3لاکھ عوام کی صدا۔۔! ابو عماد راشد

نیلم یوتھ فورم کی تحریک 3لاکھ عوام کی صدا۔۔!
تحریر:ابو عماد راشد

واٹس ایپ پہ سرگرم یہ سوشل گروپ اتنا قابلِ تذکرہ ہو جائے گا۔اندازہ نہیں تھا لیکن نیلم روڈ کے ایشو پہ ان نوجوانوں کی جدوجہد انھیں گفتار کے غازی کے طعنوں سے نکال کر کردار کے غازیوں میں شامل کر گئی۔ان کی مثبت اور منظم سرگرمی سے حکمرانوں کی نیندیں حرام تو نہیں ہوئیں لیکن متاثر ضرور ہو گئیں روڈ کے حوالے سے وقت لیا گیا تو نیلم ہوتھN.Y. Fاس سے زیادہ اہم اور برننگ ایشو تحفظ جنگلات کی کمپین لے کر سامنے آگئی۔جنگلات تو وادیئِ نیلم ہی نہیں پوری نوع انسانی اور آنے والی نسل کا اثاثہ ہیں ۔ان کا سرعت سے صفایا اداروں اور حکومتوں کی نالائقی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس پہ بروقت احساس کرنا لازمی تھا یہ اِدراک بزرگو ں کو کرنا چاہیے تھا لیکن youth کے حصے میں آیا۔بہر حال اب اہلِ فکر و نظر اور ارباب سیاست کو اس طرف قدم بڑھانا ہوگا یہ وقت کا تقاضا اور ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔جنگلات کو پہنچنے والے نقصان، اس تباہی کے ذمہ دار عناصر، ان کے طریقہ واردات اور متبادلات پر بڑے عرصہ سے اعداد و شمار حکومتوں اور اداروں کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔لیکن شومئی قسمت کہیں بھی درِ احساس وا نہیں ہوا، کسی کے کانوں پر جوں نہ رینگی اس لیے کہ ہمارے حکمران جب تک ان کے سر پر ڈھول نہ بجایا جائے وہ عوامی مشکلات اور خواہشات کا احساس نہیں کرتے۔یہ ہمارے ایسے خادم ہیں جو خدمت کے نام پر آقائی کرتے ہیں ۔اج پھر ان آقاؤں کو بتانا پڑ رہا ہے کہ حضور ہمارا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے، روم جل رہا ہے۔ڈوبتے اور جلتے نظاروں کے شوقین ان مہربانوں سے اُلجھ کر ہی اپنی جان بچائی جا سکتی ہے اور نیلم ہوتھ یہی کام کرنے نکلی ہے۔جنگلات کا تحفظ اہلِ نیلم کی پہلی ترجیح اور آخری بھرپور واستگی ہے۔اس لیے کہ اس پورے خطے کی بقا ان قدرتی وسائل خاص طور پر جنگلات سے وابستہ ہے۔وہماری youth کی یہ سرگرمی مناسب اور متوازن ڈیٹا کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کمپین میں اب پوری سول سوسائٹی اپنی انٹری دے۔تاکہ حکومت اور ادارے متبادلات پر نہ صرف غور کرے بل کہ عملدرآمد بھی ممکن بنانے پہ مجبور ہو۔اگر نسلِ نو کی ان بروقت کاوشوں کو متنازعہ بنا کر سیاست دانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گی تو سب سے زیادہ عوام نقصان میں جائے گی۔بل کہ یہ نیلم کے ارباب سیاست کے لیے بھی بڑا موقع ہے کہ وہ اس مطالبے کو قومی سطح کا مطالبہ بنادیں اور اپنی گیم سکورنگ کم از کم اس ایشو پر نہ کریں۔Nyfمیں شامل نوجوانوں نے ہمیں بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ ہم نیلم کے ان بنیادی مسائل کے حل اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ۔متحد، منظم اوربہتر شعور کے ساتھ ساتھ اُٹھیں اور نیلم کے اربابِ سیاست کو مجبور کر دیں کہ اپنے مفادات کے گرد رقص ترک کریں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔موجود وقت میں ساست میں وژنری لوگ نہیں ہیں یا اگر ہیں تو مفادات کے اسیر ہیں ۔ایسے میں ان نوجوانوں کی ان کوششوں کو ناکام نہیں ہونا چاہیئے ۔یہ وقت کا ایک ٹانکا ہے جو سو ٹانکوں سے بچائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں