امام مسجد یاور بشیرسپرد خاک

H
امام مسجد یاور بشیر کی5 بارنماز جنازہ، ہزاروں شہریوں کی شرکت
شرکائے جلوس جنازہ کی کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی
قاضی گنڈ ،نسو بدراگنڈ،لیو ڈورہ،میربازار ،ہابلش ،چوگام میں مکمل ہڑتال

سری نگر…جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ قصبے میں بھارتی فوج کے ہاتھوں امام مسجد سمیت 3 نوجوانون کی شہادت پر بدھ کے روز جنوبی کشمیر میں ہڑتال رہی اس دوران بھارتی فوج کے خلاف مظاہرے کیے گئے ۔ شہید نوجوانوں فرقان، ماویہ اور یاور بشیر ساکن حبلش کولگام کے نماز جنازہ میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی ۔ یاور بشیر کو صبح اپنے آبائی گاوں ہبلش کولگام میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ انکی نمازہ جنازہ 5 بار پڑھائی گئی۔اس موقع پر شرکائے جلوس جنازہ نے کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ یاور بشیر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ سرینگر میں دارلعلوم بلایہ میں زیر تعلیم تھا اور انہوں نے 17سال کی عمر میں اسی سال قرآن حفظ کیا تھا جس کے بعد وہ درگاہ حضرتبل علاقے میں کسی مقامی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتا تھا۔اسکا والد محکمہ جنگلات میں فارسٹر کے عہدے پر تعینات ہے۔ یاور کی تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔اس نے رواں برس کے فروری میں ایک پولیس اہلکار سے ہتھیار چھین کر لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مسلح تصادم کے مقام سے فرار ہونے والے ایک کو ضلع اننت ناگ کے ایک اسپتال سے گرفتار کیا گیا،وہ زخمی حالت میں تھا۔ گرفتار شدہ کی شناخت حمزہ پورہ سنگم بجبہاڑہ کے رہنے والے رشید احمد کے بطور کی گئی ہے۔ اس کے قبضے سے چینی ساخت کا ایک پستول برآمد کیا گیا ۔ بتایا جارہا ہے کہ رشید نے محض دو دن قبل ہی یاور گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔مارے گئے نوجوانوں کی شہادت کے خلاف قاضی گنڈ ،نسو بدراگنڈ،لیو ڈورہ،میربازار ،ہابلش ،دیوسر ،پہلو ،زنگل پور ،کیلم اور چوگام میں مکمل ہڑتال رہی جس سے معمول کی زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔اس بیچ نسو بدراگنڈ اور لیوڈورہ میں دن بھر مشتعل افراد اور فورسز اہلکاروں کے بیچ پر تشدد جھڑپیں ہوئی جس دوران فورسز اہلکاروں نے مشتعل افراد کو منتشر کر نے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔پر تشدد جھڑپوں کے سبب سرینگر جموں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدروفت میں خلل پڑا ۔اس دوران منظور احمد ماگرے ولد گل محمد ساکن بدراگنڈ ٹانگ میںگولی لگنے سے زخمی ہوا ۔ جس کو علاج معالجہ کے لئے برزلہ اسپتال سرینگر میں داخل کیا گیا۔اسکے لواحقین کے بتایا کہ وہ کام سے گھر آرہا تھا جس کے دوران پولیس نے اسے گولی مار دی۔احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر چلنے والی تمام ٹرینیں منسوخ کرائی تھیں۔
#/S

اپنا تبصرہ بھیجیں