یروشلم اسرائیلی دارلحکومت ٹرمپ کی ہاں

ٹرمپ، یروشلم کو اسرائیلی دارلحکومت ماننے کو تیار؟ اعلان آئندہ ہفتے متوقع

امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کو اگلے ہفتے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مشرق وسطی کا بحران سنگین صورت حال اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت بہت سے امریکی اورمغربی ذرائع ابلاغ امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے اس متنازع فیصلے کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے۔
اقوام متحدہ یروشلم پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ فلسطینی بھی کسی طور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی طرف سے اس بارے میں شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیں گے۔
یروشلم سمیت اسرائیل میں بیس فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے اور امریکہ کی طرف سے یہ اقدام اُن لوگوں کو بھی اشتعال دلا کر انھیں شدت پسندی پر مائل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں