چھٹیاں اور ہماری طفلانہ حرکتیں بیتے دن، ڈاکٹر اشفاق احمد

بچپن کی یادیں: سرما ئی چھٹیاں اور ہماری طفلانہ حرکتیں
بیتے دن
ڈاکٹر اشفاق احمد

میں آج کل امریکہ کے ایک شہر میںرہائش پذیر ہوں۔ بچوں کی سرمائی چھٹیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ کرسمس کی چھٹی سے پہلے ہی امریکہ میں برف باری ہوئی ۔ ۲۵؍ دسمبر کوعلی الصبح میری اہلیہ نے کھڑکی کے باہر جھانکا تو دیکھا کہ کافی برف گری ہوئی تھی۔برف کے گالوںنے رات بھر ہر شئے کو اپنی سفید چادر میں لپیٹ لیا تھا۔ سڑکوں، گاڑیوں اور مکانوں کے چھتوں پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ بچے یہ دیکھ کر معصومیت کے عالم میں باغ باغ ہوگئے۔ وہ موسم خزان کی آمد سے ہی برف کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ہم نے ناشتہ کرتے ہی باہر جاکر برف سے کھیلنے کا ارادہ بنایا۔باہر جاکر بچوں نے خوب کھیل کود کی اور برف باری سے بے تحاشہ لطف اندوز ہوئے۔ اندر کمر ے میں واپس جاتے ہی چائے نوشی کرتے کرتے میں اپنے وطن مالوف کشمیر میںاپنے بچپن کے دن ، خاص کر تین چلّوں کویاد کرتے ہوئے گویا خیالوں میں کھو گیا۔
۸۰ء کے پورے عشرے میںمیری اسکولی تعلیم ہوئی اور میرا بچپن تعلیم و تربیت میں گزرا۔ہمارے سالانہ امتحانات اکتوبر کے مہینے میں ہوا کرتے تھے اور نومبر کے وسط میں نئے کلاس شروع ہوتے۔ سردیوں کی وجہ سے تعلیم ہلکی رہتی اور ہماری ساری توجہ سرمائی چھٹیوں پر مرکوز ہوتی۔ ماہ دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی اساتذہ ہمیں سرمائی کام یعنی ہوم ورک دے دیتے۔دسمبر کے وسط تک ہماری سرمائی چھٹیاں ہوتیں۔ جوں ہی پرنسپل صاحب چھٹیوں کا اعلان کرتے تو ہم خوشی سے اُچھل جاتے۔
میرے والد صاحب ایک سرکاری افسر تھے۔وہ ہر سال چھٹیوں کے آغاز میں ہی ہمیں اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے۔ ہمیں خوب محنت کرنے کی تلقین کرتے اور سرمائی تعطیلات کا بھر پور فائدہ اُٹھانے کی موثر وعظ ونصیحت کر تے۔ہم گھر کے سب بچے بھی جوش میں آکر مل جل کر ایک ٹائم ٹیبل تیار کرتے۔آٹھ سے نو تک سائنس، نو سے دس تک حساب، دس سے گیارہ تک انگریزی یا اردو، گیارہ سے بارہ تک تاریخ اور جغرافیہ ۔ دوپہر کے کھانے سے سہ پہر تک چائے تک آرام اور کھیل کود کاوقفہ۔شام کو عربی اور ہندی! ہم بڑے سے پرچے پر ٹائم ٹیبل تیار کرتے، اسے گتے پر چپکاتے اور دیوار پر لٹکاتے!چھٹی کے دوسرے دن سے ہی ٹائم ٹیبل پر پختہ عمل درآمد شروع ہوجاتا۔ہم چائے نوشی کرکے والد صاحب سے قران کی تعلیم لیتے ہی اپنے سامنے کتابوں اور کاپیوں سے بھرا ہوا بستہ سامنے رکھتے اور پڑھائی لکھائی کی شروعات کرتے۔ اسکولی کام کوسر انجام دینے کی ابتداء کرتے، نئے اسباق پڑھتے اور نئے مضامین اور محاوروں کو یاد کرتے۔پورا گھر ہماری بلند آوازوں سے گویاگونج اُٹھتا۔ یہ سلسلہ کم از کم ایک ہفتہ چلتا رہتا۔
اس دوران اپنے چچیرے بھائیوں اور محلّے کے بچوں سے شام کو ملاقاتوں کے دوران کرکٹ کھیلنے کی منصوبہ بندی کرتے۔اتوار کو عیدگاہ میں ،جب کہ باقی پورے ہفتے کو ہمارے گھر کے آنگن ، کسی ہمسایہ کے صحن یاارد گرد کسی بھی کھلے میدان، سڑک یا تنگ گلیوں میں یعنی ہر جگہ کرکٹ کے میچ کر نے ہیں! جوں جوں ہمارے کرکٹ میچوں کے زیادہ سے زیادہ دورانیے بڑھتے توں توں ہمارے ہوم ورک ٹائم ٹیبل میں بجلی شیڈول کی مانند بار بار کٹوتی ہوتی۔ غرض تعطیل کے دوسرے ہفتے سے ہی ہم اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے ہوم ورک ٹائم ٹیبل کی بینڈ بجاتے۔پانچ گھنٹے کا نظام الاوقات سمٹ کر مشکل سے دو ڈھائی تک سکڑ جاتااور ہم ہر سبجکٹ پر بہت زیادہ کھینچ تان کر کے آدھا پون گھنٹہ ہی صرف کرپاتے۔
ہمارے والد صاحب ساڑھے نو سے دس بجے تک روز دفتر روانہ ہوتے ۔ان کی روانگی کا ہم بچے بے صبری سے انتظار کرتے۔ دس ساڑھے دس بجے تک ہم چائے نوشی کی غرض سے کچن میں جاتے، اپنے پھرن اُتارتے اور والدہ کی نرم اور ملائم طبیعت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھر سے نو دوگیارہ ہوجاتے اور گلی کوچوں کو کرکٹ کا میدان بنا لیتے۔ البتہ کبھی کبھی اپنے صحن میں چچیرے بھائیوں کے ساتھ دن کے کھیل کی شروعات کرتے۔ بعد ازاں محلّے کے بچوں کے ساتھ دوسری جگہوں پرکرکٹ کے پے در پے میچ کھیلتے اور گیند بھلے سے اپنا دل پسند شغل برقرار رکھتے۔ ہاں ،والد صاحب اور چچا جان کے دفتر سے لوٹنے سے پہلے پہلے ہی ہم سب سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی کے مصداق اپنے بیگوںکے سامنے اس طرح نادم ہو کر چمٹ جاتے جیسے ہم کسی بہت بڑے جرم کرمرتکب ہوئے ہوتے۔والد صاحب ہمیں سبق پڑھاتے اور ہماری درسیاتی کمزوریوں پر اپنی ناخوشی کا بہت اظہار کرتے۔چچا جان دوسری طبیعت کے مالک تھے۔ وہ جونہی ہماری دن بھر کی مٹر گشتی کے بارے میں سنتے تو اپنے کمرے میں بلا کر ہمیں پہلے خوب ڈانٹتے پھر نصیحت کرتے کہ وقت کی قدر کرو۔ سرما میںجوں ہی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا اوربرف باری ہوتی تو کرکٹ کھیلنے کے ہمارے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ جاتے اور کھیل کود کے تمام منصوبے خاک میں مل جاتے۔البتہ ہماری مایوسی تب خوشی میں تبدیل ہو جاتی جب ہم سب بچّے مل کر’ ــ’ شنہ جنگ‘‘ ( برف کے گولے ایک دوسرے پر پھینکنے کی جنگ ) کھیلنے کی ٹھان لیتے۔ ہم گھنٹوں تک ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینکتے، برف پر پھسلتے یا پھر برف کے انسان اور مختلف چیزیںبناتے۔گویا ہم برف سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے۔ ہمارا یہ مشغلہ دوسرے بچوں کی طرح برف کے پگھلنے تک جاری وساری رہتا۔ بچپن کے ان مدھر میٹھے ایام میں شدیدسردیوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں اور پیر وں میں شہو لگ جاتا۔والدہ رات کو ہمارے پیر اور ہاتھ گرم پانی سے دھو لیتیں اور ان پرگلسرین کی مالش کرتیں، کھانا کھلاتے ہی ہمیںبھاری بھرکم بستر میں سلاتیں تاکہ گرمی سے ہماری یہ تکلیف دور ہو۔ البتہ کبھی کبھار بخار، سردی اور کھانسی لگ جاتی تو ہمیں والدین کی طرف سے بہت کچھ بر ابھلاسننا پڑتا اور کئی دن تک سرمائی تکلیف سے گلو خلاصی پانے کے لئے بستر میں سونا پڑتا۔ والد صاحب شام کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے جو کڑوی دوائیاں دے کر گویا ہمیں ہماری ’’غلطیوں‘‘ کی سزا ہمیں بھر پور انداز میں دے دیتے۔والد صاحب ہر سال خاصی مقدارمیں خالص شہد گھرلے آتے اور ہم پورے موسم میں اسے صبح صبح روٹی پر لگا کر کھا لیتے۔کسی اتوار کو ہر یسہ زعفرانی یا حلوہ کھانے کو مل جاتا۔ ہمارے نانا جی یا نانی جان جب بھی ہمارے یہاں آجاتے تو ہمارے لئے ضرور کالی دال کا بنا ’’مسالہ‘‘ یا تلے ہوئے مٹر لازماًلے آتے۔والدہ جب بھی باہر جاتیں تو اپنے ساتھ ضرور گرم گرم پکوڑے یا ’’منج گول‘‘لے آتیں۔ ندرو میں پکائی ہوئی مچھلی یا راجماش دال جس دن گھر میں پکتے تو ہم عشائیہ کا بے صبری سے انتظار کرتے۔
ہم شام کا وقت اکثر مسجد میں گزارتے۔ نماز ادا کرنے کے بعد تعلیم و تبلیغ کی کسی نہ کسی نشست میں شامل ہوتے۔ کبھی کبھار مسجد کے متولی ہمیں مسجد کے کسی نہ کسی کام میں لگا دیتے اور ہم سب بچّے اسے تفریح سمجھ کر پورا کر لیتے۔ کئی اوقات مسجد کے گرم حمام میںخاموشی سے بیٹھ کر بڑوں اوربزرگوں کی باتیں سن کر محظوظ ہو جاتے اور بعض اوقات لوگ مسجد کے حمام پر بیٹھے بٹھائے کسی مسئلے یا سوال پر ایک دوسرے پر جھگڑ پڑتے ۔اس منظر کا ہم بچے خوب مزہ لیتے۔
بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے گھر میں موم بتیوں، لالٹین یا کیروسین لائٹ کا کافی استعمال ہوا کرتا تھا ۔ ۹۰ء کے قریب پھر عام گھروں میں بیٹری کا استعمال ہونے لگا۔کیروسین کی کافی قلّت ہوا کرتی اور ہم کیروسین ڈیلر کی دوکان پر گھنٹوں انتظار کرکے راشن ٹکٹ پر تیل خاکی گھر خریدلاتے۔بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے ہمیں خاصا فیملی ٹائم ملتا۔ ہم پھرن تلے کانگڑی تاپ کر خوب ساری باتیں کرتے، گپیں ہانکتے۔ایسے میںکئی بار قہوہ نوشی بھی کرتے ۔ ریڈیو پر کوئی کشمیری ڈرامہ سنتے، کبھی کبھی چچا زادوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کو چٹکلے سناتے یا معمے حل کرتے۔چچا جان یا والدین کبھی کوئی مذہبی، سیاسی یا اپنی کوئی پرانی کہانی سنا کر ہمارے رات کا وقت بہت مزیداربناتے۔ رات کو بجلی آن ہوتے ہی سب واٹر بوتلوں میں گرم پانی بھر کرسونے کی تیاریاںشروع کرتے۔سردیوں کی شدت کم ہوتی تو آفتاب اپنا چہرۂ انور دکھاتا۔ دھوپ نکل آنے سے گھر کی چھتوں پر موجود بچا کھچا برف پگھلنا شروع ہو جاتا۔ یوںہر طرف سے ٹپکتے پانی کی گونج ہمیں اس بات کا پتہ دیتی کہ موسم سرما کی چھٹیاں عنقریب ختم ہونے والی ہیں۔ہم اچھے بچوں کی طرح کتابیںنکالتے اور دل لگاکر خوب پڑھائی کرتے تاکہ اسکول میں ڈانٹ ڈپٹ نہ پڑے۔ ہائے کہاں گئے وہ بے فکری کے دن ،وہ مزیدار راتیں اور حسین مناظر اور ہمارا بچپنا!!!
نوٹ :مضمون نگار کشمیر یونورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور آج کل امریکہ کی ایک یونورسٹی میں سائنس دان ہیں۔
ان سے.com ishfi@rediffmail پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں