شہریوں کے قتل کے خلاف مکمل ہڑتال

سری نگر… مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم نہتے شہریوں کے قتل کے خلاف ہفتے کو مکمل ہڑتال کی گئی تفصیلات کے مطابق کٹھ پتلی انتظامیہ نے عوام کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سری نگر میں سخت پابندیاں لگا دیں اورفوج اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی اس کے باوجود کئی علاقوں میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ادھر بھارتی پولیس نے سری نگر کے علاقے مائسمہ میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انھیں گرفتارکرکے کوٹھی باغ تھانے میں منتقل کردیا۔حریت کانفرنس ع کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ۔ جبکہ سید علی شاہ گیلانی مسلسل خانہ نظر بندر ہے۔قابض فوج نے دوسرے کشمیری رہنمائوں کو بھی آج مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے حرست میں لے لیا ۔مقبوضہ کشمیر میں آج ٹرین سروس بھی معطل رہی ۔ مکمل ہڑتال کی اپیل آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میر واعظ اور یاسین ملک نے دی تھی ۔فورسز نے وسطی کشمیر کے گاندبل ضلع کے گندروشن علاقے کو محاصرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ راشٹریہ رائفلز کی 5بٹالین ، جموں کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے مشترکہ کارروائی میں اس علاقے کو محاصرے میں لینے کے بعد گھر گھر تلاشیاں شروع کردی ہیں۔تاہم اس تلاشی کارروائی کے دوران فورسز کے ہاتھ کچھ نہیں لگا ہے۔ حیدرپورہ میں محمد اشرف لایا کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں سید امتیاز حیدر، مختار احمد صوفی، اشفاق احمد خان، رمیز راجہ سمیت دیگر کارکنان اور نوجوانوں نے شرکت کی۔قائدین نے تہاڑ جیل میں نظربند کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ہر طرح سے عذاب وعتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے تہار جیل میں مقید کشمیری قیدیوں کی وادی منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کو نہ تو جیل مینول کے تحت غزائیں فراہم کی جاتی ہیں اور نا ہی ان کا علاج ومعالجہ کے لیے انہیں اسپتال لے جایا جاتا ہے، جبکہ ان کو جیل انتظامیہ کی طرف سے مختلف بہانوں کے ذریعے تنگ طلب کیا جاتا ہے جس وجہ سے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ ، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین، شاہد اسلام، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، شاہد یوسف، کامران یوسف، ظہور احمد وٹالی سمیت دیگر قیدیوںکی طبی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے اور ان کا معیاری علاج ومعالجہ بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے، اس لیے ان کو وادی منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل علاج ومعالجہ کیا جاسکے۔ حریت قائدین نے تہاڑ جیل میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کو قیدیوں کے حوالے سے وضع کردہ حقوق سے بھی محروم رکھا جارہا ہے جو کہ ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے اور اس کی جنتی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ قائدین نے 2016ء کی عوامی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے سینکڑوں افراد کو کالے قانون پی ایس اے کے تحت بدستور نظربند رکھنے کی کارروائیوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کو انتقام گیری کا نشانہ بنا کر اسٹیٹ پاور استعمال کرکے ان کی رہائی کو ناممکن بنایا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں