ٹی ایس ایلیٹ، عمران اور ہمارا اپنا میڈیا، وجا ہت مسعود

ٹی ایس ایلیٹ، عمران اور ہمارا میڈیا
وجا ہت مسعود

کوئی پانچ برس پہلے عطا الحق قاسمی صاحب نے بہار چند روزہ سے فائدہ اٹھا کر پاک ٹی ہاؤس کی بحالی اور تعمیر نو کا منصوبہ مکمل کروا لیا تھا۔ کئی برس تک سائیکلوں اور ٹائروں کی دکانوں کے بیچ میں پاک ٹی ہاؤس کا بند اور شکستہ کواڑ دیکھ کے وہی کیفیت پیدا ہوتی تھی جو لاہور میں انار کلی کے مقبرے اور ہیرا منڈی سے گزرتے ہوئے پیدا ہوتی ہے… نے چراغے، نے گلے۔ حالیہ برسوں میں ایک آدھ مرتبہ پاک ٹی ہاؤس جانا ہوا۔ وہی نقشہ ہے، ولے اس قدر آباد نہیں… سچ تو یہ ہے کہ یہاں کا نقشہ بھی بدل گیا اور یہاں کی آبادی نے تو خیر شہر خموشاں آباد کر دئیے۔ میر تقی میر یاد آ گئے… کیا رہا ہے مشاعرے میں اب / لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں۔
عطاءالحق قاسمی نے نیلا گنبد کے پاک ٹی ہاؤس کو جنوبی لندن کے کسی پرانے پب جیسی پھب بخش دی مگر یہاں بیٹھنے کے لئے انتظار حسین، ناصر کاظمی اور انجم رومانی کہاں سے لاتے۔ درویش نے بھی اس چشمے سے فیض اٹھا رکھا ہے۔ ایک میز پہ انیس ناگی، سہیل احمد خان، سجاد باقر رضوی اور صلاح الدین محمود کو بیٹھے دیکھا۔ قدیم اور جدید علم و ادب کے یہ خزانے یہاں ہر شام جمع ہوتے تھے۔ پاک ٹی ہاؤس میں علم و ادب کی ایسی برکھا برستی تھی کہ مجھ سمیت کور دیہہ سے آنے والے کوڑیوں دہقان حروف شناس بن گئے۔ یہاں ایک میز پہ سارتر اور کامیو زیر بحث ہوتے تھے، ایک اور ٹکڑی مثنوی معنوی اور فیہ ما فیہ کی تشریح میں غرق ہوتی تھی، ایک نیم تاریک گوشے میں برٹرینڈ رسل اور ٹی ایس ایلیٹ پہ بحث گرم ہوتی تھی۔ ہماری تنقید میں مغربی ادب کا حوالہ تو الطاف حسین حالی لے آئے تھے لیکن اس روایت کو عسکری صاحب نے آگے بڑھایا۔ انتظار حسین فرمایا کرتے تھے کہ عسکری کے ایک صفحے پر اتنے فرانسیسی مصنفوں کے نام آ جاتے ہیں کہ پڑھنے والا بھونچکا رہ جاتا ہے۔ سچ پوچھئے تو ہمارے ادب کو ان مباحث سے بہت فائدہ ہوا۔ بیسویں صدی کا کوئی قابل ذکر اردو شاعر یا نثر نگار بتائیے جس نے مغربی ادب کے سرچشموں سے اپنی کھیتی نہ سینچی ہو۔ ایک سامنے کی مثال تو اقبال کی ہے اور پھر فیض، راشد، میرا جی سے ہوتے ہوئے جیلانی کامران تک چلے آئیے۔ راجندر سنگھ بیدی اور باری صاحب کا وہ مطائبہ تو ہم سب نے پڑھ رکھا ہے جب دونوں نے شولوخوف کا ناول پڑھے بغیر…’ ـاینڈ کوائٹ فلوز دی ڈان‘ کے محاسن پر مغز ماری کی تھی۔ دوسروں کی پردہ دری کیا کی جائے۔ یہ درویش ایک مدت تک ایذرا پاؤنڈ کو عذرا پاؤنڈ بولتا اور سمجھتا رہا۔
ایک زمانے میں ترقی پسند کرسٹوفر کاڈویل اور لوئی فشر کو جھنڈے پہ چڑھائے پھرتے تھے۔ رجعت پسندوں کو ٹی ایس ایلیٹ اور ڈبلیو ایچ آڈن مل گئے۔ نظریات کی بنیاد پر کھینچی جانے والی لکیریں تو وقت خود ہی مٹا دیتا ہے۔ پانی کہیں سے بھی بہتا ہوا آئے، حتمی تجزیے میں زمین زرخیز ہوتی ہے۔ دائیں اور بائیں کی تمیز ماضی میں اکہری اور فروعی تھی اور اب تو شاید بے معنی ہو چکی۔ ان دنوں ٹی ایس ایلیٹ کا 1919ء میں لکھا ایک مضمون ’روایت اور انفرادی صلاحیت‘ بہت کام آیا۔ ایلیٹ نے بنیادی نکتہ یہ بیان کیا تھا کہ کسی لکھنے والے کی قدر پیمائی خلا میں نہیں ہوتی۔ لکھنے والے کو ادبی روایت کے تناظر میں رکھ کے سمجھنا اور پرکھنا چاہئے۔ روایت سے بے خبری یا انقطاع کی صورت میں تخلیقی سرگرمی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ بس اسی سے عمران خان یاد آ گئے۔
عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں۔ دبئی میں بیٹھے ایک حسن کوزہ گر کی مہربانی سے تحریک انصاف کی پتنگ کئی برس سے آسمان سیاست پر اونچی اڑ رہی ہے۔ درویش کو عمران خان سے ذاتی تعارف نہیں۔ وہ ایک اور دنیا کے باشندے ہیں اور بلبل کہنہ سال کے ٹھکانے کچھ اور ہیں۔ مگر یہ کہ صحافت پیشہ ٹھہرا تو کچھ اس فلک کے نجوم کی خبر بھی رکھنا پڑتی ہے۔ خان صاحب کی سیاست کا کیف و کم تو وہ خود جانیں یا ان کے مداحوں کا جنون جانے۔ درویش ایک بات کہے دیتا ہے۔ عمران خان کی انفرادی صلاحیت کچھ بھی ہو، وہ پاکستان کی جمہوری اور سیاسی روایت سے لاتعلق ہیں۔ یہ روایت آزادی کے بعد سے ستر برس گزار چکی ہے۔ اس سے پہلے کی نصف صدی کو بھی اس روایت میں شامل سمجھیے… عمران خان کرکٹ کھیلتے تھے تو سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمن نے ان کی اٹھتی جوانی کو آمریت کی نفسیاتی جنگ کا استعارہ بنایا۔ نوے کی دہائی میں سیاست میں آئے تو ان کے اتالیق حمید گل تھے۔ صحافت میں عمران خان نے حضرت گنجفہ کبیر سے فیض پایا۔ وزیرے چنیں، شہریارے چناں۔ نہاں خانہ دل میں تحکمانہ اقتدار کی آرزو، نطق مبارک پر ماضی اور حال کی نفی، روایت سے انکار اور انکار بھی ایسا جو فکری شعور سے کہیں زیادہ بے خبری کی چغلی کھاتا ہو۔ اور پھر اس پہ نیم رس روحانیت کی قبا جو آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور مغربی رہن سہن میں رچے بسے شخص پر کچھ ایسی ہی پوری اترتی ہے جیسے گاؤں سے آنے والی کنیا ساڑھی باندھ لے۔ تفصیل میں جانے کا یارا نہیں۔ عمران خان پاکستان کے جمہوری کھنڈرات میں اپنی چمن آرائی کا کمال دکھانا چاہتے ہیں۔
ایسا ممکن ہونا باور نہیں ہوتا۔ بھٹو صاحب بھی کچھ ایسے ہی ارادوں سے میدان میں اترے تھے۔ اگرچہ بھٹو صاحب کم از کم پاک ٹی ہاؤس کے بیرے الہی بخش کو تو جانتے تھے۔ خان صاحب کو یہ سہولت بھی میسر نہیں۔
چلتے چلتے کچھ بات ہمارے میڈیا کی ہو جائے۔ یاران سرپل کو نواز شریف اور میڈیا میں سردمہری پر تعجب ہے۔ درحقیقت پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں ذرائع ابلاغ نے میاں نواز شریف کو قومی سطح کا لیڈر بنایا۔ ماہر فوٹو گرافروں سے ان کے فوٹو شوٹ کروائے جاتے تھے۔ خصوصی ایڈیشن شائع ہوتے تھے۔ خبروں کو خاص جگہ دی جاتی تھی۔ جریدوں میں طویل انٹرویو جگہ پاتے تھے۔ سیاسی تجزیوں میں نواز شریف کو جمال عبدالناصر اور نکروما وغیرہ سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ پچھلے چار برس میں یہ نقشہ برہم ہو گیا۔ محترمہ مریم نواز نے
سوشل میڈیا کے نام پر ایک اجتماع منعقد کیا مگر اس ہجوم کا نئے میڈیا سے وہی تعلق تھا جو قاضی حسین احمد کا لانگ مارچ سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وزارت عظمی کے حالیہ مرحلے میں نواز شریف میڈیا کے محاذ پر پٹ گئے۔ اسے سمجھنے کا ایک اشار ہ تو یہ ہے کہ اکتوبر 2016ء میں پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے ہٹایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں کوئی وزیر اطلاعات ایسا نہیں گزرا جو آزادی صحافت پر پختہ یقین میں پرویز رشید سے بڑھ کر ہو۔ پیمرا کے سربراہ ابصار عالم گئے۔ اور پھر عطاالحق قاسمی مستعفی ہوئے۔ ان تینوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ اصحاب نواز شریف کے اطلاعاتی محاذ پہ اس بیانیے سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 13اپریل 1993ء کو جل مرنے والے ققنس کی راکھ سے جنم لیا تھا۔
ماضی میں نواز شریف کا حامی میڈیا ہیئت مقتدرہ کے بیانیے، معاشرتی رجعت پسندی اور بھٹو دشمنی میں طاق تھا۔ ایسے قلم اور نواز شریف کی سیاست کا اتحاد فطری تھا۔ نواز شریف کا بیانیہ بدل گیا لیکن یہ تبدیلی میڈیا کے محاذ پر منتقل نہیں ہو سکی۔ ایسے لکھنے والے موجود ہیں جو سیاسی عصبیت اور وضع داری میں مسلم لیگ نواز کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کے دل افغان جہاد اور قدامت پسند معاشرت میں بسے ہیں۔ انہیں میثاق جمہوریت کی مفاہمت سے زیادہ ہئیت مقتدرہ سے مفاہمت میں دلچسپی ہے۔ نواز شریف کا سیاسی بیانیہ بدل گیا ہے۔ اس نئے بیانیے کی بھی ایک روایت ہے جو روشن خیالی، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کی چار صدیوں پہ پھیلی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کہتا ہے کہ تخلیقی سرگرمی کی قدر پیمائی روایت کے تناظر میں ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں