گوادر پورٹ کے لیے نیا چیلنج چابہار

ایرانی بندرگاہ چابہار میں توسیع، گوادر پورٹ کے لیے نیا چیلنج

ایران نے اپنی ایک اہم بندرگاہ چابہار میں توسیعی منصوبے کو مکمل کر لیا ہے۔ بحیرہء عرب میں یہ ایران کی اہم ترین بندرگاہ قرار دی جاتی ہے۔ اس توسیعی منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔

Iran Hafen Kalantari Stadt Chabahar Iran Golf von Oman (picture-alliance/dpa)

ایران کے صدر حسن روحانی نے چابہار بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کی تکمیل پر اس کا افتتاح کیا۔ اس توسیعی منصوبے پر 340 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ اس کثیر سرمایے کے پراجیکٹ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک ذیلی ادارے ختم الانبیا کنسٹرکشن کمپنی نے مکمل کیا ہے۔ ایران میں ختم الانبیا نامی تعمیراتی کمپنی ملک کا سب سے بڑا تعمیراتی ادارہ ہے۔

چابہار کی بندر گاہ بحیرہ عرب میں واقع ہونے کے علاوہ انتہائی اسٹریٹیجیک نوعیت کے خلیج عمان کے دہانے پر بھی ہے۔ ایران کی بحر ہند تک رسائی کا بھی یہی بندرگاہ ذریعہ ہے۔ چابہارکے توسیعی منصوبے کی تکمیل پر منعقدہ تقریب میں پاکستانی وفد بھی شریک تھا۔

اس توسیعی منصوبے سے اس  بندرگاہ کے کاروباری حجم میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس توسیعی منصوبے کے بعد سامان سنبھالنے کی کھپت ڈھائی ملین ٹن سے ساڑھے آٹھ ملین ٹن ہو گئی ہے۔ اب چابہار کی بندرگاہ پر ایک لاکھ ٹن سامان رکھنے والے مال برداربحری جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے۔

Pakistan Hafen Gwadar (picture-alliance/dpa)گوادر کی پاکستانی بندرگاہ ایرانی سرحد سے اسی کلو میٹر دور ہے

ایرانی صدر حسن روحانی نے افتتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے گوادر کا نام لیے بغیر مسابقتی عمل کے شروع ہونے کو غیراہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ چابہار کی بندرگاہ ہمسایہ ملکوں اور خطے میں ریجنل تعاون اور اتحاد میں بڑا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مثبت مقابلے بازی پر یقین رکھتے ہیں۔

خیال کیا گیا ہے کہ اس توسیع سے پاکستان کی زیرتعمیر گوادر بندرگاہ کی اہمیت و حیثیت کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہو گا۔ چابہار توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد اب گوادر کو بین الاقوامی شپنگ معاملات میں سخت مسابقت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ ایرانی سرحد سے محض اسی کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

Iran Rohani, Modi und Ghani in Teheran (IRNA)چابہار کی بندرگاہ کے توسیعی منصوبے میں افغانستان اور بھارت بھی دلچسپی رکھتے ہیں

ایرانی حکومت کا اگلا پلان یہ ہے کہ اس بندرگاہ کو ریل نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ اس طرح وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اس بندرگاہ سے استفادہ کر سکیں گی۔ بھارت بھی اسی بندرگاہ سے وسطی ایشیائی مار کیٹوں تک رسائی کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ یہ نیٹ ورک ایک طرف چین کی جانب جائے گا تو دوسری جانب روس کے راستے شمالی یورپ تک پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں