میں نے عمران کو ہنستے دیکھا، عثمان جامعی

میں نے عمران کو ہنستے دیکھا
عثمان جامعی

ہمارے ایک دوست اپنا ہر قصہ ‘آپ دنگ رہ جائیں گے’ کے ابتدائیے سے شروع کرتے ہیں، تو آج ہم بھی آپ کو دنگ کرنے جا رہے ہیں، یہ بتا کر کہ ہم نے عمران خان کو ہنستے دیکھا، ہاں ہاں ایمان سے، ہم اپنی ‘سِری’ پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بول رہے۔ نہیں نہیں، یہ نہ سمجھیں کہ خان صاحب میں کوئی تبدیلی آگئی ہے۔

ہم نے یہ ہنسی ایک پرانی تصویر میں دریافت کی ہے۔ ویسے تو ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے، لیکن یہ تصویر کچھ زیادہ ہی وزنی ہے کہ اس میں پرویز مشرف وردی کے وزن اور بھاری بوٹوں سمیت خان صاحب کے پہلو میں بیٹھے تبسم فرما رہے ہیں۔ دل چاہتا ہے اس تصویر پر پوری کتاب لکھ دی جائے، جس کا عنوان ‘میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا’ کے وزن پر ‘میں نے عمران ہنستے دیکھا’ ہو۔

یہ تصویر وزیرِ داخلہ احسن اقبال صاحب نے ٹوئٹر پر چسپاں کی ہے، واضح رہے کہ یہ وہی احسن اقبال ہیں جو بہ قول خود صرف فیض آباد کے نہیں پورے پاکستان کے وزیرِ داخلہ ہیں، جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ اب تو لگتا ہے کہ وہ فیض آباد کو چھوڑ کر باقی ماندہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ہیں۔

Zia’s protégé lecturing PTI on democracy! Signs of Qiamat. pic.twitter.com/ukeFZUzKv6

— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 13, 2017
pic.twitter.com/jO3UpYUBnE

— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) November 13, 2017
یہ عکس عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر لائی جانے والی اس تصویر کا جواب ہے جس میں میاں نوازشریف، جنرل ضیاءالحق کے ساتھ چہل قدمی کرتے نظر آرہے ہیں۔ اب اس تعلق کا تصویری ثبوت دینے کی کیا ضرورت تھی؟ کون نہیں جانتا کہ نوازشریف ضیاءالحق کے قدم سے قدم ملا کر اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہے۔ اس تعلق کو بنیاد بنا کر یقین رکھنا چاہیے کہ نہ وہ بدلے، نہ دل بدلا، نہ دل کی آرزو بدلی، لہٰذا جب وہ جمہوریت کی بات کریں، انہیں کوئی ایسی ہی تصویر ‘یہ ویخ’ کہہ کر دکھا دینی چاہیے، لیکن جہاں تک عمران خان المعروف بہ تبدیلی کا نشان کی پرویزمشرف کے ساتھ تصویر کا تعلق ہے، تو:

کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی

میں کسی سے بولنے والی نہیں

اگر یہ تصویر کچھ بولی بھی تو بس اتنا کہے گی، ‘اوئے، خبردار جو مجھے دیکھا، مجھے لاج آتی ہے، کل نہیں آتی تھی، آج آتی ہے، ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ یہ پُرانی بات ہے، اب عمران خان میں تبدیلی آ نہیں رہی آچکی ہے۔’

بات ہے بھی ٹھیک۔ پورے ملک میں صرف عمران خان ہیں جن میں تبدیلی آسکتی ہے۔ آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں تو خان صاحب کے طرزِ حیات سے مصروفیات اور خیالات سے ‘منکوحات’ تک پوری ‘عمرانیات’ کا جائزہ لیجیے، آپ بھی کہہ اٹھیں گے کتنے بدل گئے ہیں وہ حالات کی طرح۔ اتنے بدل گئے ہیں کہ یہ تبدیلیاں دیکھ کر کہنے کو جی چاہتا ہے کہ کس قدر جلد بدل جاتے ہیں ‘عمراں’ جاناں۔

عمران خان کے بدلاؤ کا سلسلہ کرکٹ کے گراؤنڈ مخالف بیٹسمینوں کی پٹائی سے دھرنے کے میدانِ جنگ میں لڑائی، کرکٹ بورڈ کے ساتھ محاذ آرائی سے پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور عدلیہ جیسے نسبتاً کم مُقدس اداروں کی عزت افزائی اور پرویز مشرف کی پذیرائی سے اُن کی منہ بھر کے برائی تک پھیلا ہوا ہے۔ اپنی اس قافیہ پیمائی میں ہم نے رسوائی کا قافیہ جان بوجھ کر نظرانداز کردیا، ورنہ بات نکلتی تو دور تلک جاتی، یعنی ذکر چھڑ جاتا پھر جوانی کا اور بات کس کس ‘قیامت’ تک جاپہنچتی، پھر ہمیں ہرجائی، بے وفائی، بے اعتنائی جیسے قافیے بھی لانا پڑتے۔ اب نہ ہم غزل لکھ رہے ہیں، نہ ہمارا مقصد قافیہ تنگ کرنا ہے، پھر ہم کیوں قافیہ آرائی کے چکر میں پڑیں۔

مقصود یہ تھا کہ یہ ذاتی، داخلی اور نجی تبدیلیاں ہی تو ہیں جن کی بِنا پر خان صاحب کو یقین ہے کہ جب میں بدل سکتا ہوں تو پاکستان میں تبدیلی کیوں نہیں آسکتی۔ گویا اُن کے نعرے کی بنیاد ان ہی کا تجربہ ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جتنی، جس نوعیت کی اور جس رفتار سے خان صاحب میں تبدیلیاں آئی ہیں، شاید پاکستان اس کا متحمل نہ ہوسکے، اتنی ساری اور اتنی تیز رفتار تبدیلیوں کے بعد تو ہمارا قومی ترانہ ہوگا، ‘آئینہ مجھ سے مِری پہلی سی صورت مانگے۔’

خبردار جو خان صاحب کی تبدیلیوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کسی نے کہا کہ ‘بدلتا ہے رنگ اپنا خاں کیسے کیسے’ یا رنگ بدلنے کے حوالے سے کوئی محاورہ پیش کیا، ویسے ہمیں یاد نہیں آرہا، اردو میں کوئی اس طرح کا محاورہ رائج ہے ناں، ‘کرکٹ کی طرح رنگ بدلنا؟’ اب وہ اتنا بھی نہیں بدلے کے انہیں طعنے دیے جائیں۔ اُن کی کچھ تبدیلیاں تو بظاہر ہی وقوع پذیر ہوئی ہیں، ورنہ دراصل وہ اندر سے سامنے آئی ہیں۔ جیسے جن دنوں وہ کرکٹ کھیلتے تھے اور ان کے حُسن کے چرچے ہر طرف تھے، انہیں یونانی دیوتاؤں سے تشبیہ دی جاتی تھی، تھے تو وہ اس وقت بھی بطور کپتان اپنی من مانی کرنے والے دیوتا، لیکن اپنے اس مقام سے واقف نہیں تھے۔

سیاست میں آنے کے بعد کہیں جاکر انہیں احساس ہوا اور یقین آیا کہ ‘بات تو سچ ہے، میں واقعی دیوتا ہوں، یونانی نہ سہی یوٹرن کا سہی’ اور اس احساس کے بعد غلطی کے احساس کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے! یوں بھی دیوتا احساس سے ماورا ہوتے ہیں۔

معراج محمد خان جیسا بااصول اور جری سیاست داں اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین سا دیانت دار منصف دیوتا کے چرنوں پر اپنے اصولوں کی بھینٹ نہ چڑھا سکے، اس لیے تحریک انصاف چھوڑ کر چلے گئے، پھر اُن صاف ستھرے لوگوں کے بغیر ‘صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی۔’

ٹھیک اسی طرح اُن کی ایک راسخ عادت جوں کی توں برقرار ہے، کرکٹ میں بھی ان کی امیدوں کا محور ایمپائر کی انگلی ہوتی تھی اور سیاست میں بھی لوٹ جاتی ہے اُدھر کو ‘ہی’ نظر کیا کیجے۔ تبدیلی بس اتنی آئی ہے کہ وہ یہ انگلی پکڑ کر چلنے بھی لگے ہیں۔

عمران خان کا نیا پاکستان کا نعرہ بھی تبدیلی کی طرح ان کے تجربے پر استوار ہے۔ ان کے دل میں وزارتِ عظمیٰ کی آرزو کی طرح جو دوسری خواہش براجمان ہے اس کا عنوان ہے ‘کچھ نیا کر’۔ یہ خواہش انہیں اکساتی رہتی ہے کہ اگر جسٹس افتخار چوہدری کی بہت حمایت کرلی، اب تم یہ حمایت کرکر کے بور ہوگئے ہو، تو اب کچھ نیا کرو اور انہیں بُرا بھلا کہا کرو، کبھی کہتی ہے آرام چھوڑ کچھ کیا کر کسی بہانے سے دھرنا دیا کر، کبھی ہدایت جاری کرتی ہے، الطاف حُسین کو دہشت گرد قرار دے کر برطانیہ سے نکلوا دو، کچھ عرصے بعد فرمان آتا ہے کہ چھڈ یار الطاف حسین کو نکلوانے کے چکر میں لندن کے چکر لگانا چھوڑ دو اور کراچی میں جلسہ کرو.

یاد رہے کہ یوں تو لب آزاد ہیں تیرے لیکن اس جلسے میں الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولنا، کیونکہ یہ سب بولنا تمہارا برسوں کا وطیرہ ہے، اب اس موضوع پر خاموش رہنا ہی نیا پن ہوگا۔ وزارتِ عظمیٰ کی آرزو اور کچھ نیا کر کی خواہش نے جب ایک ساتھ پُکارا تو پرویز مشرف آرزو کا محور بنا، لیکن جب بات نہ بنی تو خواہش نے اس کی مخالفت کی ذمے داری سونپ دی۔

پس تو ثابت ہوا کہ یہ ہنستی مسکراتی تصویر آرزو کی ہے، اور جب خواہش تبدیلی لے آئی، تو ہمارے سامنے تھا نیا عمران خان۔

عثمان جامعی شاعر، قلم کار، مزح نگار، بلاگر، صحافی ہیں۔ آپ کی ایک کتاب ’کہے بغیر‘ بھی شائع ہوچکی ہے۔ آپ اِس وقت ایک اخبار میں بطور ’سنڈے میگزین‘ انچارج ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں