سول ملٹری تناؤ کا حل کیا ہے، احمد بلال محبوب

سول ملٹری تناؤ پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم دہائیوں سے اس تناؤ کے ساتھ جی رہے ہیں اور فوجی حکومتوں کے چار ادوار دیکھ چکے ہیں۔ سول ملٹری تناؤ جو اب تک پسِ پردہ اور زیرِ زمین ہوا کرتا تھا، اب کُھل کر سامنے آ چکا ہے۔

ایک مثال آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی ٹوئیٹ ہے جس میں ‘ڈان لیکس’ کے متعلق وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کو مسترد کردیا گیا تھا۔ یہ فقید المثال اقدام تھا اور حکومت اور ریاست دونوں کے لیے ہی شرمناک بھی، کیوں کہ اس میں عوامی طور پر ایک منتخب سویلین حکومت کی بالادستی کو نیچا دکھایا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے فوج اپنی غلطی سمجھ گئی اور ٹوئیٹ ‘واپس’ لے لی، مگر اس نے تناؤ کو ایک نئی، بلند ترین سطح پر پہنچا دیا تھا۔

گزشتہ جولائی سپریم کورٹ کی جانب سے وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد سول ملٹری تناؤ اسی عوامی راستے پر چل رہے ہیں۔ پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ نے قومی معیشت پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات پر سخت ردِعمل دیا، اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے اکتوبر 2017 میں اپنی ‘مایوسی’ کا اظہار کرکے وزیرِ داخلہ سے حساب برابر کرلیا۔

حال ہی میں وفاقی وزیرِ ریلوے سعد رفیق کے بیانات نے 2017 کے آخری دنوں میں زبردست گرما گرمی اور تنازعے کو جنم دیا۔ ان کے الفاظ سے یہ تاثر گیا کہ آرمی چیف کے ماتحت ادارے وقتاً فوقتاً شرارت کرتے رہتے ہیں، بھلے ہی آرمی چیف کی بیان کردہ پالیسی جمہوریت کے حق میں اور سویلین حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ آئی ایس پی آر نے وفاقی وزیر کے بیان کو ایک نیوز کانفرنس میں ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دینا میں ذرا سا بھی وقت ضائع نہیں کیا۔

سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے تازہ ترین اور انتہائی اہم بیانات ملکی وزیرِ دفاع خرم دستگیر خان کی جانب سے کچھ دن پہلے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران آئے ہیں۔ پاکستان کے کسی وزیرِ دفاع کی جانب سے اتنا واضح انٹرویو شاید پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بے تکلفی سے سول ملٹری تناؤ کی موجودگی کا اعتراف کیا۔ انہوں نے سویلین حکومت اور ملٹری کے درمیان پاکستان کی افغان پالیسی پر اختلافات کا اشارہ دیا، اور جب ان سے وضاحت کا کہا گیا تو انہوں نے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان میں عدم مداخلت کی یقین دہانی طلب کرنے کا حوالہ دیا۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ اگر “عوام کا حقِ حاکمیت” قبول اور قائم نہ کیا گیا تو صرف اگلا الیکشن جیتنا لامعنی ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ دفاعی نظام کے سربراہ نہیں بلکہ صرف ایک سہولت کار ہیں جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب سنجیدہ اور حساس معاملے ہیں جن پر ماضی میں شاید ہی کبھی کسی وزیرِ دفاع نے عہدے پر براجمان رہتے ہوئے بات کی ہو۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، بشمول مسلم لیگ ن کے کئی سینیئر رہنماؤں نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ اب چیزوں کو قالین تلے مزید نہیں رکھنا چاہتے اور یہ کہ وہ عوام کو اعتماد میں لیں گے۔ کارگل جنگ کی اور دیگر مثالیں دی جا رہی ہیں جنہیں اگر کسی بھی موجودہ یا سابق سینیئر عوامی عہدیدار نے تسلیم کر لیا تو یہ ریاستی اداروں کے لیے نہایت شرمناک اور مجموعی طور پر ریاست کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گی۔

کچھ موجودہ یا سابق عوامی عہدیداروں کے حالیہ بیانات کے تجزیوں سے ایک تقریباً واضح مگر پریشان کن نتیجہ نکلتا ہے کہ سول ملٹری تعلقات ‘کھلی جنگ’ کے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک ریاستی اداروں، یا مقبول سیاسی جماعتوں اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس طرح کے تناؤ بڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتا، خاص طور پر تب جب ایک سپر پاور اور کچھ پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات تناؤ کا شکار ہو رہے ہوں۔

اصل سوال یہ ہے کہ بگڑتے ہوئے سول ملٹری تعلقات کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔ خوش قسمتی سے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پہلے ہی قومی سلامتی کمیٹی کو بحال کرنے کا ایک انتہائی ضروری اقدام اٹھا لیا ہے، جسے ایک مؤثر ادارے میں بدلنا چاہیے جس کی میٹنگز اگر ہفتہ وار بنیادوں پر نہیں تو ماہانہ بنیادوں پر ضرور ہونی چاہیئں۔

قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگز کو صرف کسی مخصوص مسئلے کے حل کے لیے نہ بلایا جائے؛ بلکہ ایک سال یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصے تک باقاعدہ میٹنگز میں ان بنیادی اسٹریٹجک اختلافات اور تناؤ کے ذرائع پر بات کرنی چاہیے تاکہ سویلین حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ طویل مدتی مسائل مثلاً ریاستی سلامتی کو ان خطرات کے دور میں یقینی بنانا جو کہ روایتی اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے، ان پر بھی بحث کرنی چاہیے۔ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی ایک متحد مؤقف کی تیاری کے لیے طویل مدتی تناظر میں بحث کرنی چاہیے۔

قومی سلامتی کمیٹی کو ایک دانشورانہ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ فیصلے مکمل آگاہی کے بعد ہی لیے جائیں۔ شروعات میں تو قومی سلامتی کمیٹی کے منصوبے میں ایک منصوبہ بندی کمیٹی اور ایک مشاورتی کونسل کی جگہ رکھی گئی تھی۔ ماہرین اور محققین پر مبنی ایک تھنک ٹینک کا تصور بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس ڈھانچے کو جلد از جلد بحال کرنا چاہیے۔

سول ملٹری تناؤ میں اہم بات فریقین کا وہ گمان ہے جو وہ ایک دوسرے کے متعلق قائم کیے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کو عموماً ایمانداری، اہلیت، گہری معلومات اور نظم و ضبط سے عاری سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاست دان ہمیشہ خود کے خلاف سازش کی بو سونگھتے نظر آتے رہتے ہیں۔ اسٹریٹجک معاملات کے لیے مختص قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگز میں ان چیزوں پر واضح اور بے تکلف انداز میں بات چیت ہونی چاہیے۔

آخر میں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ سول ملٹری اتفاق کی خواہش چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، مگر یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوگا۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو اس حقیقت کا معترف ہونا چاہیے کہ تمام جمہوریتوں میں یہ روایت ہے کہ منتخب سیاسی حکومت کے پاس ہی ہر معاملے پر فیصلے کا حتمی اختیار ہے۔ مگر سیاسی قیادت کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ انہیں سلطنت کے بادشاہوں کے طور پر منتخب نہیں کیا جاتا، بلکہ انہیں پارلیمنٹ میں وسیع تر مشاورت کے مرحلے کے ذریعے کام کرنا ہوتا ہے۔ کابینائیں فیصلہ سازی کا ایک اہم جزو ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ ایک جمہوری حکومت چلانے کے بنیادی اصول ہیں مگر لگتا ہے کہ ہم یہ بھول چکے ہیں جس کی وجہ سے اب ہم ان گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ سویلینز اور فوج سنجیدگی اور صبر کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کے ادارے کو استعمال کرتے ہوئے اس بڑھتے خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں۔ وزیرِ دفاع نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت ذاتی تعلقات کے ذریعے سول ملٹری تناؤ کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سول ملٹری تناؤ سمیت ریاست کے تمام مسائل کا حل صرف ادارہ جاتی انتظامات سے ہو سکتا ہے۔
لکھاری پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر ہیں۔ بشکریہ ڈان ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں