موت سے نہیں ڈرتے فرعون ڈرا تھا مگر بے سود،محراب شاہ کاظمی

موت سے نہیں ڈرتے فرعون ڈرا تھا مگر بے سود
تحریر:۔سید محراب شاہ کاظمی
پرانے زمانے میں لوگ کہا کرتے تھ
ے موچی دروازہ کے ساتھ باغ میں کہ آخری زمانہ میں چودہ قسم کے عذاب آئیں گے اور نیک خاکمران نہ مل سکیں گے قحط جیسی صورتحال ہو گی سڑکا پر رش ہو گا اعلیٰ قسم کی عمارات ہونگی،آج کل کچھ ایسا ہی چل رہا ہے میڈیا پر بے پردہ لوگ بے پر دہ گفتگو بے پردہ الزامات نا حق قتل 115ارب کا منصوبہ تیس ارب میں مکمل۔بے ہوش انسان اعلیٰ گاڑی،سپر موٹرسائیکل انسان کی موت” بے وقت گھر کے بیمار کی دوائی ہاتھ میں لاش سڑک پر خدا خیر کرے” میں جب سے آزاد علاقہ میں لوگوں کے بترن دھو رہا ہوں پہلی دفعہ خبر دیکھی اور خوشی ہوئی کہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد علاقہ کو سبسڈی دی جائے۔
میں نے غور کیا معذرت کے ساتھ اردو ہندی کے تنازعات نے پاکستان بنایا اللہ کی مرضی پاک وطن ملا پھر 1971کے تنازعات اردو بنگالی نے بازا کاٹ دیا۔
پہلے کامیاب ہوتے تھے اب کامیاب کئے جاتے ہیں انصاف بولتا نہیں لیکن انصاف کرنے والا طاقتور ہے،ہمیں غلط فہمی لیکن
لہذا میری قسم تمیں در در کی ٹھوکریں کھانا ہی کھانا ہے موت بر حق ہے بے شک انصاف بھی
خود بہ چھوڑ گئے تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے
میں بھی غالب کی طرح کوچہ وجانان سے مُحسن
نہ نکلتے تو کسی دن نکالے جاتے
جہاںماہی زمین بتائے کہ کہاں کس جگہ انصاف ہاو۔اگر آسمان بتائے کہاں انصاف نہیں ہوا یہی جمہو کی آواز ہو گی ورنہ تہذیب نے نہ گاڑی چھوڑی نا موٹرسائیکل،نہ خونی رشتے یہ مسلمانوں کی تہذیب نہ تھی۔خُدا خبر کرے۔یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔عہد بھی مناتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ روزہ اور اللہ تعالیٰ ذاتی مسلہ ہے کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے اسلام آباد آباد ہو جائے ہمیں مذمت آن ایئر کرنے میں دیر نہیں لگتی دیر لگتی ہے تو لگتی رہے غریب،مسکین،خاندان تو اللہ تعالیٰ نے بتانئے ہم تو اپنی محنت سے آے۔مجھے یاد آتا ہے کہ ایک دفعہ رانا پھول محمد صاحب ہوٹلی آئے میں اُن سے دلاسہ لیتا اور کبھی کبھی یہ بھی کہہ دیتا کہ آپ اگر ان پڑھ ہیں تو اتنے لوگوں کا کیا ہو گا انہوں نے فرمایا کہ مُجھے ہر دبیہ کے اس انسان کا بھی علم ہے جو خاندان (کمی) کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے یا سکول میں داخلے کی وجہ سے میں ہر جگہ انشاء اللہ ہوتا ہوں۔میں نے یہ بات آغاشورش مرحوم سے کی وہ کہنے لگے نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ مدد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جس پر چائیں کرم فرما دیں آج کل تو ہم خود خدا بن بیٹھے،میں شوکت شاہ صاحب کے پاس حاضر ہوا۔دو دفعہ اپن حلقہ کے محترم جناب راجہ صاحب کے پاس حاضر ہوا کیا اس حکومت میں 1/1/2 سال میں سب لوگ ایم اے پاس ہی بھرتی ہوئے کیا میں اگر تگڑی برادری سے ہوتا تو یہ گزارشات نہ کرتا۔تقریباً تین سال پہلے میرا ایک لڑکا تعلیم میں کسی بزرگ کی سفارش سے بھرتی ہوا کئی ماہ پہلے وزارت کے دفتر سے اس کا تبادلہ ہوا اُس کی ہسٹری پڑھیں تو محبوبہ مفتی صاحبہ کا اسمبلی خطاب جلسہ ہو گھا۔”شریعت” بھی، ”معرفت” بھی لیکن حقیقت تو چلہ کرنے سے ہی شائد مل جائے میں نے 1966سے پرائیویٹ نوکری شروع کی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے لیکن عزت،ذلت پاک پروردگار کے ہاتھ میں ہے میں نہیں کہتا کہ لوگ مجھے جانتے ہیں بلکہ میں لوگوں کو جانتا ہوں نام نہ سہی گاڑی نمبر تو سڑکات پر ہی ہوتا ہے آج یوم یکجہتی کوہالہ پل پر زنجیر سکول کے بچوں کا کردار نہایت پر جوش مگر فوٹو سیشن وڈیو کے ساتھ کیسی آوازیں اعلانات دنیا کو پہنچائیں کہ ”فریاد” دنیا سن سکے۔1947سے ہماری لاشیں۔چیخ وپکار جو زندہ رہیں فرشتوں تک پہنچاتے رہیں میں نے گیارہ سال لاہور میں گزارے جن کی حکومت ہے ان کے بارے میں سب سے کمزور انسان کے منہ سے بھی دعائیں نکلتی تھیں یہاں بھی تو اُن ہی کی حکومت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں