کنن پوشپورہ آبروریزی کیس سپریم کورٹ میں

کنن پوشپورہ آبروریزی کیس:26 سال بعد بھارتی سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
مقبوضہ کشمیر حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
بھارتی فوج نے 1991ئکنن پوشپورہ میںتیس کشمیری خواتین کی آبروزیری کی تھی
کنن پوشپورہ کیس چلا مگر کسی فوج کو سزا ہوئی اور نہ ہی متاثرہ کی دادرسی ہو سکی

نئی دہلی..بھارتی سپریم کورٹ نے تیس کشمیری خواتین کی بھارتی فوج کے ہاتھوں آبروریزی کے مقدمہ کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔بھارتی فوج کی راجپوتانہ رائفلز اور 68 مائونٹن بریگیڈ نے 23اور 24 فروری 1991ء کی رات کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوشپورہ کا محاصرہ کر لیا تھا دوران محاصرہ فوجی اہلکار لوگوں کے گھروں میں داخل ہوئے مردوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ بلا امتیاز خواتین کی آبروریزی کی گئی ۔آبروریزی کے اس مقدمہ نے عالمی شہرت حاصل کی۔ریاستی انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقات کیں۔مقدمات چلے تاہم کسی فوجی کو عدالت نے پیش کیا گیا نہ اسے سزا دی گئی۔بعدازاں مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ چلا ۔مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کے بعد مقبوضہ کشمیر حکومت کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ تیس خواتین کو معاوضہ ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر حکومت متاثرہ خواتین کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے چنانچہ ہائی کورٹ میں مقبوضہ کشمیر حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے دفعہ 545-A سی آر پی سی کے تحت معاوضہ نہیں دیا جا سکتا اس کے باوجود ہائی کورٹ نے تیس خواتین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔مقبوضہ کشمیر حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ کی جسٹس جے چلمسار اور سنجے کش کور نے مقبوضہ کشمیر حکومت کی اپیل کی ابتدائی سماعت کی۔ابتدائی سماعت کے بعد اپیل کو سماعت کے لیے باقاعدہ منظور کر لیا گیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں وزارت دفاع اور دوسرے اداروں کو نوٹسز بھی جاری کر دیئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں