حکم حاکم مرگ مفاجات :۔سید محراب شاہ کاظمی

حکم حاکم مرگ مفاجات
تحریر:۔سید محراب شاہ کاظمی

وضاحت ضرورت اور نظریہ ضرورت کرنی پڑتی ہے چھوٹو کینگ جنوبی پنجاب میں تو ہوے ہی ہیں علاوہ علاقوں میں ہی کردار ہوتے ہیں چائے خالصہ خالصے میں رہ کر لوگوں کا خالصہ بتائے اور معزز ٹھہرے۔سجدہ خالق کو یارانہ ابلیس سے ”محشر میں تو ایسا نہ ہو سکے گا” ضد جسم کے بغیر بھی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ بڑے رسم بھی ہار مان لیتے ہیں۔اسی لئے معاشرے کو ساتھ رکھنے کی بجائے سیکیورٹی ساتھ رکھتے ہیں،پارستی مذہب میں پیدائش کے بغیر شمولیت مکمل نہیں ہوتی چائے ”زیرہ فونا” کا کردار اپنایا جائے۔کنسٹریکشن کا ترجمہ آسان کردار بھیانک مگر ٹھیکیدار سسٹم تو خدا کی پناہ کردار کو نہیں معیار کو دیکھتے ہیں۔” گھن تو مرتا نہیں مرنے تک” مگر محمد احمد بنگالی پر جگہ ہوتے ہیں ان کو علم ہوتا ہے کہ صاحب بک موڈ میں ہونگے لیکن میں کیا کروں؟ میں نے پی ایم صاحب کو چھٹی لکھی تھی لیکن اُن کے دفتر میں طاقتور حضرات ایک کسی غریب کی چھٹی کا جواب دیتے ہیں لیکن پہلے ایسا نہ تھا۔کم از کم زنجیر ہلانے کو پوچھا جاتا تھا۔چائے کسی بھی خاندان کا کیوں نہ ہو (رسید نمبر 916اللہ کے حوالے) وہ ہمپ(Hump) میں پانی رکھ کر سفر کرتا ہے یہاں جمہوریت کو سیاست نے یرغمال بنا کر پمپ (Pump) بھی پانی سے خالی چھوڑ دیئے۔شکاری جانوروں اور پرندوں کا اجلاس ہوا کہ گدھ دوسروں کا شکار کھا جاتا ہے یہ شکاری پرندہ نہیں اسے الگ کر دیا جائے۔کیونکہ گدھ کے سر اور گردن پر بال نہیں ہوتے اور یہ ویران علاقوں میں رہتے ہیں اور مردہ شکار کھاتے ہیں اپنے نمبردرا کی سرداری میں لائن لگا کر مردہ شکار کھاتے ہیں۔ان کی نظف ربہت تیز ہوتی ہے(ادیبہ بانو فدسیہ کے ناول سے)چودہ اقسام ک عذابات مسلط ہو جائیں گے(امام غزالی)کون پوچھے کہ بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے محبت ہے یہ تو علیحدہ مسلہ ہے کہ انسان پہلے جومامسکی،باجر،گندم کا آٹا کھاتے تھے اب صرف آٹا ہی پسند کرتے ہیں۔تعلیم کے حصول کیلئے تاریخ سے اسلامی تاریخ کے حوالہ جت پر بھی یعنی ردو بدل کا شور شرابہ جیزبرلسیئن اسٹرلیسٹ کا بیان بھی مسلمان وڈیروں+سرمایہ داروں کے علاوہ مسلمان بادشاہوں نے بھی سن لیا ہو گا مطلب یہ کہ مسلمانوں کی اسلام سے دوری نہ خدا ہی ملانہ وصال صنم،نہ ادھر کہ رہے نہ اُدھر کے رہے۔ہم نے اُن سے روزبہ پروان چڑھایا جہنوں نے ہم سے اسوہ حسنہ چھڑایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں