ایک اور نیا سال ،طلعت حسین

ایک اور نیا سال
طلعت حسین

ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد ہم جانتے ہیں کہ 2018ء میں اصل چیلنج کیا ہوگا، لیکن اس بات پر توجہ اپنی جگہ پر اہم کہ مجموعی طور پر یہ برس کیسا رہے گا؟ پاکستان کے لئے یہ سال کیسا ثابت ہوگا؟ اس ملک کے بارے میں ایک ہی بات پورے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ اس کے بارے میںکوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔ تاہم تجسس کی تسکین کے بہت سے راستے ہیں۔ ہم گزشتہ بر س سے متحرک کچھ ا ہم رجحانات پر فوکس کرتے ہوئے قدرے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس اسلامی جمہوریہ کی قومی زندگی کا تعین کریں گے۔ پانچ منطقوں پر توجہ درکار ہے۔ ترتیب اتفاقی ہے، اہمیت کی حامل نہیں۔مستقبل کوسمجھنے کے لئے ان پر دھیان دینا ہوگا۔
دہشت گردی مقامی طور پر ہونے والی دہشت گردی ملک کو کئی لحاظ سے متاثر کرے گی۔ ماضی قریب میں ملک میں دہشت گردی کی شدت میں اتار چڑھائو دیکھنے میں آتا رہا ۔ قوم نے منظم دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی سینکڑوں کہانیاں سنیں۔ اس کے باوجود گزشتہ سال دہشت گردوں نے پاکستان بھر میں بہت کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ ہمارے کچھ داخلی مسائل میں غیر ملکی ایجنسیوں کا ہاتھ ضرور ہوگا لیکن دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی وضاحت محض سازش کی تھیوری سے نہیں ہوسکتی ۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ داخلی صورت ِحال ہمارے مکمل کنٹرول میں ہے تو ہمیں شہری علاقوں میں دہشت گرد اور خود کش حملوں کو روکنے میں کامیابی ملنی چاہئے تھی ۔
ملک میں کئی ایک اقسام، سائز، حجم اور جہت رکھنے والے فوجی آپریشنز ہورہے ہیں۔ ہر کسی کے ساتھ ’’عظیم کامیابی‘‘ کا لیبل جڑا ہوا ہے ۔ لیکن ہرنیا سال نیا چیلنج لے کر آتا ہے ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ 2018 ء ماضی کی نسبت مختلف ہوگا۔ خاص طور پر جب اعلیٰ ترین مناصب پر فائز افراد مسائل کو’’ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی عالمی سازش ‘‘ قرار دے رہے ہوں۔ چنانچہ ’’بہت اچھی کارکردگی ‘‘ کے خودساختہ نعرے گونجتے رہیںگے، اور ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہے گا۔
انتہا پسندی :انتہا پسندی میں اضافے کی فصل پک کر تیار ہوچکی۔ اسے دو خوفناک ندیوں نے سیراب کیا ہے۔ ان میں سے ایک بریلوی مسجد، مدرسے ، مزار اور ملا کو سیاسی حربے کے طور پرمیدان میں اتارناہے ۔ اس کامقصد پی ایم ایل (ن) کے پنجاب میں پر کترنا ہے ۔ اب دیوبندی ردِعمل بھی آئے گا۔ دوسری ایران اور سعودی عرب کی رقابت اور علاقائی بالادستی اور تزویراتی اہداف کے لئے ہونے والی جنگ ہے ۔دوسرے رجحان کے لئے آنے والے فنڈز اور سیاسی قوتوںکی طرف سے مسلکی دھڑوں کی حمایت پہلے رجحان کو تقویت دے گی۔ پرتشدد فرقہ واریت کے اظہار کے لئے سیاست کی آڑ لی جائے گی۔ چونکہ 2018 ء الیکشن کا سال ہے ، اس لئے مسلکی اختلافات کے شدت اختیار کرنے والے طوفان کو روکنے کے لئے اب کچھ نہیں کیا جاسکتا۔
جیسا کہ ہمارا پہلے بھی تجربہ رہا ہے، ایسی پیش رفت اُن کٹر اور انتہائی نظریات رکھنے والے دھڑوںکو فائدہ پہنچاتی ہے جنہوں نے جمہوری حقوق اور استحقاق کالبادہ اُڑھ رکھا ہے ۔معتدل مزاج فرقہ پرست عناصر (علمِ بیان کی صنعتِ تضاد کا استعمال کرناپڑرہا ہے) سامنے سے ہٹ جائیں گے۔ ان کی جگہ ملک میں سخت گیر بنیاد پرستی کے پھریرے اُڑتے دکھائی دیں گے۔ یہ صورت ِحال اداروں پر سخت ضرب لگائے گی ۔ برس ہا برس سے ہم نے کبھی کھل کر نہیں کہا کہ اہم ادارے کس حد تک مذہبی سرپرستی کی گرفت میں ہیں۔ 2018ء اس دکھاوے کو سخت آزمائش میں ڈال سکتا ہے ۔
سیاست:سیاسی میدان تلخیوں، ٹکرائو، مناقشے اور دنگل سے آباد رہے گا۔ صرف اس لئے کہ رواں سال انتخابات ہونے جارہے ہیں، نظام میںرچی بسی کدورت کی زہر ناکی، جس نے ملک کاایک طرح سے گلا گھونٹ دیا ہے، محض انتخابی سرگرمیوں سے تحلیل نہیں ہو جائے گی۔ بلکہ 2018 ء میں الزامات، چیخ وپکار، چنگھاڑ اور اب متعارف ہونے والی ننگی گالیوں کی ا سموگ سے فضا بوجھل رہے گی۔ عمران خان ہر قیمت پر وزیر ِاعظم بننے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح شہباز شریف بھی ۔ پھر بلاول بھٹو بھی ہیں۔ چنانچہ انتخابی نتائج پر سخت اعتراضات اُٹھیں گے۔ دھاندلی اور نتائج تبدیل کرنے کے الزمات کی بھرمار ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہار اور جیت زندگی موت کا کھیل بن چکی ہیں۔ انتخابات سے پہلے کے مراحل بھی آسان نہیں۔ سب سے خوفناک رکاوٹ انتخابی عمل کی نگرانی کے لئے کسی نگران حکومت کا قیام ہوگا۔انتخابات تک جانے والے راستے کا ایک ایک انچ پانی پت بنے گا۔
انتخابات کے نتیجے میں برائے نام اکثریت رکھنے والی ایک کمزور سی کولیشن حکومت وجود میں آسکتی ہے ۔ یہ بمشکل ہی ملکی مسائل سے نمٹنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ موجودہ صورت ِحال کے پیش نظر اگر کوئی پارٹی اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئی تو معجزہ ہی ہوگا۔نئی اسمبلیوں میں چھوٹی پارٹیاں راج کرنے کی توقع کرسکتی ہیں۔ ہم خادم حسین رضوی کو اسمبلی میں بھیجنے کا شرف حاصل کرسکتے ہیں۔ وہاں قوم اُن کے ملفوضات عالیہ سے مستفید ہوگی۔ 2018 ء کے اکھاڑے میں اُن جیسے اور بھی بہت سے ہوں گے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا حکم چلے گا۔ عدلیہ کی فعالیت منفرج رہے گی۔ آئین پرست اور مقبولیت پسند اپنا اپنا وزن مخالف سمت ڈالیں گے ۔ میڈیا جزوی طور پر آزاد بھی رہے گا اور پابند بھی ۔ اسے غیر اہم معاملات کو اچھالنے اور چسکا لگانے کی آزادی ہوگی، لیکن اہم معاملات کو زیر ِ بحث لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
معیشت:مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف 2018ء کے انتخابات کے لئے سیاسی سرمایہ سمیٹنے کے لئے 2017 ء کے دوران وسائل کا بے دریغ استعمال معیشت کے لئے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔ اس کی وجہ سے داخلی قرضے بڑھیں گے اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ درآمدات اور برآمدات ،اور حکومت کی آمدنی اور اخراجات میں ہوشربا فرق نے معیشت کی کمر توڑ دی ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے ابتدائی طور پر ہونے والے فائدے سے کشکول ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ نگران حکومت قائم ہونے کے بعد معاشی بہتری کے لئے درکار فیصلہ سازی کا عمل مزید جمود کا شکار ہوجائے گا۔
ہماری معیشت کی ملک کے کروڑوں غریب افراد کے لئے ملازمت کے مواقع پید اکرنے، دولت کی تقسیم کو یقینی بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی سکت روایتی طور پر غیرمتاثر کن رہی ہے۔ رواں برس بھی اس میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ یہ بڑی حد تک ’’فیصد کی معیشت‘‘ رہے گی۔ اس میں ہونے والی معمولی بہتری کو بھی گراف کے ذریعے اہم پیش رفت کے طور پر اجاگر کیا جاتاہے۔ کسی وسیع تر معاشی تصور(جو معاشی جمود سے نکلنے کے لئے نئی حکومت کو نئے سرے سے بنانا پڑے گا)کی غیر موجودگی میں نئے سال کے دوران بھی معاشی پتوار جزوقتی اقدامات کے ہاتھ رہے گا ۔
دفاع اور خارجہ پالیسی: افغانستان اور بھارت کی طرف سے ماضی کی طرح روایتی مسائل کا سامنا رہے گالیکن سب سے بڑا چیلنج امریکہ کی دھمکی اور بازو مروڑنے کے اقدامات ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ قدرے نرم لہجے میں سخت مطالبات کررہی تھی۔ وہ کھلی اور جارحانہ دھمکیوں پر اتر آئیں گے۔ ٹرمپ کی نئے سال کی ٹویٹ نےکسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں چھوڑی ۔ واشنگٹن پاکستان کے اندر کارروائی کرسکتاہے ۔ اس کے لئے وہ اسلام آباد کے خلاف عالمی سطح پرکوئی مذموم مہم چلاکر اپنی جارحیت کا جواز پیش کرے گا۔
یہاں ملک کے فیصلہ سازوں کے عزم کا امتحان ہوگا۔ پریس کانفرنسوں میں بولے گئے الفاظ اُس پریشانی کا مداوا کرنے کے لئے ناکافی ہوں گے جو واشنگٹن ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا کرسکتاہے ۔ اس نئے سال میں واشنگٹن ہمارے لئے سب سے بڑی پریشانی بنا رہے گا۔ اسی طرح عرب و عجم رقابت بھی ہمارے درپے رہے گی۔ اگر ہم 2017ء سے کوئی راہنمائی لینا چاہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 2018 ء میں یہ رقابت بڑھے گی۔ ہمارے لئے ایک غیر جانبدار ریاست کے طور پر رہنا ناممکن ہوجائے گا۔
چنانچہ 2018 ء مجموعی طور پر ایسا سال دکھائی دیتا ہے جس میں استحکام سے زیادہ اضطراب، حل سے زیادہ چیلنجز، سکون سے زیادہ تنائو ہوگا۔ اگرآپ سوچ رہے ہوں کہ تصویر اتنی تاریک کیوں دکھائی دیتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیاسال صرف کیلنڈر پر پلٹا جانے والا صفحہ ہوتا ہے ۔ یہ کاغذی تبدیلی گزشتہ برس اٹھائے گئے اقدامات کے نتائج تبدیل نہیں کرتی۔ آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔
بیان کردہ تشویش ناک معروضات کے باوجود جو افراد خوش ہونا چاہیں تو اُن کے لئے بھی آپشنز موجود ہیں۔ صبح کی نشریات دیکھیں، اُن کی شادیوں کی لامتناہی تقریبات کے مزے لیں، عمدہ لباس ،چکاچوند زیورات اور خوش باش مہمانوں کے دمکتے چہروں کو رنگیلی نوبہار سمجھیں۔ خوشی کی مزید طلب ستارہی ہو تو سرکاری پریس کانفرنس دیکھ لیں۔ یہ دو آتشہ حقیقت کے متبادل ایک ایسی محفل سجادے گا جس میں قدم رکھتے ہی آپ کو نئے سال کا دامن ہمکتے ہوئے امکانات سے بھرا ہوا ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں