امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ابتد ا سے ، راجہ اعجاز احمد خان

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ابتد ا سے اب تک
تحریر راجہ اعجاز احمد خان

پاکستان کے معرضے وجود میں آنے کے بعد پہلے 3 سال تک پاکستان غیر جانب داری کی پالیسی پر عمل پیرا رہا تھاکہ لیکن بھارت کے دورافزوں جارہانہ اقدامات نے پاکستان کو مغربی ممالک کے زیادہ قریب کردیا لیاقت علی خان نے مئی 1950ء میں امریکہ کا دورہ کیا تو امریکی حکومت کو پاکستان سے دلچسپی پیدا ہوئی لیاقت علی خان نے کمیونذم کے خطرے کے سدباب کے لیے ایشائی ممالک کی تعمیر میں حدود دینے کا فارمولا پیش کیا تاکہ عوام مطمین ہوں اور تحزیبی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں کوریا کی جنگ میں امریکی موقوف کی حمائیت کی لیکن بھارتی حملے کے خدشے کے پیش نظر موجیں بھیجنے سے مغروری ظاہر کی محمد علی بوگرہ پھر پاکستان کے وزیراعظم بنے تو انہوںنے پاکستان کو پوری طرح امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا سیٹو ور معائدہ بغدالوسنٹو کا رکن بن گیا توپاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت گہرے ہوگے اور پاکستان کو امریکہ سے عربوں روپے سودی قرض ملا تاہم اس امداد نما قرض کے ساتھ مہنگے ماہرین اور مشیر بھی آئے غذا کی قلت کے سبسب پاکستان کو امریکہ سے گندم بھی خریدنا پڑی پرخوشگوار تعلقات 1962ء میں یہ انکشاف ہوا کہ بھارت پاکستان سے کہیں گناہ زیادہ خفیہ امداد لے رہاہے اس پر پاکستانی عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور امریکہ کا کشمیر کے بارے میں رویہ بھی اب تک ناقابل فہم تھا شروع شروع میں اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں عمل درآمد کے حق میں رائے دیلیکن بعدمیں بھارت کو خوش کرنے کے لیے معاملہ گول کرناشروع کر دیا مسئلہ کشمیر کے بارے میں سردمہری اور بھات کو کھلم کھلا اسحلہ مہیا کرنے کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ تعلقات ناخوشگوار ہونے لگے ۔1965ء میں پاک بھارت جنگ کے دوران امریکہ نے حلیف کی حسثیت سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی بلکہ امریکہ سے بھارت کو فائدہ پہنچا ۔تو پاکستان عوام نے دفاعی معائدہ جات ختم کرنے کا مطالبہ پیش کر دیا لیکن حکومتی سطح پر امریکہ حلیف رہا ۔ یحییٰ نے امریکہ اورچین کے درمیان تعلقات استوار کرانے میں پل کا کردار ادا کیااس عظیم کارنامے کو بھی امریکہ نے فراموش کرتے ہوئے بنگلادیش بنانے میں ناقابل فہم کردارادا کیا ۔پھر بھٹو نے حکومت سنبھالی اور امریکی صدر نکسن اور وزیر خارجہ سے ملاقات کرکے خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کی یقین دہانی کروائی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہو لیکن عوام کو خوش کرنے کے لیے کبھی کبھار گرما گرم بیانات بھی دیے گئے ۔مارشل لاحکومت نے امریکی طرز عمل کے پیش نظر امریکہ کی طرف سے جھکائو بتدریج کم کرنے کی پالیسی پر عمل کیا مشرقی پاکستان کی علحیدگی کے بعد پاکستان سینٹو سے علحیدہو گیا یہاں تک کہ دنیا نے پاکستان کو غیر جانب دار تسلیم کر لیا اور پاکستان غیرجانب دار ممالک کی تحریک کا باقاعدہ رکن بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں