بلوچستان نئی کابینہ میں14وزرا،5مشیر شامل

کوئٹہ…نو منتخب وزیر اعلی بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان سے عہدے کا حلف لیا۔نومنتخب وزیر اعلیٰ کیساتھ ہی بلوچستان کی نئی کابینہ میں14وزرا،5مشیر شامل ، ممکنہ نام بھی سامنے آگئے ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لئے ہفتے کو ووٹنگ ہوئی ، اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے جس میں سے عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کیے۔اس طرح عبد القدوس بزنجو چار سالوں میں تیسرے وزیر اعلی منتخب ہوگئے، نو منتخب وزیر اعلی کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے۔ انتخاب کے بعد نو منتخب وزیر اعلی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، حلف برداری کی تقریب گورنر ہاس میں منعقد ہو ئی جبکہ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نو منتخب وزیر اعلی سے عہدے کا حلف لیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی حلف برادری کے ساتھ ہی بلوچستان کی نئی کابینہ میں14وزرا،5مشیر شامل ، ممکنہ نام بھی سامنے آگئے ۔ نومنتخب وزیر اعلی نے اپنی نئی کابینہ میںتمام سیاسی جماعتوں سے ممبران کو شامل کیا جائے گا ، نئی کابینہ کے ممکنہ وزرامیں عبدالکریم نوشیروانی،آغامحمدرضا ، جعفرمندوخیل ،اکبرآسکانی ، طاہرمحمود، راحت جمالی ،سرفراز بگٹی ،ماجدابڑواورعاصم کرد کے نام شامل ہیں۔ پرنس احمدعلی،نواب جنگیزمری ،عامررنداوردستگیربادینی کو بھی بلوچستان حکومت میں شامل کرنے کا امکان ہے ۔ قبل ازیں بلوچستان اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے پر ۔اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان کا نیا وزیرِ اعلی منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔یاد رہے کہ 2013 سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیرِ اعلی ہیں جبکہ ان سے قبل نواب ثنا اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارتِ اعلی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔بلوچستان اراکینِ اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)کے 21، پی کے میپ کے 14، نیشنل پارٹی (این پی)کے 11،جمعیت علمائے اسلام (ف)کے 8، مسلم لیگ (ق)کے 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے 2، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بی این پی عوامی، مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن موجود ہیں جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی بھی ایوان کا حصہ ہیں۔یاد رہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران سے ہے جبکہ ان کے والد اور سینئر سیاستدان میر عبدالمجید بزنجو بھی بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔2013 کے عام انتخابات میں بلوچستان کے حلقہ پی بی 41 میں ووٹوں کا ٹرن آٹ 2 فیصد سے بھی کم رہا تھا اور میر عبدالقدوس بزنجو ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں