہے۔ تاہم فرانسیسی وزیر نے جمعرات کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کی تردید کر دی۔ جریدے نے پیسکال کا نام شائع نہیں کیا تاہم یہ بتایا کہ متاثرہ خاتون کا تعلق فرانس کے ایک نمایاں خاندان سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ زیادتی کے وقت نکولا کی عمر 42 برس اور متاثرہ لڑکی (پیسکال) کی عمر 20 برس تھی۔

فرانس میں اس امر پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے کہ ایبڈو جریدے نے گزشتہ ماہ اپنی اشاعت میں ایک ایسے پرانے معاملے کا انکشاف کیا ہے جس کی پولیس نے تحقیق نہیں کی۔ تاہم جریدے کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین کو مغلوب کیا گیا ہے لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ جنسی ہراسیت کے مرتکب افراد کو حاصل “مامونیت” کی ثقافت ختم کی جائے۔

ایبڈو جریدے کو اپنے انٹرویو میں پیسکال متراں نے بتایا کہ انہوں نے کئی برس سوچ بچار کے بعد پولیس کو رپورٹ کی ہے۔ پیسکال کے مطابق ان کا مقصد ہیلو کے خلاف عدالتی کارروائی ہیں بلکہ فرانسیسی وزیر کو احساس دلانا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں کہ انہوں نے کیا فعل کیا تھا۔

دوسری جانب فرانسیسی حکومت نے وزیر ماحولیات کی حمایت کی ہے۔ صدر عمانوئل ماکروں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی وجہ موجود نہیں کہ فرانسیسی وزیر مستعفی ہوں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جنوری کے اواخر میں استغاثہ نے ماکروں حکومت کے وزیر بجٹ جیرالڈ ڈرمینن کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقات کا دوبارہ سے آغاز کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں