مزاحمت کی چمک ،فلسطینی لڑکی

سنگاپور ۔ایجنسیاں
سنگاپور میں حکام نے اسی ہفتے منعقد ہونے والے فلمی میلے میں فلسطینی کم سن کارکن عہد تمیمی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم دکھانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

اس فلسطینی لڑکی کو اسرائیلی فوجیوں نے گذشتہ ماہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک گاؤں سے دو اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ رسید کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر ابھری ہے۔

سنگاپور کے حکام نے ’’ مزاحمت کی چمک ‘‘ نامی اس فلم پر پابندی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہ یک طرفہ کہانی پیش کرتی ہے اور یہ سنگاپور کی کثیر نسلی اور کثیر مذہبی آبادی میں تقسیم کا موجب ہوسکتی ہے۔اس ڈاکومینٹر ی میں اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کو 16 سالہ عہد تمیمی اور ایک اور نوجوان خاتون کارکن کی نظر سے پیش کیا گیا ہے۔

سنگاپور کی اطلاعاتی ،ابلاغی میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’اس فلم میں توازن نہیں ہے۔اس کا یک طرفہ بیانیہ اشتعال انگیز ہے اور اس سے سنگاپور میں آباد مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد میں پائی جانے والی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے‘‘۔سنگاپور کی 33 لاکھ کی آبادی میں 15 فی صد نفوس 15 سال سے زیادہ عمر کے مسلمان ہیں۔

یہ دستاویز ی فلم جمعرات کو سنگاپور فلسطینی فلمی میلے میں دکھائی جانے والی تھی۔یہ 2017ء میں دنیا بھر میں مختلف فلمی میلوں میں دکھائی جاچکی ہے۔اس کو بلفاسٹ میں منعقدہ’’ احترامِ انسانی حقوق فلمی میلے‘‘ میں بہتر ین ڈاکومینٹری کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

لیکن عہد تمیمی کی گرفتاری کے بعد سے اس دستاویزی فلم کو موضوعاتی قرار دیا جا رہا ہے۔عہد پر گذشتہ سوموار کو ایک اسرائیلی عدالت میں اشتعال انگیز حملے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور اب ان کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی قانون کے تحت کسی فوجی پر حملے کے جرم میں قصور وار کسی بالغ کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن عہد تمیمی کم سن ہے ،اس لیے انھیں لمبی عمر کی قید کی سزا سنائے جانے کا کم امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں