اِمداد کُن دین،دُنیا شاد کُن ، سید محراب شاہ کاظمی

اِمداد کُن دین،دُنیا شاد کُن
تحریر:۔ سید محراب شاہ کاظمی

کون پڑھا رہا ہے کیا پڑھا رہا ہے کہ طالب علم دہشت گردی کی طرف مائل ہو رہے ہیں یہ ٹی وی ٹاک سُن کر اور نہ سہی مجھے حیرانگی ہوئی اس کے علاوہ پرائیویٹ کا تو خُدا ہی حافظ ہو گا دیگراں بھی ساری انگلیاں ہماری طرف ہی اُٹھائیں گے جب تک معاشرتی ہم آہنگی نہ ہو،معاشرہ مجبوراً حصول رزق کیلئے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے ہم نے ذاتی زندگی کو ہی سب سمجھ لیا جس کی وجہ سے ڈرون کی بیماری بھی شروع ہو گئی۔عبادت الہی کا نشہ اگر ”موڈ” ہی ہے تو پھر سڑکات بھی محفوظ نہیں روزانہ میڈیا دکھاتا ہے۔تاریخ دیکھیں میڈیا مادر پدر آزاد مسلمان یہود ونصاریٰ کی پسند ہیں اُن کی تہذیب،تمدن ان کو علم ہے کہ ہمارے لئے جنت یہی ہے مسلمان بھی یہی تصور کریں۔تاکہ ابلیس بھائی خوش ہوں۔یعنی مسلمان ہو کر بھی مسلمان نہ رہ سکے۔فرعونی کردار جو چلے گئے قیامت تک ان کو آتش دوزخ صبح وشام دکھائی جاتی ہے اور آخرت کو حکم ہو گا کہ سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ہر کوئی مست ذوق تن آسانی رہے۔تم مسلمان ہو یہ اانداز مسلمانی ہے حیدری فقر رہے دولت عثمانی ہے۔تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی رہے کیا بولتا ہی حلال وحرام کا تصور ہے،کیا فروٹ کی جملہ اقسام سے کچھ زبح ہوتی ہیں؟ مچھلی تو قدرت کی نشانیوں سے ہوئی کیا پولٹریز ککڑ بھی اس کی نشانیوں سے ہوئے نمائندگی،نمائندہ یا عوامی نمائندہ ان کے عزیز+رشتہ دار+تعلق دار یا انکے نمائندوں کے عزیز واقارب ان کے تعلق داربس یہی عوام ہوئے اور انصاف کے امیر ہوئے۔ویسے میڈیا دیکھتے ہیں مسلمانوں پر ظلم،اپنے بھی شاید ایسے ہیں ”پس لمبے بال اسی سال” پسینے میں خون مخلوق کا اپنے خون کا زخدا کا” لاچار،بے کار کر کے ولیوں کی پہچان پوچھتے ہیں جبکہ مسلمان کی پہچان ہی مشکل میں ہے بس اک گندم ہے جو ”ہم نہیں دیئے” وہ دیتے ہیں ہم دیتے ہیں ہم ریت ممنی مکس کر کے بھی گندم کی پہچان ختم نہ کر سکے یہ علیحدہ مسلہ ہے کہ گندم کا پاکستان اور آزاد کشمیر میں اپنی اپنی اقسام سے اپنی ہی قسمت اپنی پہچان۔
چھوٹا منہ بڑی بات
یہودو نصاریٰ شماری کوریا کیے پیچھے نہیں بلکہ اسلامی ممالک کو ڈرا رہے ہیں اگر ہم اسلام کا جھنڈا ہوش وخواص میں تھامے رکھیں گے تو غیبی مدد ہو گی بصورت دیگر شمالی کو ریا جنوبی کوریا ہو سکتا ہے ایک ہو جائیں چونکہ وہ مسلمان نہیں۔مسلمان کی ہر شکل یہود ونصاریٰ کو اس لئے دہشت گرد نظرآتی ہے کہ مسلمان ذاتیات میں دنیا داری کو ترجیح دے رہے ہیں اور ان کا تہذیب و تمدن اپنائے ہوئے ہیں اور انصاف کو ”کچھ” کے نیچے دبا کر جو بھی بات کرتے ہیں فر عونیت کا عنصر شامل ہوتا ہے اور ظلم کر کے فخر محسوس کرتے ہیں خُدا خیر کرے1950میں خوشی محمد ناظر کی نظم کا ٹکڑا دیکھا تو لکھا ہوا دیکھا اس سلطنت دے باولے چار،چاروں چوڑچیٹ،اور،رامو،پرتالو چھوتھا خوشیاجٹ علم نہیں انہوں نے کس کے بارے میں لکھا تھا۔مکان مقدس ہوتے ہیں جب ان میں رہنے والے بھی مقدس ہوں” ابھی چند دن پہلے اقتصادی ناکہ بندی کا کالم پڑھا۔وہ بھی حیران کن تھا۔وہ بھی پڑھتے ہونگے لیکن خوف خدا نہ ہو تو کیا ہو تو کیاہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کواپنی امان میں رکھے ”آمین ثمہ آمین” بصورت دیگر سیاست تو عجیب ہوتی ہے اسلامی سیاست کے بغیر چھ ماہ پہلے توڑ پھوڑ کرنے والے 9ماہ بعد انہی کے پاس معززین بن گئے کوئی تو دم کام کر گیا جس کی وجہ سے دعائیں۔دینے والے،کرنے والے سائیڈ کی لائن پر لگا دیئے گئے جو انتی لمبی ہو گئی کہ شام کی آزان تک نمبر ہی بے نمبر ہو گیا۔انصاف کی عمارات انصاف کے بغیر گرادی جاتی ہیں مگر دیر آئید درست آئید مرنا تو سب نے ہے بادشاہ مصر بھی مرا لیکن اس کی گستاغی پر اس کی لاش سب دیکھتے ہیں پھر بھی محمدۖ کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں حالانکہ نظام کائنات سے وہی ناواقف ہے جو دنیا میں ہی جنت،دوزخ رکھے بیٹا ہے اور بس مرتے ہی دنیا وہی سہولیات پھرلیگا
کی محمد سے وفا تو نے سب تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں
القمر۔٥٢۔ اور جو کچھ بھی انہوں نے کیا اعمال ناموں میں درج ہے
قلمر؛٥٣۔ اور ہر چھوٹا اور بڑا (عمل) لکھ دیا گیا ہے
بے شک بڑے لوگوں کی اکثریت نے قدار کو ساتھ رکھا ہوا ہے لیکن اس کا جواب بھول چکے انسانیت کا نا حق قتل پہلے کہتے تھے چرچا نہیں ہوتا اب تو ڈھول کی تھاپ ملا کر خرچہ بھی ہوتا ہے۔
یہود ونصاریٰ کہتے ہیں شراب جائیز ہے
اگر تمام انسان اس کو خوراک کے جیسا استعمال کریں گے
تو نکاح کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں