تعلیمی پیکج کیس سیکرٹری تعلیم جیل منتقل

تعلیمی پیکج پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ، توہین عدالت کیس
سیکرٹری تعلیم کالجز شاہد محی الدین قادری کو دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیا گیا

مظفرآباد….تعلیمی پیکج پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی پاداش میں توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ آف آزادکشمیر نے سیکرٹری تعلیم کالجز شاہد محی الدین قادری کو دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیاجبکہ ڈی پی آئی کالجز افشاں نقوی کو تین بجے تک عدالت میں بطور سزا کھڑا رہنے کا حکم دیا۔بدھ کے روز تعلیمی پیکج پر عملدرآمد کے حوالے سے توہین عدالت کیس کی کارروائی،چیف جسٹس جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا ء کی سربراہی میں شروع ہوئی ،بینچ میں جسٹس سعید اکرم بھی شامل تھے عدالت نے سیکرٹری تعلیم سے عدالتی احکامات کے بعد تعلیمی پیکج بحالی کا نوٹیفکیشن طلب کیا جووہ پیش نہ کرسکے۔عدالت میں گزشتہ چار ماہ سے توہین عدالت کی کارروائی جاری تھی تاہم حکومت اور بیوروکریسی کی جانب سے مسلسل لیت ولعل اور آئندہ تاریخوں پر دستاویزات پیش کرنے کی یقین دہانی پر کیس طول پکڑتا تھا تاہم بدھ کے روز چیف جسٹس نے سماعت شروع ہوتے ہی مزید تاخیر نہ برداشت کرنے بارے ریمارکس دیے اور فوری طورپر نوٹیفکیشن طلب کیا ۔نوٹیفکیشن میسر نہ ہونے پر عدالت میں موجود سیکرٹری ہائیرایجوکیشن آزادکشمیرشاہد محی الدین قادری کو فوری طورپر گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دیا جس کے بعد حکومتی ہدایت پر شاہد محی الدین قادری کوسینٹرل جیل مظفرآبادبھیجنے کے بجائے احتساب حوالات تھوری گیسٹ ہائوس بھیج دیا گیا اور اسے سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔اس سے قبل گرفتاری کے بعد سیکرٹری حکومت دو گھنٹے احاطہ سپریم کورٹ میں واقع ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر میں موجود رہے جبکہ احاطہ عدالت میں ڈپٹی کمشنر مظفرآباد،ایس ایس پی ،ڈی ایس پی سٹی،ایس ایچ او تھانہ سول سیکرٹریٹ کے علاوہ بھاری تعداد میں پولیس نفری موجود تھی۔جبکہ ڈی پی آئی کالجز افشاں نقوی پانچ گھنٹے عدالت میں مختصر سزا پوری کرنے کے بعد روانہ ہوگئیں ۔توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد دو سرکاری آفیسران کو سزا کے بعد کیس کا فیصلہ سناد یا گیا۔قبل ازیں ہر دو آفیسران نے عدالت سے تحریری طورپر معافی بھی مانگی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں