صوفی محمد کون ہیں؟

صوفی محمد جو کبھی انگریزوں کے قانون کے تحت رہائی کی درخواست ہی نہیں دینا چاہتے تھے

مولانا صوفی
صوفی محمد وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی سوچ اور عقائد کی وجہ سے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ قید میں گزارا ہے

جب میں خیبر پختونخوا کے جنوبی ڈیرہ اسمعیل خان جیل ایک خاص قیدی سے ملاقات کے لیے پہنچا تو جیلر نے برطانوی راج کے بنے ہوئے قید خانے کے اپنے سرکاری کمرے میں ملاقات کا اہتمام کر رکھا تھا۔

تھوڑی دیر انتظار کے بعد بتایا گیا کہ چونکہ کمرے میں قائداعظم کی تصویر لگی ہے تو قیدی یہاں ملاقات نہیں بلکہ بغیر تصویر والے کمرے میں کرے گا۔ اٹھ کر سامنے ایک دوسرے کمرے میں جو کہ نچلے گریڈ کے عملے کا تھا ایک لکڑی کے بنچ پر ایک درمیانی قد کاٹھ کا شخص سفید جوڑا اور سیاہ پگڑی پہنے بیٹھا تھا۔ یہی سوات کے مولانا صوفی محمد تھے۔

صوفی محمد پر بی بی سی کی یہ خصوصی ویڈیو دیکھیئے

دیکھیے بی بی سی اردو کی خصوصی فلم: باجوڑ سے بلخ تک

یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی سوچ اور عقائد کی وجہ سے اپنے پڑھاپے کا ایک بڑا حصہ قید میں گزار دیا ہے۔ ان کی حالیہ قید آٹھ برس جبکہ اس سے قبل بھی کئی موقعوں پر گرفتاریوں اور حراست کی مددت جمع کی جائے تو شاید عمر قید ہی بنتی ہے۔

صوفی محمد نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں کئی برس قید محض اس لیے کاٹی کہ وہ انگریزی قانون کے تحت رہائی کی درخواست نہیں دینا چاہتے تھے۔ 85 سالہ مولانا صوفی محمد اُس وقت بھی خرابی صحت کے شکار تھے اور انتہائی دھیما دھیما بول رہے تھے۔ اب یہ خرابی صحت ہی ان کی اسیری سے نجات کا ذریعہ بن رہی ہے۔

سنہ 1992 سے متحرک ان کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کا واحد مقصد نفاذ شریعت تھا۔ اس سے قبل صوفی محمد جماعت اسلامی کے 1980 سے فعال رکن رہے تھے۔ ان کی تحریک نے نومبر 1994 میں پورے مالاکنڈ ڈویژن میں پرتشدد شکل اختیار کر لی اور ان کے حامیوں نے سیدو شریف ایئرپورٹ، تھانوں اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کشیدگی کے خاتمے میں حکومت کو ایک ہفتے کا وقت لگا لیکن اس سے قبل 40 افراد جن میں ایک درجن سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے ہلاک ہو چکے تھے۔ ایک سال بعد وہ دوبارہ اپنی حامیوں کے ساتھ سڑکوں پر اس شکایت کے ساتھ نکلے کہ حکومت کے ساتھ نفاذِ شریعت کا جو معاہدہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

منگورہ
جنوری 2002 کو اس وقت کی جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ٹی این ایس ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا

نائن الیون کے چند روز بعد ہی یعنی 20 ستمبر کو ان کی تنظیم نے منگورہ میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا اور افغانستان پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں دفاع کے لیے رضا کاروں کی ایک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ اکتوبر میں صوفی محمد ہزاروں رضاکاروں کے ساتھ براستہ باجوڑ افغانستان چلے گئے۔

وہ خود تو واپس لوٹ آئے لیکن سینکڑوں رضاکار واپس نہیں آئے اور ان کے بارے میں آج تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ضلع دیر کے ایک گاؤں کے درجن بھر نوجوان افغانستان میں آج بھی لاپتہ ہیں۔ صوفی محمد کو واپسی پر سنہ 2001 میں قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے حراست میں لے لیا گیا۔

جنوری 2002 کو اس وقت کی جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ٹی این ایس ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر بین الاقوامی دباؤ میں آکر پابندی عائد کر دی تھی۔ خیال ہے کہ ان کے حامی بعد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو گئے تھے۔

صوفی محمد
صوفی محمد کو پشاور کے سیٹھی ٹاؤن سے 26 جولائی 2009 کو گرفتار کیا گیا

پھر سال 2008 آتا ہے اور جیل کی ایک تاریک کوٹھری میں پڑے مولانا صوفی محمد حکومت کو ایک مسیحا کے روپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔انھیں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جیل سے نکال کر نہ صرف سوات پہنچا دیا جاتا ہے بلکہ ان کے نظامِ عدل کے قیام کے مطالبے کو بھی دنوں میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ لیکن جب اس سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا تو وہ ڈرامائی انداز میں لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم ان کے دو قریبی ساتھی مولانا عالم اور ترجمان امیر عزت خان ایک ’مقابلے‘ میں مارے جاتے ہیں۔

پھر دھیمے لہجے والے مولانا صوفی محمد اپنے آبائی علاقے سے کرفیو اور سخت تلاشیوں کے باوجود نکل کر پشاور پہنچ جاتے ہیں اور پشاور کے مضافات میں سیٹھی ٹاؤن کا ایک مکان کرائے پر لے لیتے ہیں اور وہاں رہنے لگتے ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی کالعدم تحریک کا اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے لگتے ہیں تو حکومت ایک اور کارروائی میں 26 جولائی 2009 کو انھیں گرفتار کر لیتی ہے۔

اس کے بعد سے وہ مختلف جیلوں میں رہے ہیں۔ ان کے خلاف دہشت گردی کے 13 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے اکثر 1990 کی دہائی کے دوران درج ہوئے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان واقعات میں اکثر گواہان اب نہیں رہے لہذا اکثر مقدمات محض دستاویزات کی حد تک زندہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں