پورے وجود کی پیوندکاری، رضا علی عابدی


پورے وجود کی پیوندکاری
رضا علی عابدی

دنیا عجائب گھرہے۔ اس میں عجوبے آباد ہیں۔ ان کی کچھ کہانیاں ایسی ہیں کہ یقین کرنا مشکل ہے۔ ایسی ہی یہ کہانی برطانیہ کی ایک خاتون کی ہے۔دردمند دل توبہت سے سینوں میں دھڑکتے ہوں گے مگر ان خاتون کا قصہ سن کر لگتا ہے کہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ ہوا یہ ہے کہ خاتون امید سے ہیں اور ان کے ہاں ولادت ہونے ہی والی ہے۔ ماہر ڈاکٹر ان کی شروع ہی سے دیکھ بھال کر رہے تھے، شکم مادر میں بچہ ذرا بڑا ہوا تو ماہرین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بچے کے جسم میں بعض اعضا مکمل نہیں بن رہے ۔ تفصیل عام لوگوں کو نہیں معلوم لیکن اتنا سب جان گئے ہیں کہ بچّے کے کچھ اعضا کی وضع ادھوری ہے اور ولادت تک نامکمل ہی رہے گی۔ ابھی تو وہ ماں کے جسم سے جڑا ہوا ہے۔ ولادت کے بعد اور ماں کے بدن سے الگ ہونے کے بعد اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ وہ پیدا ہونے کے بعد جلد ہی دم توڑ دے گا۔ ڈاکٹروںکو یہ جاننے کے بعد سب سے مشکل کام کرنا پڑا۔ انہیں ماں کو یہ سب کچھ بتانا تھا۔وہ مرحلہ بھی آیا۔ماں پر انکشاف کرنا پڑا کہ اس کے پیٹ میں ابھی تک جو بچہ بظاہر تندرست ہے ولادت کے بعد اس کا جسم کام بند کردے گااور اس کی جان بچانا ممکن نہ ہوگا۔ اصولاً تو یہ خبر سن کر خاتون کو پریشان ہونا چاہئے لیکن ہونے والی ماں نے ڈاکٹروں کو اس وقت حیران کر دیا جب اس نے پوچھا کہ بچّے کے کچھ اعضا تو صحیح سلامت ہوں گے۔ جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کے جسم کے بعض حصے نارمل ہیں تو خاتون نے ایک اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچّے کے انتقال کرتے ہی اس کے بدن کے صحت مند اعضا پیوند کاری کے لئے ان بچّوں کو بطور عطیہ دے دئیے جائیں جن کی حالت نازک ہے اور جنہیں صحت مند اعضا کی سخت ضرورت ہے۔
اس طرح کے واقعات بڑی آس بندھاتے ہیں۔ انسان میں دردمندی کی وہ رمق ابھی باقی ہے جو یہ سوچنے کا حوصلہ دیتی ہے کہ دنیا کا نظام ابھی ٹھپ نہیں ہوا۔ نیکی انسان کی سرشت میں خود قدرت نے ودیعت کی ہے۔ یہ اس کی جبلّت میں شامل ہے۔ یہ ضرور ہے کہ حالات، جو انسان کے سب سے بڑے اتالیق ہوتے ہیں، اسے راہ پر لانے کے لئے سازگار ہوں۔ شکر ہے کہ دنیا کے بعض خطّوں میں انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی زندہ ہے۔
یہ واقعہ زیادہ پرانا نہیں، غالباً فیصل آباد میں کوئی ماں باپ اپنی بچّی کو پیدا ہوتے ہی کپڑے میں لپیٹ کر سڑک پر ڈال گئے۔ وہاں قریبی اسپتال کے کسی ملازم نے بچّی کو یوں پڑا دیکھا تو وہ اسے اٹھا کر اسپتال میں لے آیا۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ بچّی ہاتھ پاؤں سے معذور ہے۔اس کی ٹانگیں مڑی ہوئی ہیں اور بازو مکمل نہیں ہیں۔ خیال ہے کہ ماں باپ نے سوچا کہ اس کو پالنا مشکل ہوگا۔ وہ اسے سڑک پر چھوڑ کر اپنے گھر میں جا چھپے۔ اس میں ان کا قصور ہے یا نہیں ، یہ بحث الگ ہے جس کا یہ موقع نہیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس بچّی کو ، جو جان بوجھ کر اس حالت میں پیدا نہیں ہوئی، جینے کا حق ہے یا نہیں۔ مہذب معاشرے میں پہلی رائے یہ قائم ہوتی ہے کہ پہلے اس کی جان بچائی جائے۔ اگلا کام وہ علم کرے گا جسے ہم میڈیکل سائنس یا علم طب کہتے ہیں جو ترقی کی راہ میں یوں جست بھرتا جارہا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لندن میں کمسن بچّوں کا ایک الگ ہی اسپتال ہے ۔ ٹیلی وژن پر اس کا اشتہار آتا ہے اور لوگوں سے عطیات مانگے جاتے ہیں کیونکہ اسپتال کو جدید آلات خریدنے کے لئے پیسہ درکار ہے۔ اس اشتہار میں ایک ڈاکٹر نظر آتا ہے جو ایک دودھ پیتے بچّے کو نہایت پیار سے گود میں اٹھائے ٹہل رہا ہے۔ بہت پیار ااور صحت مند بچہ ہے لیکن اس کے پاؤں نہیں ہیں۔کوئی دن جاتا ہے کہ وہ بڑا ہوکر مصنوعی پیروں پر کھڑا ہوگا۔ مصنوعی اعضا بنانے کا علم کمال کی ترقی کر چکا ہے اور آج مصنوعی ٹانگوں والے کھلاڑی دوڑ کے عالمی مقابلوںمیں آگے آگے نظر آنے لگے ہیں۔
بھارت سے خبر آئی ہے کہ جنوبی ہند کی کسی خفیہ تجربہ گاہ میں چوٹی کے ماہرین ایک شدید راز میں رکھے جانے والے منصوبے پر تحقیق کررہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مریضو ں کے ناکارہ اعضا کی جگہ جس طرح صحت مند اعضا کی پیوند کاری ہوتی ہے اُسی طرح کیوں نہ پورے جسم کی جگہ نئے جسم کا پیوند لگادیا جائے۔پہلے خیال تھا کہ صرف جسم تبدیل کیا جائے گا، تازہ خبر یہ ہے کہ جھلسے ہوئے، تیزاب سے مسخ ہونے والے یا کسی حادثے میں بگڑ جانے والے چہرے کی جگہ بھی صحیح اور سالم چہرہ لگانے کا کامیاب تجربہ ہوچکا ہے۔
مغربی ملکوں میں تو یہ رواج عام ہو چکا ہے کہ لوگ وصیت کررہے ہیں کہ ان کے مرنے کے فوراً بعد ان کے کارآمداعضا ضرورت مند مریضوں کے جسم میں لگا دئیے جائیں۔ کچھ عرصے پہلے ایک نوعمر لڑکی ٹریفک کے حادثے میں ہلاک ہوئی تو اس کے والدین کی رضا مندی سے اس کے اعضا کی پیوندکاری کرکے چھ مریضوں کو نئی زندگی عطا کی گئی۔ سارے ملک نے اس لڑکی کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔عبدالستّار ایدھی صاحب کچھ اور نہ دے سکے تو مرتے وقت اپنی دونوں آنکھیں بینائی سے محروم دو مریضوں کو دے گئے۔
اس گفتگو کو ایک خوش گوار نوٹ پر ختم کرتے ہیں۔ بات ایک بارپھر کمپیوٹر کے فیس بک کی ہونے لگی۔ پاکستان میں ایک خاتون ہیں جنہیں آپ چاہیں تو جوشیلی طبیعت کی مالک کہہ لیں صاف گوئی میں کمال حاصل ہے۔ فیس بُک پر اکثر بحث مباحثے کرتی نظر آتی ہیں۔ مذہب کے معاملے میں بھی ان کے اپنے ہی نظریات ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کے خیالات پر لعنت ملامت کرتی رہتی ہے۔ کچھ روز ہوئے انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ مجھے تنقید کا نشانہ بنانے والا مجمع اب یہ کہنے لگا ہے کہ تمہاری نمازِ جنازہ بھی نہیں ہوگی۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ میں ان کو ایسی کوئی زحمت نہیں دوں گی۔میںنے وصیت کردی ہے کہ میرے مرنے کے بعد چہرے کے سوامیرے جسم کا ایک ایک عضو ضرورت مند مریضوں کو دے دیا جائے۔خاتون کو شاید خبر نہیں کہ کسی ضرورت مند مریضہ کے چہرے کی جگہ ان کا صحت مند چہرہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس پر نماز جنازہ سے محرومی کی دھمکیاں دینے والے کہیں گے کہ دیکھ لینا، اُس چہرے پر نور نہیں برس رہا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں