کشمیر: اب یاکبھی نہیں؟حافظ انور سماوی

11 فروری : یومِ مقبول بٹ!
کشمیر: اب یاکبھی نہیں؟
حافظ انور سماوی
وائس چیئرمین جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ

جموں کشمیر کا مستقبل امید کے کچے دھاگے سے لٹک رہا ہے اور نیچے جوہری جہنم ہے۔ قافلہ حوادث کے خونخوار جنگل میں ہے اوربقاء کا تقاضا ہے کہ سب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔ قومی نائو اجتماعی موت کے بھنور میں پھنس چکی ہے اور قومی بقا ء کا تقاضا ہے کہ سب کے سب چپو سنبھالیں سیدھی سمت کی جانب، الٹی اور مخالف سمتوں کی جانب نہیں، سیدھی سمت، بقاء کی سمت اور فتح کی سمت کس طرف ہے؟ جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل کرنا۔ کیسے؟ سب یکجان ہو کر، ہم زبان ہو کر ہاتھ میں ہاتھ تھام کر ایک ایجنڈا، ایک جھنڈا (کشمیر کا جھنڈا) ایک چہرہ اور سب کا ایک ہی نعرہ ”خونی لکیر توڑ دو جموں کشمیر چھوڑ دو” ایسا کر کے دیکھو! کشمیر سالوں میں نہیں مہینوں میں آزاد ہو جائے گا لیکن ٹھہرو! آزادی ہماری اور آئندہ نسلوں کی آزادی تو اجتماعی بقاء کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے، اس جُملے پر غور کریں، دِلوں پر کرید لیں اور ذہنوں کی سکرین پر لکھ دیں کہ یہ بقاء کا تقاضا ہے، تحریک ِ آزادی کا سفر اس دو راہے پر پہنچ چُکا ہے جس کے ایک طرف منزلِ آزادی ہے، قومی نجات ہے اور دوسری طرف اجتماعی موت بال کھولے سوئی پڑی ہے، صرف اہلِ جموں کشمیر کی نہیں، پورے جنوبی ایشیا کے دو ارب باشندوں کی اجتماعی موت۔ ہاں کبھی سوچا نہیں مظفرآباد، سرینگر والوں نے، دہلی اور اسلام آباد والوں نے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تاریخِ عالم میں پہلی بار کنبہ آدم اور اقوام و ملل کے مسائل کے لیے عالمی جرگہ ”اقوامِ متحدہ کے نام سے معرضِ وجود میں آیا اور کشمیر اور فلسطین کے مسئلے نہیں قضیئے اس کے قیام کے روز اول سے ہی اس کی میز پر پہنچے جو ستر سال گذرنے کے باوجود ہنوز حل طلب ہیں؟ کیوں؟ راقم گذشتہ بیس برس سے تکرار کے ساتھ ہزار بار یہ لکھ چُکا ہے اور متعلقہ علاقائی و عالمی دیدہ وروں اور چارہ گروں کو خبردار کر چُکا ہے کہ ”مسئلہ کشمیر” اور ”مسئلہ فلسطین” ”دو عالمی بھید” ہیں جن سے پورے کنبٔہ آدم کی اجتماعی موت جُڑی ہوئی ہے۔ کوئی کہیں بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا کہ ہنوز میری یہ صدا، صدابصحرا ہے اور کہیں بھی کوئی جاگنے کا نام نہیں لیتا گویا اجتماعی عصری دانش گھوڑے بیچ کر سوئی پڑی ہے اور اگر ہندو پاک کی اجتماعی عصری دانش پر قضیٔہ کشمیر کے بھید کی مہلک شکل کا ذرا سا بی ادراک ہو جائے تو بخدا یہ دِن کے بارہ بجے نہیں رات کے بارہ بجے ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی حدود (84471مربع میل) سے خاموشی سے نکل جائیں، مجھے بھی خبر نہیں کہ میں بار بار پوری دِلسوزی اور جگر سوزی سے قدرت کے اس ”بھید” کو کیوں کھول رہا ہوں؟ کشمیریوں کی آزادی سے زیادہ بخدا مجھے جنوبی ایشیا کے دو ارب باشندوں کی اجتماعی بقا ء کی زیادہ فکر ہے جو مسئلہ کشمیر کے حکیمانہ و آبرومندانہ حل کے ساتھ مشروط ہے۔
اب آتے ہیں اس قضیئے بلکہ ”مہلک بھید” کے جنم دِن کی طرف۔ 1947ء میں برطانوی سامراج نے برِصغیر سے اپنا تسلط اٹھا کر اِسے دو ملکوں ہند و پاک میں تو تقسیم کردیا لیکن ساتھ ہی اپنی سرشت اور فطرت میں ازل سے موجود فتنہ گری اور فتنہ پروری کو بروئے کار لا کر دونوں ملکوں کی اجتماعی موت کا بندوبست ”قضیئہ کشمیر” کی شکل میں چھوڑ گئے۔ پہلے قضیئہ کا پیدا کرنے کی تدابیر ہوئیں ، ہٹلر، سٹالن، ہلاکو اور چنگیز خان سے بڑے انسانیت کے دشمن لارڈ مائونٹ بیٹن (جس کی مہیب فلم آئندہ چلنے والی ہے اور ستر سالہ خونریزی تو محض ٹریلرہے) نے کشمیری مہاراجہ ہری سنگھ کو پھانسنے کے لیے کتنے چکر لگائے، کیا کیا پاپڑ بیلے لیکن جب مہاراجہ قابو میں نہ آیا تو علاقہ غیر میں یا سوات میں قائم اپنے فوجی اڈے پر آکر اِدھر کیا بدمعاشی کی جس کے نتیجے میں قبائل کشمیر پر حملہ آور ہوئے؟ یہ حقائق آج دبے نہیں بلکہ راجہ بازار میں چیخ رہے ہیں لیکن ہماری کم بختی کہ ہم سُنی کو ان سُنی کر دیتے ہیں، کیوں؟ ہماری بے حسی بلکہ بے بصیری اسی مہلک مذکورہ بھید سے جُڑی ہوئی ہے۔ سو ریاست جموں کشمیر آپ کے سامنے اور دنیا کے سامنے تقسیم ہو گیا۔ عالمی سطح پر کیا بدمعاشی ہوئی! 13اگست 1948ء کی قرارداد اقوامِ متحدہ کی میز پر مسئلہ کشمیر کے نام سے تھی (Discussion on Situation in Kashmir) یعنی کشمیر کی صورتِ حال پر بحث، لیکن چھ ماہ کے اندر اندر سازش تیار ہو گئی۔ ہندو پاک کے درمیان مہلک رسہ کشی کی بنیاد ڈالنے کے لیے عالمی و علاقائی فتنہ گر اور چالباز حرکت میں آئے۔ اِدھر ان کا چیف ایجنٹ سر ظفراللہ خان قادیانی تھا پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ۔ اس نے اقوامِ متحدہ کے صدر کے نام خط لکھ کر قرارداد کا نام اور عالمی مفہوم تبدیل کرنے کی درخواست دے دی، بھارت نے مخالفت نہیں کی کہ یہ بھارت کے حق میں تھی۔ جنوری 1949ء کے مہینے میں اقوامِ متحدہ نے ایک کمیشن UNCIP بنایا اور سفارشات اقوامِ متحدہ کو بھیج دیں کہ قرارداد کا نام کشمیر سے بدل کر بھارت پاکستان کا مسئلہ (India Pakistan Question) بنادیا جائے۔ یہ کمیشن کی سفارشات تھیں، قرارداد نہیں، جسے ہم بے خبری میں ہر سال 5جنوری کو 1949ء کی قرارداد کے طور پر مناتے ہیں پتہ نہیں سترسالوں میں پاکستان کے سفیر اور ہمارے سفارتکار کیا کرتے رہے، 13اگست کی قرارداد میں ریاستی عوام کی آزادی کا آپشن موجود تھا جب کہ کمیشن کی سفارشات کے ذریعے آزادی کا آپشن حذف کر کے مسئلہ کشمیر الحاقِ بھارت یا الحاقِ پاکستان کے ساتھ مشروط کر دیا گیا، یعنی دو طرفہ مسئلہ بنا دیا گیا اور کشمیریوں یعنی اصل وارثوں کو نکال کر بھارت اور پاکسان میں رسہ کشی، خوں آشامی اور پیہم جنگ و جدل کی بنیاد ڈال دی گئی، سرینگر دہلی سے جُڑ گیا اور مظفرآباد اسلام آباد سے۔ مظفرآباد جنگ و جدل پر پاکستان کو اکساتا رہے، شہ دیتا ہے، شاباش دیتا اور تالیاں بجاتا ہے، جبکہ یہی روش یہی رسم اور یہی ریت سرینگر میں چل رہی ہے، ستر سال بیت گئے، کشمیر مستقل قتل گاہ اور قصاب خانہ بن چُکا ہے اور جموں کشمیر کی حیثیت میدانِ جنگ یا دو سانڈوں کا تختئہ مشق ہے جو اب خیر سے اپنے کاندھوں پر جوہری بارخانے لادے ہوئے ہیں، اگر چہ جوہری جنگ کے بایٔ النظر میں امکانات نہیں لیکن ”مسئلہ کشمیر” حل نہ ہونے کی صورت میں کشمیر عالمی فتنہ گروں کی دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا جنہوں نے ”اسلام” کو دنیا کے سامنے دہشت گردی کی علامت بنا کر پیش کیا ہے اور درحقیقت ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، مسلمان کی داڑھی دنیا بھر میں مسلمان کی پہچان ہے اور وہ داڑھیاں بڑھا کر دنیا کو ڈرا رہے ہیں کہ یہ اسلام ہے، مسلم دنیا کی آنکھیں تو کھلی ہیں لیکن غیر مسلم دنیا داڑھیوں والوں کو سہشت گردی کے روپ میں دیکھ کر سو فیصد مان لیتی ہے کہ یہ مسلمان ہی ہیں، بقول افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کہ امریکہ افغانستان کے طالبان کو ہیلی کاپٹرز مہیا کر رہا ہے اور ساری لاجسٹک سپورٹ بھی۔ کیا وہ لوگ مسلمان ہیں؟ اِدھر روسی خفیہ ایجنسی نے بین الاقوامی ریڈ کراس کے دو ٹرک پکڑے ہیں جن سے پاکستانی کرنسی کی مالیت میں ایک کھرب روپے کے ڈالرز تھے جو عراق اور شام میں داعش کو پہنچانے تھے۔ عرض کرنے کا مقصد ہے کہ” مسئلہ کشمیر” زندہ رہا تو یہ عالمی دہشت گردوں کا نہیں بلکہ ان کے پیچھے کار فرما ”نادیدہ فتنہ گروں” کی ”گریٹ گیم پلان” کا میدان بن جائے گا جن کا ہاتھ یقینا کائنات کی شہہ گ تک جا پہنچا ہے اور اب کائنات کا مستقبل محض امید کے کچے دھاگے سے لٹک رہا ہے، مذکورہ دہشت گردی کا کیمپ اگر خدانخواستہ ہمالیہ کی یہ اونچی سربریدہ اور منقسم ریاست جموں کشمیر بن گئی تو پھر عالمی پلان کی وہ بھیانک اور ہالناک فلم (Dread full) اپنی آخری قسط کیا پوری کرے گی کہ سارے عالم مشرق کا باجا بجا کر رکھ دے گی، حیات و نباتات کو بھسم کر دے گی۔ پسِ پردہ مقصد چائنہ کو سبق سکھانا مقصود ہو گا اور ہندو پاک کو بھی، پاکستان پر بھارت اور چین سے الزام آئے گا کہ ساری دہشت گردی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، بھارت کی انتہا پسند اور خونخوار قوتیں بھارت کے تیس کروڑ مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گی اور عین اِسی طرح چین کے کروڑوں معصوم مسلمان اِسی بھیانک منظر نامے کا شکار ہوں گے یوں پہلا مقصد سی ّ-پیک کی دھجیاں اڑانا ہو گا اور عین اِسی ہولناک منظرنامے سے جوہری جنگ جنم لے گی، کسی کے بس میں کچھ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی تدبیر کار گر ثابت ہوگی۔
مقبول بٹ شدہید کے یومِ شہادت پر میں ہمالہ کی خون اگلتی ریاست کو عالمِ مشرق کے چار ارب باشندوں کی اجتماعی ہلاکت کے ”مورچے” یا ”اجتماعی موت کے کیمپ” کے طور پر دیکھ رہا ہوں، فوری اور اشد ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمگیر پیمانے پر اجتماعی موت تقسیم کرنے والے ”جموں کشمیر” کے اس مہلک کیمپ میں امن بحال کرنے کی حکیمانہ لیکن دیوانہ وار کوششیں کی جائیں اور اسے عالمی دہشت گردی کا ”سیف ہیون” بننے سے بچایا جائے ورنہ دہلی اور بیجنگ کا یکساں الزام اگر خدانخواستہ پاکستان پر آگیا جو عالمی فتنہ گروں کی منصوبہ بندی ہے تو پھر کیا منظر نامہ ہوگا؟ مسئلہ کشمیر کا ”بھید” اگرچہ طشت ازبام ہو چکا ہو گا لیکن اُسے انسانیت کی بہی خواہ اجتماعی عصری دانش بھی سنبھال نہیں سکے گی۔
اب بھی اصلاح احوال کی مہلت باقی ہے اگر ہندو پاک دانائوں بینائوں، حکمت کاروں اور چارہ گروں کی آنکھ کھُل جائے تو مذکورہ مہیب خطرات کو ٹالا اور سنبھالا جا سکتا ہے اور اس کا واحد آپشن یہ ہے کہ کشمیر کا ستر سالہ جنگ و جدل اور خوں آشامی والا ”سٹیٹس کو” جس نے ستر سالوں میں غرقابی، تباہی اور بربادی کی ایک خونخوار تاریخ چھوڑی ہے اور اس کے بڑے ذمہ دار سرینگر اور مظفر آباد ہیں اور چھوٹے ذمہ دار ہندو پاک اور عالمی برادری ہے۔ بے لاگ مؤرخ سے پوچھ لیں۔
ہاں! JKLF کی قیادتیں، کارکنان اور آزادی پسند کہاں کھڑے ہیں؟ کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں اور ناکامی کا باپ بننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا اگر خدانخواستہ مسئلہ کشمیر اب حل نہ ہوا تو آئندہ؟ آئندہ حالات کے منظرنامے کی راقم نے محض اجمالی جھلک دکھائی ہے، پوری جھلک دیکھنے کی تاب کس میں ہے؟ تو اس وقت جناب یہی ایک جملہ زبانِ زدِ عوام ہو گا کہ ایک JKLF ذمہ دار ہے کہ جموں کشمیر کی تحریکِ آزادی کے جملہ محاذوں کا بانی، مؤجد اور معمار ایک JKLFہے، ہمیں کوئی خبر نہیں، ہم پر تو یہ حالات مسلط ہو گئے تھے اور ہم طوعاً و کرھاً (Willingly or Unwillingly) اس صورتحال یعنی تحریکِ آزادی میں کود پڑے تھے۔ لیکن اس وقت کی سچی گواہی کسی کام نہیں آئے گی، کاش ہمالیہ کی اس بدنصیب ریاست کے سوا دو کروڑ باشندے آج یہ گواہی دے کر JKLF کی پشت پر کھڑے ہو جائیں کہ واقعی ریاست جموں کشمیر کے عوام کے لیے آزادی کے سورج کو جو رواستبداد کی تاریخ شب سے گھسیٹ کر آگے لانے کی طرح تمام محاذوں پر JKLF نے ڈالی ہے تو ایک ماہ کے اندر جموں کشمیر آزاد ہو جائے کہ تربیت یافتہ معمارہی عمارت کو تکمیل کے مراحل سے ہمکنار کرتاہے، تربیت یافتہ ڈرائیور ہی گاڑی کو منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے، تربیت یافتہ ڈاکٹر ہی موذی امراض سے لڑتا ہے اور تربیت یافتہ پائیلٹ ہی جہاز کو اڑاتا ہے، JKLF کی قیادتیں اور کارکنان تمام محاذوں اور شعبوں کے تربیت یافتہ ہیں بس اہلِ جموں کشمیر کے نصیب اگر بھلے ہوں تو آر پار سارے ریاستی عوام ایک پیج پر ایک پلیٹ فارم پر یعنی JKLF کے پلیٹ فارم پر متحد و منظم ہو جائیں اور سب کے سب JKLFکو اپنا پلیٹ فارم، تحریک کا پلیٹ فارم اور آئندہ نسلوں کی آزادی کا پلیٹ فارم اور ہند و پاک سمیت پورے خطے میں ریاست کو مستقبل کا امن پارک (Peace Park) بنانے کا پلیٹ فارم تصور کریں اور ہند و پاک بھی آئندہ نسلوں کی بقاء اور خطے کے دائمی امن کا ادراک کر لیں تو بخدا کشمیر کو عالمِ مشرِق کا جنیوا بننے میں دیر نہیں لگے گی، حکیم الامت نے ایران کو عالمِ مشرق کا جنیوا بننے کاخواب دیکھا تھا اور میں بفضلہ ہمالیہ کی اس منقسم ریاست کو عالمی مشرق کا جنیوا بننے کا خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایک مکمل آزاد مملکت کی شکل میں انشاء اللہ۔
وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی شہ رگ ہے، دست گیری فرمائے ورنہ عالمی فتنہ گروں کا ہاتھ کائنات کی شہہ رگ تک جا پہنچا ہے، شائد کہ اتر جائے تیرے دِل میں میری بات!

اپنا تبصرہ بھیجیں