جیل ڈائری،صوفی غلام رسول سرینگر

مجاہدؔ کی جیل ڈائری
سلاخوں کے پیچھے مظالم شدائد
صوفی غلام رسول سرینگر

حال ہی میں انجینئر محمد یوسف بٹ المعروف مجاہد کی ایک اہم کتاب’’ جیل ڈائری۔۔۔ ۱۹۶۸ء تا۱۹۶۹ء‘‘ منظر عام پر آگئی ۔ جیل میںزندگی کا کوئی حصہ گزارنا اکثران لوگوں کی بد نصیبی ہوتی ہے جو کسی دیوانی یا فوجداری جرم کا ارتکاب کرتے ہیں یا ان پر ایسا کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے۔ان کی زندگی مشکلوں ، اذیتوں ، عبرتوں سے لبریز ہوتی ہے لیکن زندان کی چار دیواریوں کو جلّاــبخشنے والاایک طبقہ اور بھی ہوتا ہے۔یہ طبقہ بنی نوع انسان کے وہ چیدہ چیدہ اور برگزیدہ نفوس ہوتے ہیںجو حق پرستی اور عزیمت کی شمعیں جلانے کے لئے بارگاہِ ایزدی سے گویا منتخب کیٔ جاتے ہیں کہ تاریخ کا دھارا موڑ دیں ۔یہ باہر کی آزادی اور رواں دواںزندگی کو زندان کے حوالے اس لئے کردیتے ہیں تاکہ اپنے خلوص بھرے جذبات کی لاج رکھتے ہوئے خوابوں کی تعبیر کو عملی جامہ پہنا ئیں اور باطل اور غاصب قوت کے سامنے حق و صداقت کی آواز بلند کریں۔یہ آواز دینے والے یا تو اعتقاد و ا صول کے لئے وقف ہوتے ہیں یا اپنے قومی اور وطنی تشخص کی بقاء کے لئے اپنی سانسوں کو زندان کی گھٹن پر نچھاور کرتے ہیں۔ان کا ضمیر حقوق طلبی اور وعدہ خلافی پر خاموش نہیں رہ پاتا ہے بلکہ تبدیلی ٔنظام کی بابت یہ آمادہ ٔ بغاوت ہوجاتے ہیں۔
ایںسعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
بہت سی اقوام اور انسانی طبقات ان قدسی نفوس سے بھرے ہوتے ہیں۔ہماری ریاست بھی ماضی ٔ بعید یعنی ۱۸۶۴ عیسوی سے اب تک زندان اور عقوبت خانے اپنے مکینوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کئی ایک حساس دل اور قلم کے دھنی قیدیوں نے اپنی اسارت کے دروان شب و روز کی داستانیں رقم بند کر کے شہ کار زندانی تصنیفات منصہ شہود پر لائی ہیں ۔ حسب توقع ہماری ریاست کے اسیران زندان نے اس بارے میں بہت کنجوسی دکھائی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اس ریاست کے قد آور لیڈروں نے جیل کی دہشت ناکیاں سالہا سال نہیںجھیلیں ـ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ لیڈر شپ تعلیم کے زیور سے نا بلد تھی یا اپنی رُوداد اور سرگزشت دوسروں تک پہنچاننا کسر شان سمجھتی تھی لیکن لگتا ہے کہ ان کو قلم و قرطاس سے طبعاً دوری تھی ، بلکہ سچ کہئے انہیں اس سے رقابت تھی۔ شاید جیل میں مرغبانی کا شوق پورا کرنااور اس کے حقیر فوائدسمیٹنا ہی ان کامطمح ٔزندگی تھا نہ کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’غبار خاطر‘‘ اور پنڈت نہرو کی Discovery of Indiaجیسے شاہکار وں کی تخلیق ۔یہی وجہ ہے کچھ اور نہ سہی انہیں جیل کا روزنامچہ لکھنا بھی نصیب نہ تھا۔ بنابریںسورگیہ پریم ناتھ بزاز کا یہ تجزیہ کہ کشمیر کے حق میںA literate illiterateیعنی پڑھی لکھی نا خواندہ قیادت نصیب ہوئی ‘ موزون نظر آتا ہے۔دُکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ علم و ادب سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد سعید مسعودی مرحوم بھی اس قوم کےلئے دو سطری رودادِ قفس اپنی جیل کے دوران نہ لکھ پائے۔اس بحرظلمات میں اگر کہیں سے ایک نحیف اور ٹمٹماتی شمع روشن ہوتی نظر آتی ہے تو وہ ایک ناپختہ جونیئرانجینئر محمد یوسف بٹ المعروف مجاہد کے ہا تھوں منـور ہوئی ۔ مجاہد صاحب اپنی ملازمت میںترقی کرتے کرتے چیف انجینئر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
۱۹۶۰ء عیسوی کی پہلی دہائی بر صغیر بشمولِ جموں و کشمیر کے لئے تاریخی اعتبار سے بہت اہم رہی ہے۔اس دہائی کی ابتدأ میں ہی بھارت اور عالمی سیاست پر نئی اُبھرنے والی طاقت چین کے درمیان سرحدی تنازعات کو ہوا ملی جو چلتے چلتے ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی جھڑپوں کی صورت میں نمودار ہوئی ۔اس جنگ میں چینی فوج نے انڈین آرمی پر اپنی برتری کی دھاک بٹھادی۔نہرو جو ابھی تک مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور روس کی قیادت میں کمیونسٹ نظریاتی یلغاراور کشمکش میں اپنے آپ کو غیر جانبدار اصولوں کا علمبردارسمجھ کے عالمی سیاست پر اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے‘ طلسماتی دنیا کے حصار سے نکل کے حقیقت کی دنیا میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور امریکہ اور اس کے حلیفوں کی پناہوں میں آ کے چین کے ہاتھوں اپنی شکست کے داغ دھبے دھونے کے واسطے کاسہ لیس ہوگئے۔پاکستانی فوج کا ایک طبقہ اس بات کی وکالت کرنے لگا کہ کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔امریکہ اور اس کے حلیفوں نے بھانپ لیا کہ ایک اور پیروکار اُن کی جھولی کا زینت بن گیا۔ امریکہ اپنے نئے حلیف کو اپنے پرانے حلیف کی حریصانہ نگاہوں سے بچانے کے لئے منہمک ہوا اور پرانے حلیف کو یقین دلایا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے گا۔ اس طرح نہرو بات چیت پر’’ آمادہ‘‘ ہوا اور بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کا آغاز ہو اجو اصلاً وقت ٹالنے کا بد دیانتی پر مبنی ڈرامہ تھا۔بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا اور کشمیر میں آتش فشاں پھوٹ پڑا۔ ۶۴۔۱۹۶۳ ء میں کشمیر کے طول وعرض میں موئے مقدّس کی بازیابی کی ایجی ٹیشن شروع ہوئی جو مرحوم صادق کی تخت نشینی اور آخر پر شیخ محمد عبداللہ اور ان کے رفقاء کی رہائی پر منتج ہوا۔ نہرو نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک اور حربہ آزمایاکہ قدآور لیڈر کو پاکستان جانے دیا لیکن بد نیتی پر مبنی اقدامات کو دوام نہیں ملتا۔ ۱۹۶۴ ء سے ۱۹۶۵ ء تک نئی بھارت سرکار نے نئے دائو پیچ کھیلنے شروع کئے جس کا منفی اثر ۱۹۶۵ کی جنگ کی صورت میں نکلا‘ اس کے ساتھ ہی کشمیر ی نو جوانوں میں جمی ہوئی برف پگھلانے کے لئے مختلف الائو جلانے کی چاہت اور اُمنگ موجزن ہونے لگی۔اگست؍ستمبر ۱۹۶۵ ء کے دوران سرینگر کے دو مقتدر تعلیمی ادارے ریجنل انجیئنرنگ کالج اور میڈیکل کالج اس برف کو پگھلانے کے لئے آتش فشاں کی طرح پھٹ گئے۔ طلباء کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ایک جم ِغفیر سرینگر میں یو این فوجی مبصر آفس کے باہر جمع ہو کے کشمیریوں سے کئے گئے بین الاقوامی سطح پروعدے نبھانے کے لئے آتش ِزیر پا ہوئے۔ سرکاری حکام نے کئی زیر زمین عناصر کو ان مظاہرین کا ذمہ دارقرار دیااور ان کی پکڑ دھکڑ شروع کی۔ان سینکڑوں طلباء کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی بھی ایک خاصی تعداد پکڑ دھکڑ کے ہتھے چڑھ گئی جو بعدازاںنوکریوں سے نکالے گئے اور عقوبت خانوں کی زینت بنائے گئے۔ان ہی محبوسین میں انجینئر محمد یوسف بٹ المعروف مجاہد بھی شامل ہیں جو ۱۰؍نومبر ۱۹۶۵ء کو اپنے دفتر سے گرفتار ہوکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئے گئے۔زیر نظر ڈائری انہی حالات اور واقعات پر مبنی ایک بپتا ہے جن سے موصوف قیدی انجینئر کو گزرپاپڑا۔
اس جیل ڈائری کے دو حصے ہیں :پہلا حصہ ۱۰؍ستمبر۱۹۶۶ء سے شروع ہو کر ۲۰ ؍جنوری۱۹۶۷ ء تک کی داستان پر( جب قیدی پیرول پر رہا ہو کرگھر پہنچے) مشتمل ہے۔یہ حصہ زیادہ اہم ہے۔ اس حصے میں قید و بند کے شب و روز اور قید کی اذیتیں‘ ذہنی تشددّ اور بقول مصنف جیل انتظامیہ کے ـ’ــــ ’ حیوانی برتائو ‘‘ پر مبنی ہے۔ اسی طرح کچھ قابل ذکر لیڈران کرام جو اُس وقت مجاہد صاحب کے ساتھ جیل میں تھے ‘ ان کے جیل میںکوائف و حالات اور سہولتوں کا ذکر بھی ہے ۔ ان کی منافقانہ سیاست سے بھی مصنف بڑے نالان ہیں جس کا ذکر انہوں نے واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔ایک منصف مزاج قاری اور اپنے مادرِ وطن سے محبت رکھنے والا نوجوان جب منتظمین جیل کا برتاؤ ان بے بس قیدیوں پرپڑتا ہے تو اس کا خون کھول اٹھتا ہے۔خاص کر اس دور کے سنٹرل جیل سری نگرکے سپرانٹنڈنٹ ( نام لکھنا مناسب نہ رہے گا ) کا متکبرانہ اور ہتک آمیز روّیہ ان معصوم قیدیوں کے ساتھ بہت برا تھا جو اپنے کسی ذاتی مقصدکی وجہ سے مصائب ومشکلات کا ناگفتہ بہ سلسلہ جھیلنے کیلئے جیل میںنہ تھے، یہ کہانی پڑ ھ کر قاری کا خون کھولنا لازم وملزوم ہے۔ مصنف نے اس وقت کے جیل کے اعلیٰ آفیسر کے ساتھ ایک ایسی متعصبانہ، مغرورانہ ،‘ تحکمانہ اور اہانت ِدین والی بات منسوب کی ہے جو بر صغیرمیں ( کشمیر کے بغیر ) کسی بھی جذباتی مسلمان کے سامنے کہی جائے تو کہنے والے کو جان کے لالے پڑیں گے۔شکر ہے کہ کشمیری مسلمان اب بھی مقابلتاًتحمل مزاج ہے چونکہ یہ بات جیل سپرانٹنڈنٹ سے منسوب ہے‘ اس لئے میرے لئے ناقابل یقین ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ قید کی سختیوںکی وجہ سے ایسی بات لکھنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہوگا لیکن بازار کی باتوں سے جن کی جانچ پڑتال کے بعد میں نے قلم اٹھانے سے پہلے اپنی حد تک تحقیق کی ہے ‘ مصنف کی حق گوئی کی تصدیق ہوتی ہے۔ ہر ایک سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی کو انجام دینے کے لئے ذمّہ دار ہوتا ہے۔اگر کسی ملازم کو کسی شخص کو قانون اور آئین کے مطابق جیل بھیجنا پڑے گا اوراس کے ساتھ جیل مینول Jail Manual )کے تحت اپنا روّیہ نرم وگرم رکھنا پڑے گا تو یہ اس کے لئے جائز ہے لیکن اگر اسٹور کیپر ‘ قیدیوں کے لئے خرید و فروخت کرنے والا حوالدار اور قصاب جو قیدیوں کے لئے گوشت فراہم کرے‘ وہ بد دیانتی اور بے ایمانی سے بے بس قیدیوں کے راشن پر بھی ڈاکہ ڈالتا ہے ‘ تواس سے بڑھ کر بد دیانتی اور کیا ہوسکتی ہے ؟؟؟ ایسے حضرات اگر ریٹائرمنٹ کے بعدمسجدوں میں شب و روز ڈیرہ بھی ڈالیں‘ مصلیٰـ اورتسبیح کی زینت سے چمٹے رہیںتو کیا روز محشر اُن کو اللہ کی عدالت میں بخشا جائے گا ؟؟؟کیا یہ انتہائی ظلم نہیں ہے کہ حوالدار دن کے ڈیڑھ بجے سبزی یا گوشت خرید کے قیدی کو دیتا ہے اور پھر سات بجے شام خاکی تیل فراہم کرتا ہے۔۔۔یہ اپنی ذمہ داریوں سے سرا سر بددیانتی ہے جس سے وہ فرض شناس ذمہ داران بھی لوگو ں کی نظروں سے گرجاتے ہیں جو جیل مینول کے تحت کام کرتے ہیں۔اسی طرح خفیہ محکمہ کے اس وقت کے آفیسران اور جونیئرکارندوں کی اپنی ڈیوٹی اَحسن طریقے سے انجام نہ دینے پر بھی مصنف نالان ہیں۔ خفیہ محکمہ کے کارندوں پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ ایمانداری اور احساس ِ ذمہ داری سے پیش کریں نہ کہ کسی خانہ پُری اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت وشواہد کے۔۔۔۔۔کیونکہ ایسا کرنے سے کئی بے گناہ زندان کی کال کوٹھریوں کے حوالے ہوسکتے ہیں۔ غالبؔ جیسے شاعر کو فرشتوں سے شکایت ہے کہ ہم روز محشر ان کی رپورٹنگ کے باعث ہی پکڑے جائیں گے ؎
پکڑے جائیں گے فرشتوں کے لکھے پہ نا حق !
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
مصنف ہم جیسے کروڑوں انسانوں کی طرح غریب خاندان میں پرورش پائے ہیں ۔ان کو ہر وقت والد کے شفقت کی کمی کا احساس ڈستا رہا‘ جن کا انتقال ان کے بچپن میں ہی ہوا تھا، اور بچپن اورجوانی میں بھی عیش و طرب سے تہی دامنی کا زبردست احساس لگا رہا۔انسانی فطرت کی جولانیاں ڈائری کے اوراق میںاپنی جوبن پر ہیں ‘ جب بھی زندان کے کسی ساتھی کو رہائی ملتی ہے ‘ مصنف کا من مچلنے لگتا ہے کہ کاش اس کی رہائی بھی دور نہ ہولیکن جب بات نہیں بنتی ہے تو مایوسیوں اور نومیدیوںکے گہرے بادل کی چادریں اپنا سایہ ان پر ڈالتی ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے ۔جیل کی جو سختیاں ‘ جائز سہولیات کافقدان ‘ گندگی کے انبار ‘ ان سب کا اگر احساس کرنا ہو تو اس ڈائری کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔مصنف اس بات سے بھی دل برداشتہ ہیں کہ جیل کی اعلیٰ انتظامیہ خال خال ہی ان باتوں کا نوٹس لیتی ہے۔
انہوں نے صادق حکومت کے ایک سکھ وزیر سردار ہر بجن سنگھ کے دورۂ جیل کا تذکرہ کیا ہے۔ہم نے کبھی یہ نہ پڑھا ہے یا سنا ہے کہ مین سٹریم والی حکمران جماعت کے کسی انچارج وزیر جیل نے کبھی جیل کادورہ کیا ہو اور یہ دیکھا ہو کہ قیدیوں کووہ سہولیات مہیا ہورہی ہیں جو کہ قواعد و ضوابط کے تحت ان کو ملنی چاہیں۔کیا آج کا کوئی وزیر باتدبیر ان باتوں کی طرف دھیان دے گا؟ مصنف نے اسی طرح جیل انتظامیہ کے کچھ آفیسران جو کہ قیدیوں کے دین و مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تھے ‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ تعصب اور تنگ نظری سے کام لے کر قیدیوں کے ساتھ وہ برتائو کرتے جو کہ قواعد و ضوابط کے بالکل برعکس تھا۔ سرکاری آفیسران دوران فرائض کی ادائیگی نہ مسلمان ‘نہ ہندو ‘ نہ عیسائی نہ سکھ ہوتا ہے بلکہ وہ صرف ایک غیر جانبدار اور ذمہ دارفرد ہوتاہے جس کو قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنا ہوتا ہے نہ کہ تعصبات کا غبار سینے میں لیتے ہوئے۔ ڈائری نگار نے اُس وقت کی سیاسی جماعت محاذ رائے شماری کے ادنیٰ ورکروں کی سختیوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے اور ان کے لیڈران کی جیل میں عیش کوشی کو بھی طشت از بام کیا ہے۔ خصوصاً اس وقت کے ایک اہم سیاسی لیڈر قیدی جو کہ وزیر اعلیٰ کے چچیرے بھائی تھے ‘ اور اس کے سینئر کی آرام و آسائش کی جیل کہانی بھی درج کی گئی ہے۔محاذ کے اس وقت کے کچھ ورکرس جیل میں زندگی گزار کے اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھے تھے ،اور اپنے لیڈران کی بے حسی اور عدم التفات کا شکار ہو گئے تھے۔پیرول پر رہائی کے بعد مصنف نے صادق حکومت کی نوکر شاہی کو بُری طرح بے نقاب کیا ہے ۔پہلے کئی مہینوں تک ان کی ملازمت سے برخواستگی کا حکم جاری ہونے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تاکہ ان کو گزارہ الائونس سے محروم رکھا جائے۔ اسی طرح صادق حکومت کی نام نہاد آزاد روی کو بھی بے نقاب کیا گیاہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آج کے حکمرانوں اور منتظمین کو خصوصاً جو جیل کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں ‘ ضرور اس ڈائری کو پڑھنا چاہیے تاکہ جیل ریفارم کے خاطر خواہ قدم اُٹھائے جائیں۔ پیرول پر رہائی کے بعد کا حصہ کتاب کا حصہ نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ یہ عنوان یا نفس ِ مضمون سے متصادم ہوجاتا ہے۔ آخر پر مؤقر مورخ ڈاکٹر عبدالاحد سے اتفاق کر تاہوں کہ کتاب کی عبارت لسانی طور معیاری نہیںہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ یہی کمزوری مصنف کے خیالات کی بر محل اور بلا تصنع عکاسی بھی کرتی ہے۔ بلاشبہ مصنف کوئی تاریخی کتاب ، افسانہ، ناول یا انشائیہ نہیں لکھتے تھے کہ اس میں زبان کی خوبی اور چاشنی کو ڈھونڈاجائے۔ یہ ایک تاریخی بیانیہ اور آپ بیتی ہے ان زخمی جذبات اوراحساسات کا جو کہ ان سینکڑوں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ جوانوں اور بزرگوں کے گرم خیالات کی عکاسی کرتی ہے جو کہ دہائیوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے آئے ہیں۔میری التجا ہے کہ موجودہ دور کے جیل منتظمین اور دیگر متعلقہ افسران سے ( جن میں اچھی خاصی تعداد فرض شناس ، نیک اور ایماندار افسران کی ہے ) ہے کہ وہ اس ڈائری کا مطالعہ کرکے جیل کے حالات اورجیل انتظامیہ کے طریقِ کار کے ان گوشوں کی طرف توجہ دیں جہاں اصلاح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ چاہے ہم کتنے ہی اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوں ، آخر کار ہمیں اسی خاک کے پردے تلے آخرت کا سفر طے کرنا ہے۔ یہ ڈائری ۱۹۶۵ ء اور اس کے ما بعد رونما شدہ واقعات کا ایک اہم Source ما خذہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء اور ۱۹۵۳ء کے واقعات پر ایک بے لاگ ریسرچ نہیں ہوا ہے۔اسی طرح ۱۹۵۳ء سے ۱۹۷۳ء کے واقعات پر بھی بے لاگ تحقیق نہیں ہوا ہے۔۱۹۵۳ء سے لے کر ۱۹۹۰ء تک سیاسی اور تاریحی واقعات کو قلم بند کرنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔جو بھی آئندہ مؤرخ یا سیاسی تجزیہ کار خصوصاً ۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۳ء کے واقعات کی غیر جانبداری سے تحقیق کرے گا، اس کے لئے اس ڈائری کا مطالعہ ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں