منگلا ڈیم مچھلی کا ٹھیکہ 10کروڑ روپے میں

منگلا ڈیم کی مچھلی کا ٹھیکہ 10کروڑ روپے میں،کنٹریکٹر کے ساتھ 3سال کا معاہدہ
معاہدہ 20لاکھ تک مچھلیوں کا بیج منگلا میں ڈالنا ہوگا ٹھکیدار نے 80لاکھ مچھلی کا بیج ڈال دیا

مظفرآباد (سٹاف رپورٹر) آزاد کشمیر پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئر مین کمیٹی چوہدری محمد اسحاق کی زیر صدارت بُدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اکلاس کے بقیہ ریکارڈ سمیت محکمہ وائلڈ لائف و فشریز آزاد کشمیر کے ریکارڈ کی پڑتال کی گئی۔ ممبران کمیٹی کرنل(ر) وقار احمد نُور، ڈاکٹر مصطفےٰ بشیر عباسی، حافظ محمد احمد رضا قادری، سپیشل سیکرٹری اسمبلی طارق ضیاء عباسی سمیت متعلقہ محکمہ جات کے حکام نے شرکت کی۔ محکمہ اکلاس کے ذمے 52 آڈٹ انسپکشن رپورٹس قابل تصفیہ ہیں۔ سال 2016-17کی تا حال داخلی پڑتال بھی کروانے میں محکمہ ناکام رہا۔ محکمہ کے ذمہ داران کا اظہار ہے کہ محکمہ اکلاس شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اس باعث بیشتر پیرا جات تا حال یکسو نہ ہو سکے۔ خلاف قواعد ادائیگی ہائوس ہائرنگ13لاکھ 71ہزار روپے کی بابت اعتراض محکمانہ موقف کے پیش نظر یکسو کر لیا۔ سال 2014-15ء ملازمین سے بقایا جات1 کروڑ 80ہزار مرحلہ وار ذمہ داران سے ریکوری کر کے خزانہ سرکار میں جلد کروانے کا عزم نو کیا ہے۔ آئندہ اجلاس سے قبل پراگریس کریں گے۔ یہ ریکوری 30پیرا جات میں کی جائے گی۔ فشریز کے حوالے سے پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر نے کمیٹی کو بریفنگ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ منگلا ڈیم کی مچھلی کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ اب میرپور اور لاہور تک منگلا ڈیم کی مچھلی جاتی ہے۔ 1کروڑ روپے زر ضمانت پر ٹھیکہ دیا ہے جس کا ہدف اس سے قبل بمشکل 4کروڑ روپے تک ٹھیکہ جاتا تھا اب یہ ٹھیکہ 10کروڑ روپے تک دیا گیا ہے۔ اب مقامی ٹھیکیدار جس کا تعلق ڈڈیال سے ہے اُس نے بمطابق معاہدہ 20لاکھ تک مچھلیوں کا بیج منگلا میں ڈالنا تھا اُس نے مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیئے 80لاکھ مچھلی کا بیج ڈالا ہے۔ اب مچھلیوں کی نکاسی کے لیئے لائسنس جاری کرنے میں آسان طریقہء کار رکھا گیا ہے۔ کنٹریکٹر کے ساتھ 3سال کا معاہدہ ہوتا ہے اس سے بہتر ٹھیکہ آئے گا وہ بھی لینے کے لیئے تیار ہیں۔ چیئر مین کمیٹی چوہدری محمد اسحاق نے کہا کہ ایڈورٹائزمنٹ کریں لوگ منگلا کی مچھلی کے حصول کا بہتر ٹھیکہ دینے کے لیئے تیار ہیں۔ محکمہ فشریز کے ذمے12آڈٹ پیرا جات میں ریکوری کرنا ہے۔ کُل وضعگی 94.739ملین کرنا تھی جس میں سے 44.399ملین ریکوری کر کے خزانہء سرکار میں داخل کر لیئے ہیں۔ جبکہ تا حال 50.340ملین مزید ریکوری کرنی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ اجلاس سے قبل ریکوری میں پراگریس کریں۔ محکمہ میں مالیاتی ڈسپلن قائم کیا جائے۔ محکمہ وائلڈلائف فشریز کے 186ملازمین جن کو مختلف جگہوں پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں5ڈویلمپمنٹ پراجیکٹس تا ئو بٹ وادی نیلم، کیل سیری، دواریاں، کٹن اور پٹہکہ میں ٹرائوٹ فش کی پیداوار بڑھانے کے لیئے منصوبہ جات کی تکمیل کی گئی ہے۔ کوٹلی گُل پور اور جہلم ویلی دریا پونچھ میں بھی مچھلیوںکی پیداوار بڑھانے کے لیئے دریائوں میں مچھلیوں کے بیج ڈالے جا رہے ہیں۔ میرپور میں6سو کنا اراضی پر بڑا چڑیا گھر قائم کر رہے ہیںجس سے لوگوں کو تفریح کے ساتھ آمدن کے اہداف بھی حاصل ہونگے۔ ملازمین سے ریکوری اُن کی تنخواہوں سے بذریعہ اے جی وصولی کے لیئے کارروائی عمل میںلائی جائے۔ کمیٹی نے بیشتر پراجیکٹس کا موقع پر معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ جات کو منصوبہ جات کی تکمیل اور معیار کو بہتر بنانا چاہیئے۔ عرصہ سے بقایا جات میں ریکوری نہ ہونا پراگریس نہیں دکھائی دیتی۔اسکے علاوہ گزشتہ روز کمیٹی نے محکمہ اکلاس کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں