پروفیسر بھٹ کی دنیشور شرما سے ملاقات

پروفیسر عبدالغنی بھٹ کی بھارتی مذاکرات کار دنیشور شرما سے ملاقات
میں کسی سے ملوں گا تو اسے چھپاؤں گا نہیں بلکہ عوام کے سامنے لاؤں گا
مناسب وقت پر سچائی بیان کروں گا۔ سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ

سرینگر.. میڈیا رپورٹس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے بھارتی مذاکرات کار دنیشور شرما سے ملاقات کی ہے۔ ریاستی اخبار کے مطابق پروفیسر بھٹ نے بھارتی مذاکرات کار سے مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ وہ مناسب وقت میں اس مسئلے پر اظہار خیال کریں گے میں مناسب وقت پر سچائی بیان کروں گا۔ میں سچ بولنے سے کبھی بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ پروفیسر بھٹ نے کہا کہ اگر میں کسی سے ملوں گا تو اسے چھپاؤں گا نہیں بلکہ عوام کے سامنے لاؤں گا۔ بھارتی مذاکرات کار دنیشور شرما سے ملنے کے لئے تیار ہوں اور میرے خیال میں مشترکہ آزادی پسند قیادت بھی بات چیت کے حق میں ہے۔ میرا آزادی پسند قیادت سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی’ میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے بھارتی مذاکرات کار سے کسی بھی طرح کی بات چیت کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ پروفیسر بھٹ نے کہا کہ اصولی طور پر مشترکہ آزادی پسند قیادت بھی بات چیت کے حق میں ہو۔ بات چیت سے راستے نکلتے ہیں۔ بات چیت کے بغیر ہم کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ مولوی ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا ہے کہ حریت کانفرنس ایگزیکٹو کونسل کے رکن پروفیسر عبدالغنی بھٹ کی بھارتی مذاکرات کار دنیشور شرما سے ملاقات کا انہیں کوئی علم نہیں ہے نہ ہی پروفیسر بھٹ نے انہیں اس سے آگاہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ پروفیسر بھٹ دنیشور شرما سے ملے ہیں یا نہیں۔ مجھے ملاقات کے بارے میں آگاہ بھی نہیں کیا گیا اگر پروفیسر بھٹ بھارتی مذاکرات کار سے ملے ہیں تو انہیں مشترکہ آزادی پسند قیادت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے تھا۔ میر واعظ نے کہا کہ مشترکہ آزادی پسند قیادت بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت چاہتی ہے جس کا موضوع مسئلہ کشمیر ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان’ بھارت اور کشمیری قیادت پر مشتمل سہہ فریقی مذاکرات ہونے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں