تبت میں کشمیری مسلمان،ڈاکٹر اینڈریو وائٹ ہیڈ

کشمیر میں تبتی اور تبت میں کشمیری مسلمان
ڈاکٹر اینڈریو وائٹ ہیڈ
بی بی سی کے انڈیا میں سابق نامہ نگار

کشمیر میں رہنے والے تبتی مسلمان صدیوں پہلے کشمیر سے تبت گئے تھے
ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جب آپ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ آپ کسی جگہ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اس جگہ کا ایک نیا پہلو سامنے آ جانے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ اس جگہ کو کتنا کم جانتے ہیں۔
میں گذشتہ 20 برس سے متواتر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر جا رہا ہوں۔ میں کئی مرتبہ مغل دور کی شاندار یادگار ہری پربت قلعہ دیکھ چکا ہوں جو سری نگر کےافق پر راج کرتا ہے۔ لیکن اس کے سائے میں رہنے والی ایک چھوٹی اور خاموش سی برادری میری نظر سے اوجھل ہی رہی۔
تبت سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زیادہ لوگوں نے سری نگر کو اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔ یہ تبتی مسلمان ہیں۔ کچھ مسلمان خاندان اب بھی تبت کے دارالحکومت لاسا اور سرحدی قصبوں میں رہ رہے ہیں لیکن زیادہ تر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بس چکے ہیں۔
’جہاں آنکھوں کے سامنے والدین مارے گئے‘
کشمیر کا انڈیا سے الحاق 70 برس بھی متنازع کیوں؟
جب قبائلی جنگجوؤں نے کشمیر پر دھاوا بولا
ان لوگوں کی کہانی ان قدیم تجارتی روابط کے بارے میں بتاتی ہے جن کی وجہ سے کشمیر کو دولت حاصل ہوئی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایک دوسرے سے مد مقابل دو نئی ریاستوں کے ابھرنے سے یہ روابط ختم ہوئے۔
ان لوگوں کی کہانی شناخت کے ان پیچیدہ معاملات کے بارے میں بھی بتاتی ہے جن کی بازگشت ہمالیہ کے پار بھی سنائی دیتی ہے۔
ناصر قاضی نے، جو ایک کامیاب بزنس مین ہیں، مجھے یہ علاقہ دکھایا۔ وہ تبتی مسلم یوتھ فیڈریشن کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم اُس سکول کو بہت اچھی طرح چلاتی ہے جو اب اس برادری کے علاوہ دوسروں کے کام بھی آ رہا ہے۔
ناصر قاضی نے مجھے کہا کہ وہ اس بات پر بہت فخر کرتے ہیں۔ ‘اس سکول کی صورت میں کوئی ایسی چیز ہے جس سے ہمارے کشمیری بھائی اور بہنیں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔’
سکول کی رہداریوں میں تبت کے مذہبی رہنما دلائی لاما کے دورے کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ ناصر قاضی نے کہا کہ تبت کے مسلمان دلائی لاما کو اپنا مذہبی رہنما تو نہیں مانتے لیکن ان کی بہت عزت کرتے ہیں ‘اور دلائی لاما بھی ہم سے بہت پیار کرتے ہیں۔’

کشمیر میں تبتی مسلمان اپنی تاریخ ان تاجروں سے منسلک کرتے ہیں جو قدیم تجارتی راستوں پر سفر کرتے تھے۔ یہ کشمیر اور لداخ کے مسلمان تاجر تھے۔ تقریباً چار سو برس قبل اُس وقت کے دلائی لاما نے ان لوگوں کو تبت کے دارالحکومت میں رہنے کے لیے زمین دی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ اِن لوگوں نے تبتی عورتوں سے شادیاں کر لیں، تبتی زبان سیکھ لی اور وہاں کے پکوان اپنا لیے۔ یہ لاسا میں ایک مخصوص برادری بن گئے جن کی اپنی مسجد تھی، جو خوشحال تھے، قابل احترام تھے اور تبتی موسیقی کے ماہر تھے۔
لیکن تبت میں انھیں کبھی تبتی نہیں سمجھا گیا۔ انھیں خاچی کہا جاتا تھا۔ مقامی زبان میں خاچی کا مطلب ہے کشمیری۔ یہ لفظ تمام تبتی مسلمانوں کے لیے تھا چاہے وہ جہاں سے بھی آئیں ہوں۔
چین کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کی ناکامی کے بعد 1959 میں دلائی لاما اور ان کے ہزاروں پیروکار ہمالیہ کی دوسری جانب فرار ہو گئے۔ تبت کے مسلمان بھی اس صورتحال کی وجہ سے پریشان تھے۔
کچھ تبتی لوگ انھیں چینی حکمرانوں کے گماشتے سمجھتے تھے۔ اس دوران کافی سفارتی کشمکش کے بعد، جس میں بھارتی حکومت نے بھی دلچسپی لی، مسلمانوں کو تبت سے جانے کی اجازت مل گئی اور زیادہ تر مسلمانوں نے تبت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انڈیا پہنچنے کے بعد ان مسلمانوں کو بے ریاست پناہ گزین نہیں سمجھا گیا بلکہ انھیں واپس آنے والے بھارتی کہا گیا۔ جنھیں پہلے خاچی کہا جاتا تھا اب وہ باقاعدہ ایک برادری قرار پائے۔ انھوں نے بھارتی حکام کو بتایا کہ وہ کشمیر سے گئے تھے اور اپنے وطن واپس آنا چاہتے تھے۔
آج کل ان میں سے زیادہ تر سری نگر میں کام کرتے ہیں لیکن تاجروں کی حیثیت سے نہیں۔ قدیم تجارتی راستوں کو جدید سرحدیں بند کر چکی ہیں۔ یہ لوگ اب کم منافع والے کام کرتے ہیں جیسے برقعوں پر کڑھائی اور سیاحوں کے لیے ٹی شرٹس کی سلائی۔
ناصر قاضی نے مجھے بتایا کہ کچھ دہائیوں قبل جب انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کچھ کم ہوئی تھی تو ان کی والدہ لاسا جانے کے قابل ہو سکیں۔ قاضی کے کئی کزن وہاں رہتے ہیں لیکن وہ ان سے کبھی نہیں مل سکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس جگہ پر کبھی قدم بھی نہیں رکھ سکے جس نے انھیں شناخت دی۔
قاضی کا اصرار تھا کہ’اب ہمارا تعلق اس مٹی سے ہے، کشمیر کی مٹی سے۔’
لیکن اس برادری کی حیثیت مبہم ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صرف وہ لوگ زمین خرید سکتے ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے آباواجداد کشمیر سے تھے۔ ایسے ہی افراد کو مکمل حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن ان تبتی مسلمانوں کے لیے یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ یہ سب حاصل کرنے کے لیے ان کا کشمیر سے تعلق بہت دور اور بھٹکا ہوا ہے۔
ایسی جگہ جہاں غیر مقامی ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے یہ برادری خاموشی سے جی ہے۔ یہ لوگ کشمیر میں مطمئن ہیں لیکن یہ ایک تکلیف دہ تضاد بھی ہے۔ کشمیر میں یہ لوگ تبتی ہیں اور تبت میں کشمیری۔ ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ان کی اپنی پہچان ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں