سرفراز شاہ کیس ،مجھے اپنے بچوں کی فکر

اسلام آباد: سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے کراچی میں نوجوان کو قتل کرنے والے سزا یافتہ رینجرز اہلکاروں کی صدارتی معافی کی مخالفت کردی۔

واضح رہے کہ جون 2011 میں کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں واقع شہید بینظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکاروں کی جانب سے 22 سالہ نوجوان سرفراز شاہ کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت کی جانب سے ایک رینجرز اہلکار کو سزائے موت جبکہ باقی 5 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل رینجرز اہلکاروں کی معافی کے لیے درخواست صوبائی حکام نے صدر مملکت کو بھجوائی تھی۔

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایوان صدر کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کے معافی کے معاملے پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بحث کے لیے کمیٹی کی چیئرپرسن سے درخواست کی۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے ایک ناقابل قبول قدم ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ایک وردی میں موجود اہلکار کو اس بات کا لائنسن دینے کے مترادف ہے کہ وہ گن اٹھائے اور ایک بے گناہ شخص کو بربریت کے ساتھ قتل کردے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہے کہ خوف زدہ سرفراز شاہ کی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے جبکہ گولی مارنے والے کے چہرے پر خوشی کی تصویر کو بھلا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجرموں کو صدارتی معافی متاثرہ خاندان کے لیے اس شرمناک تصویر کو مزید خوفناک بنا دے گی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مقتول کے خاندان کی رضامندی کے بغیر معافی دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو قانون ہاتھ میں لینے کے لیے مزید شہ دے گا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر صدر ممنون حسین نے اس طرح کی متنازع تاریخ رقم کی تو یہ بہت ہی افسوس ناک بات ہوگی جس میں یہ سمجھا جائے گا کہ ایسے مجرمان جنہوں نے ایک مرتبہ یونیفارم پہن لیا وہ یونیفارم نہ پہننے والے مجرموں سے علیحدہ ہیں، لہٰذا اس طرح کی تاریخ پاکستان کے پہلے سے بکھرے ہوئے نظامِ انصاف کو منہ کے بل گرادے گی۔

تاہم ایوانِ صدر کی جانب تردی کی گئی ہے سرفراز شاہ کے قتل میں ملوث رینجرز اہلکاروں کو معافی نہیں دی گئی۔

اس موقع پر تمام ارکان کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ مجرموں کو معافی دینے کے خلاف ایک قرارداد کے ذریعے طاقت ور پیغام بھیجا جائے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی سینیٹر نسرین جلیل کی جانب سے سرفراز شاہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے معافی کے اقدام کو یادگار المیہ قرار دیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر سمینہ عابد نے کہا کہ سرفراز شاہ کے قتل کی تصویر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

سینیٹر سحر کامران نے اس قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے کہا ’میں جب بھی اس نوجوان کی معافی کے لیے منتیں کرتے ہوئے منظر کو یاد کرتی ہوں تو مجھے اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے۔‘

اجلاس میں وزیر مملکت برائے انسانی حقوق بیرسٹر عثمان ابراہیم نے تمام ارکان کے جذبات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کی جانب سے دیکھا گیا تھا اور وہ اسے انہیں کے پاس لے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں