کشمیر جل رہا ہے ،جموں سلگ رہا ہے ،لداخ رو رہا ہے

جموں//کولگام میں شہری ہلاکت پر قانون ساز اسمبلی میں بدھ کو حزب اختلاف ممبران نے سخت ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ’’کشمیریوں کی قاتل سرکار ہائے ہائے ‘‘ کے فلک شکاف نعرے بلند کئے ۔اپوزیشن ممبران کا کہنا تھا کہ کشمیر جل رہا ہے جموں سلگ رہا ہے اور لداخ رو رہا ہے لیکن سرکار حالات کو ٹھیک کرنے میں ناکام ہے۔ اس دوران اپوزیشن اراکین نے شہری ہلاکتوں پرایوان سے واک آئوٹ کیا ۔ بجٹ اجلاس کی کارروائی منگل کی صبح جیسے ہی شروع ہوئی تو این سی رکن اسمبلی و ایم ایل اے ہوم شالی بگ عبدالمجید لارمی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور ہاتھوں میں بینر اٹھا کر حکومت سے گزشتہ روز کھڈونی کولگام میں فورسز کے ہاتھوں ایک بے گناہ شہری کی ہلاکت پر وضاحت طلب کی ۔لارمی کے ساتھ نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبران کے علاوہ سی پی آئی کے محمد یوسف تاریگامی ، حکیم محمد یاسین بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اورشہری ہلاکتوں پر احتجاج کرنے لگے ۔ایم ایل اے خانیار علیٰ محمد ساگر نے کہا کہ سرکار کو شرم آنی چاہئے کب تک معصوم کشمیریوں کا قتل عام ہوتا رہے گا ۔انہوں نے پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری سے کہا کہ آپ کے علاقے میںمعصوم شہری کی ہلاکت ہوئی ہے اور آپ جواب نہیں دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں اور انسانی حقوق پامالیوں پر سرکار کو آج بحث کرنی چاہئے کیونکہ سرکاری ترجمان باہر جا کر میڈیا کو کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے پاس بات کرنے کیلئے کوئی مدعا نہیں ہے ۔اس دوران ممبر اسمبلی ہوم شالی بگ نے کہا کہ اُن کے اسمبلی حلقہ میں حالات کشیدہ ہیں اور وہاں لوگوں پر ظلم وجبر ہو رہا ہے ۔لارمی نے ویل میں آکر معصوم لوگوں کا قتل عام بند کرو کے نعرے لگائے ،اس دوران دیگر اپوزیشن لیڈران جن میں علی محمد ساگر ، میاں الطاف ، دویندر رانا ، محمد اکبر لون ، شمیمہ فردوس ، اشفاق جبار ، عبدالمجید لارمی ،الطاف کلو ،جی ایم سروڑی ، وقار رسول ، محمد یوسف تاریگامی ،حکیم محمد یاسین ، نوانگ ریگزن جورا ، چرن ڈورجے ویل میں آئے اور ’’قاتل سرکار ہائے ہائے ،کشمیری کی دشمن سرکار ہائے ہائے ‘سرکار کچھ شرم کرو شرم کرو ‘آر ایس ایس سرکار ہائے ہائے ‘‘کے فلک شکاف نعرے بلند کئے ۔ممبر اسمبلی نگروٹہ دیوندر رانا نے ویل میں آکر حکومت سے پوچھا کہ اگر دلی اور ریاستی سرکار یہ کہتی ہے کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو پھر یہ خون خرابہ کیوں ہو رہا ہے ،کیوں خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر جل رہا ہے جموں سلگ رہا ہے اور لداخ رو رہا ہے ۔انہوں نے سرکار سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں اسی طرح بدنظمی رہے تو پھر یہ سرکار آپ کو ہی نصیب ہو ۔لارمی نے کہا کہ میرے اسمبلی حلقہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں اور لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ وہاں ایک معصوم پر گولیاں چلائی گئیں ہیں ۔ممبران نے اپنی نشست پر بیٹھے وزیر تعمیرات کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ آپ میڈیا میں کہتے ہیں کہ سرکار کے پاس بات کرنے کیلئے مدعاہی نہیں ہے لیکن آج کیوں بات نہیں کرتے ،حکومت کو تباہ کرنے میں آپ کا اہم رول ہے ۔رانا نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 4روز سے ہم شہری ہلاکتوں پر بحث کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں لیکن سرکار اپوزیشن کی آواز ہی نہیں سنتی۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کا استحصال کیا ہے ۔اس دوران دیہی ترقی کے وزیر کسی سوال کا جواب دے رہے تھے تو اپوزیشن ممبران شیم شیم کے نعرے لگا رہے تھے ۔لارمی نے کہا کہ سرکار ایک طرف پنچایتی انتخابات کے دعویٰ کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے شہری ہلاکتوں پر کوئی جواب نہ ملنے پر زوردار احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اپوزیشن کے واک آئوٹ ہونے کے بعد ہی عوامی اتحاد پارٹی کے صدر اور ممبر اسمبلی لنگیٹ بھی ویل میں داخل ہوئے اور سرکار پر چیخ وپکار کرنے لگے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں کشمیر جل رہا ہے اور سرکار اس پر کوئی جواب نہیں دیتی ۔اس بیچ اگرچہ اُن کا بی جے پی ممبران کے ساتھ کچھ وقت کیلئے نوک جھونک بھی ہوئی تاہم چاہ ایوان میں داخل ہونے سے قبل ہی انجینئر کو اسپیکر کے حکم پر ایوان سے مارشل آوٹ کیا گیا اور انہیں ایوان میں شہری ہلاکتوں پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔واک آئوٹ کے بعد دوبارہ جیسے ہی اپوزیشن ممبران ایوان میں داخل ہوئے تو انہوں نے دوبارہ ہنگامہ کیا اور اسپیکر سے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ وقفہ سوالات کے بعد ایوان میں شہری ہلاکتوں پر سرکار جواب دے گی ۔اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر ویری اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اپوزیشن ممبران سے کہا کہ ہلاکتوں پر جتنی تشویش آپ کوہے اُس سے زیادہ ہمیں بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت پر مجسٹریٹ انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ہیں اور میں ایوان کو یقین دلاتا ہوںاس ہلاکت میں جو بھی ملوث ہوگا اُس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ۔اس پر دوبارہ اپوزیش کے ممبران نے ہنگامہ کیااور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ مانتے ہیں کہ مرنے والا شہری بے گناہ تھا جبکہ انجینئر نے کہا کہ کپوارہ کے ڈرائیور کی انکوائری کا کیا ہوا اور دیگر انکوائریاں جو سرکار نے شروع کیں اُن کا کیا ہوا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں