اکلاس ملازمین تنخواہوں سے محروم

آزاد کشمیر کا محکمہ اکلاس میں ضرورت سے زیادہ ملازمین کے بوجھ کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہو گیا
ملازمین تنخواہوں سے محروم ،آزاد کشمیرپبلک اکائونٹس کمیٹی نے تمام ملازمین کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں
کمیٹی نے محکمے کے حکام کو حکم دیا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ محکمے میں کس کس دور میں کون کون بھرتی ہوا

مظفر آباد۔۔آزاد کشمیر کا محکمہ اکلاس میں ضرورت سے زیادہ ملازمین کے بوجھ کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے قابل نہیں رہاآزاد کشمیرپبلک اکائونٹس کمیٹی نے تمام ملازمین کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں کمیٹی نے محکمے کے حکام کو حکم دیا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ محکمے میں کس کس دور میں کون کون بھرتی ہوا۔آزاد کشمیرپبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئر مین کمیٹی چوہدری محمد اسحاق کی زیر صدارت بُدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اکلاس کے بقیہ ریکارڈ سمیت محکمہ وائلڈ لائف و فشریز آزاد کشمیر کے ریکارڈ کی پڑتال کی گئی۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے محکمہ اکلاس کی گرتی ہوئی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ پہلے سے موجود نوٹیفیکیشن جس کے تحت تمام سرکاری محکمہ جات کو فرنیچر کی خرید اکلاس سے کرنی ہے بصورت دیگر اکلاس سے NOCحاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جہاں جہاں نوٹیفیکیشن زیر بحث پر عمل درآمد نہیں ہوا اسے باقاعد ہ آڈٹ اعتراض بنایا جائے اور آئندہ اس نوٹیفیکیشن پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ محکمہ اکلاس مارکیٹنگ کو بہتر سے بہتر کرے کیونکہ مناسب مارکیٹنگ نہ ہونے کے باعث خاطر خواہ انکم نہیں ہو رہی اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ وہ ادار ہ جو ماضی میں منافع بخش کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا آج خود اُسکے اپنے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں اور ادارہ تنخواہوں کی ادائیگی کے قابل نہیں رہا۔ کمیٹی نے محکمہ اکلاس میں مالی بحران کی ایک وجہ ملازمین کا زائد از ضرورت ہونے کے ضمن میں محکمہ کو ہدایت کی کہ تمام ملازمین کی مکمل تفصیل کمیٹی کو مہیا کی جائے کہ کس کس دور میں کون کون بھرتی ہوا۔ پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر اکلاس سید ظہور حسین گیلانی سیکرٹری جنگلات نے کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ اکلاس کا قیام 1968ء میں عمل میں لایا گیا۔اُنہوں نے بتایا کہ ایپروڈ پوسٹس 913ہیں، مستقل سٹاف 607، پنشنرز526 ،تنخواہوں پر اخراجات297.666ملین روپے، اوپریشنل76.290ملین روپے وغیرہ اسطرح کُل اخراجات 773.551ملین روپے ہیں۔2017-18کے اہداف کے بارہ میں بتایا0.750ملین سی ایف ٹی حصول لکڑ، فروخت لکڑ0.717ملین سی ایف ٹی، سیل انکم613.450ملین روپے اور دیگر انکم 21.796ملین روپے۔ محکمہ اکلاس کے ذمے 420 آڈٹ پیرا جات ہیں،1984 سے لیکر 2000ء تک صرف ایک آڈٹ پیرا تھا۔21آڈٹ پیرا جات سیٹل ہوئے۔ اسطرح سیٹل و ریکوری 47کروڑ24لاکھ24ہزار01صد67 روپے ہوئے۔ کمیٹی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ موجودہ پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر اکلاس سید ظہور حسین گیلانی اور ایم ڈی اکلاس خواجہ محمدنعیم محکمہ اکلاس کو سنبھالا دینے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ کمیٹی آج بروز جمعرات سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں