آزادکشمیر میں روشنیوں کا منصوبہ ‘طاہر احمد فاروقی

آزادکشمیر میں روشنیوں کا منصوبہ ‘ پردیسیوں کی واپسی اور نئی پنشن پالیسی
تحریر: طاہر احمد فاروقی

آزاد جموں وکشمیر مظفر آباد ڈویژن خصوصاً مظفر آباد کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے اس سرزمین کے دریائوں پر وجود میں آنے والا نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ مارچ میں بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا ‘ جو اس لحاظ سے شاہکار ہے ‘ 51 کلو میٹر طویل سرنگوں پر مشتمل ہے جس کے پہلے مرحلے میں واٹر وے سسٹم کے تحت ٹیل ریس ٹنل میں پانی بھرا جا رہا ہے ‘ جس کا پہلا یونٹ مارچ اور باقی دو یونٹ ایک ایک ماہ کے وقفے سے بجلی کی پیداوار شروع کریں گے ‘ پراجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969 میگا واٹ ہے جو اپنی تکمیل پر نیشنل گرڈ کو سالانہ پانچ ارب یونٹ سستی بجلی مہیا کریگا ‘ اور قومی خزانے کو ہر 365 دن بعد پچاس ارب کا فائدہ ہو گا ‘ جو ملک و ملت کے لیے عظیم الشان تحفہ ہے جس کا کریڈٹ کشمیریوں خصوصاً مظفر آباد کے عوام کو جاتا ہے ‘ تو دوست ملک چین کا بھی کلیدی کردار ہے جس کے ثمرات سے ملک و ملت کو اندھیروں میں مزید کمی لاتے ہوئے روشنیوں کے تسلسل کو قائم رکھنے اور صنعتوں کے پہیہ مزید تیز ہونے سے معاشی استحکام بھی حاصل ہو گا ‘ نصف صدی سے زائد دریائوں کے اس سونا جیسے پانی کا ضیاع ہوتا رہا ‘ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں منصوبے کا آغاز کیا گیا مگر خود یہاں آزادکشمیر کے ارباب اختیار نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے رکھیں ‘ اور معاہدہ کرتے ہوئے علاقائی ماحول عوامی ضروریات کا تحفظ کرنا درکنار خود واپڈانے 6 ارب کے فنڈز فراہم کرنا تھے ان کے حصول کے لیے مطلوبہ سکیمیں بھی بنا کر ارسال نہیں کیں ورنہ منصوبے کے افتتاح سے قبل ہی سب خدشات ‘ تحفظات کا تدارک یقینی ہو جاتا ان کے متعلق اب کیا ہو رہا ہے بڑے بڑے دعوے اور اخلاص و ایثار ظاہر کرنے والے سب ہی خاموش ہیں ‘ تاہم اسلام آباد حکومت سمیت اس کی سب متعلقہ اتھارٹیز بشمول واپڈا کو اپنا موقف اور کیا کرنا چاہتے ہیں کھل کر بیان کرنا چاہیے ‘ یہ بہت بڑا مسئلہ اور المیہ ہے ہمارے ملک میں جب تک طوفان سر نہ اُٹھائے اور کوئی ڈنڈا حرکت نہ کرے اس وقت تک وہ سب کام نہیں کیے جاتے جو بہت پہلے کر لینے چاہیے تھے ‘ اب آئی ایم ایف کے دبائو پر نئی پیشن پالیسی کا نفاذ کیا جا رہا ہے ‘ جس پر عملدرآمد نئے مالی سال میں ہو گا ‘ ساری دنیا کی طرح سرکاری اداروں میں ملازمین کی معقول تنخواہیں ‘ مراعات بڑھاتے ہوئے پینشن کا رواج ختم ہو جائے گا ‘ اور ملک ایک بہت بڑے بڑھتے ہوئے مالیاتی بوجھ سے نجات حاصل کر لے گا ‘ تو ساتھ میں اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی ‘ سرکاری ملازمتوں کا نشہ بھی ختم ہو گا ‘ جس پر عملدرآمد سے پہلے ہی آزادکشمیر میں گیارہ سو سے زیادہ ملازمین کی طرف سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواستیں دینا نیک شگون ہے ‘ اب جبکہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور اس سے جڑے سات ممالک میں نئی پالیسی کے تحت سینما گھروں سمیت تفریحی مراکز کو کھولتے ہوئے خواتین کو پردہ کرنے کی پابندی سے آزادی دیکر ڈرائیونگ سے لیکر ملازمتوں تک کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ‘ وہاں ان ممالک میں رہنے یا روزی کمانے والے تارکین وطن ‘ شہریوں کو سالانہ کرایہ ‘ رہائش ‘ ویزہ سمیت دیگر ٹیکسوں کی مد میں کم از کم 10لاکھ سالانہ سرکار کو ادا کرنے ہوں گے ‘ یہ تارکین وطن شہریوں کو مار کر بھگانے کے بجائے مجبور کر کے بھگانے کا حربہ ہے جس کے بعد پاکستان بشمول آزادکشمیر کے ہزاروں لوگ واپس آئیں گے جس کا مطلب ہے سب ملکوں کی دوستی تعلق محض اپنے مفادات کیلئے ہوتاہے ‘ مطلب ختم ہو جائے تو دوستی بھی بے معنی ہو جاتی ہے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ملک وملت کے پالیسی سازوں کو مستقبل کی منصوبہ سازی کرنی چاہیے ‘

اپنا تبصرہ بھیجیں