کشمیر کی محبت سے لبریز دل خاموش

کشمیر کی محبت سے لبریز دل خاموش

ششی کپور ممبئی میں انتقال کر گئے


بلال فرقانی
 معروف فلمی اداکار ششی کپور79 برس کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کشمیر سے مناسبت رکھنی والی فلم’جب جب پھول کھلیں‘اور ’کالی گھٹا‘ سمیت 116ہندی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔’ ’ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل‘‘ کا شعر ششی کپور پر اس قدر ہاوی تھا کہ عمر بھر یہ ان کے ساتھ جڑ گیا۔ششی کپور ایک ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے،جن کی فلم نگری میں اپنی ایک خاص پہچان تھی۔معروف اداکار اور ہدایت کار پرتھوی راج کپور کے سب سے چھوٹے بیٹے ششی کپور کا کشمیر سے خاص لگائو تھا۔معروف براڈ کاسٹراور شاعر فاروق نازکی کا کہنا ہے کہ ششی کپور کے رگوں میں کشمیر کی محبت لبریز تھی اور وہ جب بھی کشمیر آتے تھے،اس کا والہانہ اظہار بھی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب جب پھول کھلیں کی شوٹنگ کے دوران انکی ملاقات ششی کپور سے پہلی بار ہوئی،اور بعد میں یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔انہوں نے کہا’’معروف ہوٹلر نذیر احمد بخشی کی وساطت سے میری ملاقات ششی کپور سے ہوئی،اور وہ اس قدر حلیم،نرم طبعیت،نرم گفتار اور زندہ دل انسان تھے،کہ جو ایک بار ان سے ملتا کھبی ان کو فراموش نہیں کرتا‘‘۔فاروق نازکی نے فلم جب جب پھول کھلیں ،پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم جموں کے ایک قلم کار برج کتال نے تحریر کی تھی،اور ان سے میرے دوستی تھی،جو ششی کپور سے ملاقات کا ایک اور موجب بن گئی۔انہوں نے کہا ’’کپور اس قدر اپنے کردار میں ڈھل گئے تھے کہ فلم شروع ہونے سے قبل ہی وہ کشمیر آئے ،اور یہاں کی تہذیب اور رہن سہن کے بارے میں جاننے لگے،حتیٰ کہ وہ از خود جامع مسجد سرینگر تنہا جاتے تھے، جہاں پر دیکھتے تھے کہ کشمیری ٹوپیاں اور دیگر ملبوسات کس طرح خرید و فروخت کی جاتی تھیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہاوس بوٹ میں بھی انہوں نے کئی دن گزارے اور اس دوران ہاوس بوٹ والوں کے رہن سہن کو جاننے لگے،جو فلم کو ہٹ کرنے میں ایک بڑا وسیلہ ثابت ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ فلم جب جب پھول کھلیں میں’’جھیل ڈل کی خاموشی،دریائے جہلم کی مدھر رفتار اور باغ باغات کی مسکراہٹ تھی۔ فاروق نازکی کے مطابق کشمیر پر دوسری فلم ششی کپور کی کالی گھٹا تھی،جن میں ان کے ہمراہ ریکھا تھی،تاہم اگر چہ یہ فلم زیادہ ہٹ ثابت نہیں ہوئی،تاہم اس کو بھی بہتر انداز میں بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ فلم کو جموں سے تعلق رکھنے والے قلم کار وید راہی نے نہ صرف تحریر کیا تھا،بلکہ اس کے ہدایت کار اور پیش کار بھی وید راہی تھے،اور جموں سے تعلق رکھنے والی ایک معروف خاتون قلم کار نے اس کے گانے بھی لکھے تھے۔فاروق نازکی کے مطابق1949میں پرتھوی راج کپور نے تھیٹر میں ایک ڈرامہ ’’پٹھان‘‘ کیا تھا،جس میں بلراج سہانی بھی تھے،جبکہ ششی کپور نے اس میں ایک بچے کا رول ادا کیا تھا۔ شیشی کپور کو اپنی بے باک اداکاری کے صلہ میں حکومت ہند نے2011میں پدم بھوشن اور2015میں سب سے بڑے فلمی اعزاز دادا صاحب پالکی ایوارڈسے نواز اتھا،جبکہ اس سے قبل انکے خاندان میں ان کے والد پرتھوی راج کپور اور برادر اصغر راج کپور کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ شیشی کپور نے1961میں بطور ادا کار فلم دھرم پتر سے شروعات کی تھی۔
kashmir Uzma

اپنا تبصرہ بھیجیں