کل کا بے روزگار آج کا سرمایہ کار، وقار احمد سلہریا

کل کا بے روزگار آج کا سرمایہ کار
تحریر:۔ وقار احمد سلہریا ۔ موبائل 0343-2084967

بے روزگاری کیسے ختم ہو گی؟ موجودہ حکومت نے بے روزگاری ختم کرنے کے لئے کیا پالیسی بنائی ہے؟
ٹیکنیکل تعلیم کی اہمیت

موجودہ دور میں بے روزگاری نے غریب لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ ہر ایک سے دوسرے گھر میں5تا8افراد بے روزگار ہیں۔ امیر امیر سے امیر تر ہو تاجارہا ہے اور غریب غریب ہی ہوتاجا رہا ہے۔ اس بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ ان لوگوں کا ٹیکنیکل تعلیم سے دور رہنا ہے۔ ان بے روزگار لوگوں میں سے اگر کوئی کام کرے بھی تو زیادہ سے زیادہ دن میں ایک مزدور جتنی مزدوری کر کے600/800کمائے گا لیکن آج کل جتنے بھی بے روزگار لوگ ہیں ان میں زیادہ تعداد پڑھے لکھے افراد کی ہے جو مزدوری بھی نہیں کر سکتے اور سوچتے ہی سوچتے ذہنی مریض بن جاتے ہیں یا کسی نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ ہاں اس کا ایک حال ہے اگر یہی بے روزگار افراد کسی سرکاری ٹیکنیکل ادارے میں جہاں مفت ٹیکنیکل تعلیم دی جاتی ہو جن میں پلمبر، الیکٹریکل، ویلڈنگ، میسن، سیفٹی آفیسر، موٹر وائیڈنگ، ڈرافٹمین اور سلائی کڑھائی اور دیگر ٹریڈشامل ہوں تو یہ بے روزگار افراد ان ادارہ میں اپنا داخلہ کروائیں اور محنت سے کام سکھیں تو یہ افراد کام سیکھنے کے بعد دن میں با آسانی 1000تا1500کما سکتے ہیں اس طرح ایک بے روزگار کی بے روزگاری بھی ختم ہو گی اور ریاست کو اچھے ٹیکنیکل ہنر مند افراد بھی میسر ہونگے اور یہی ٹیکنیکل کام سیکھنے کے بعد بیرون ملک بھی آسانی سے جا سکتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی کر کے اپنے اہل و عیال کو بہتر سہولیات میسر کر سکتے ہیں اور اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹیکنیکل تعلیم خواتین اور مردوں دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے وہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس ملک کے رہنے والے اپنے ہاتھ سے کام نہ کریں۔ ایسی ہی ترقی کی مثال چائنہ اور ترکی ہیں ان ملکوں نے ٹیکینکل تعلیم کو فروغ دیا اور آج ترقی کی ایک مثال بن چکے ہیں۔ میرے دوستوں اگر بے روزگاری کو شکست دینی ہے تو ٹیکینکل تعلیم کو عام کرنا ہوگا ۔ عزیز دوستو سوال یہ ہے کہ یہ ٹیکنیکل ادارے کہاں ہیں؟ کون بنائے گا یہ ادارے؟ جہاں ایک غریب کو مفت ٹیکنیکل تعلیم میسر ہو گی؟ حکومت وقت کو چاہیے کہ عوام کو یہ سہولیات میسر کرئے اور آزاد کشمیر میں یونین کونسلز وائز ٹیکنیکل سنٹرز بنائے جن میں مختلف ٹیکنیکل ٹریڈرز میں لوگوں کو ٹیکینکل تعلیم سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں ان ٹیکنیکل اداروں سے کام سیکھنے کے بعد ان طلبہ و طالبات کو جو سرٹیفکیٹ فراہم کئے جائیں گے وہ ان کو بروئے کار لا کر کوئی سرکاری نوکری کرئے گا کوئی مختلف کنسٹریشن کمپنیوں میں بطور ٹیکنیشن کام کرئے گا اور کوئی بیرون ملک جا کر کام کرئے گا۔ اس طرح ہمارے ملک سے بے روزگاری ختم ہو گی اور جس طرح چائنہ اور ترکی وغیرہ ہمارے ملک میں آ کر کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی دوسر ے ملکوں میں جا کر بہتر سے بہتر کام کر سکیں گے اور اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں