ریفرنسز اکھٹا کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز کو اکھٹا کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں اور داماد کے خلاف دائر ریفرنسز کیس کی سماعت دوپہر ایک بجے تک ملتوی کی تھی۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعظم کی جانب سے دو ریفرنسز کو اکھٹا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
جسٹس عامر فاروق جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا۔
پیر کی صبح نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے تک کارروائی ملتوی کرے۔
عدالت نے ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کے فیصلے کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا اور بغیر کارروائی کے دن ایک بجے تک کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔

عدالت سے واپس پنجاب ہاؤس روانہ ہوتے ہوئے نواز شریف نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ’مجھے تو لگتا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس میں بھی مجھے ہی نا اہل قرار دیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست کو اپنے چیمبر میں سماعت کے بعد مسترد کردیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس سے متعلق اپنے 28 جولائی کے فیصلے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دے چکی ہے بلکہ قومی احتساب بیورو کو نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف تین ریفرنسز دائر کرنے کا حکم بھی دیا۔
میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف دبئی میں گلف سٹیل ملز کے قیام، لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے ریفرنس شامل ہیں جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر ایون فیلڈ پراپرٹیز میں ملزمان ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں