عوامی جذبات کا ہلاکت خیز ہتھیار، طلعت حسین


عوامی جذبات کا ہلاکت خیز ہتھیار
طلعت حسین

ہمیں اس بات کو تسلیم کرلیناچاہیے کہ اگر اس ملک کے لاکھوں شہریوں، جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرتے ہیں، یادیگر علاقوںسے اس طرف آتے ہیں، کو گزشتہ دو ہفتوں سے بے پناہ مشکلات اورتکلیف دہ صورت ِحال کا سامنا ہے تو اس میں دھرنے والوںکا کوئی قصور نہیں۔یقیناََ اس مذہبی گروہ، جسے لاہور کے حلقے این اے 120کے انتخابی معرکے میںحیران کن آمد اور مزید حیران کن کارکردگی کے بعد الیکشن کمیشن نے باقاعدہ طریقے سے رجسٹرڈ کیا، نے اس ایٹمی ریاست کے دارالحکومت کو مفلوج کررکھا ہے ۔ اس کی وجہ سے بزنس کو اربوں روپوں کا نقصان ہوچکا ہے ۔ اس نے دنیا میں پاکستان کے امیج کو زک پہنچائی ہے ۔ اس کے باوجود اُنہیں مورد ِالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اُن کی منفی سرگرمیاں، جیسا کہ مسافروں کو زدوکوب کرنا، اسکول بسوں اور ویگنوں پر حملے کرنا، نجی گاڑیوں کے شیشے توڑنا، سرکاری املاک پر قبضہ کرنا، اسپتالوں کی طرف جانے والی سڑکیں بلاک کرکے ہلاکتوںکا باعث بننا، گالیاں دینا، دھمکیاں دینا، سب کچھ اپنی جگہ پر، لیکن اس میں ان کاکوئی قصور نہیں۔یہ گروہ اور اس کے انتہا پسند وں کا اتنی سکت حاصل کرلیناکہ وہ ریاست اور اس کی سرکاری مشینری کو مفلوج کرکے رکھ دیں، یقینی طور پر اُس نظام کی بدولت ہے جس نے محدود مقاصد کے حصول کے لیے عوامی جذبات کو ایک ہتھیار کی شکل میں ڈھالنے کی پالیسی بنائی (اور یہ ٹکسال کی اس صنعت کی کوئی واحد پیداوار نہیں)۔
دنیا نے جتنے بھی ہلاکت خیز بم تیار کیے ہیں، جیسا کہ قاتل ربورٹس، آکسیجن ختم کردینے والے بم، وسائل تباہ کردینے والے حیاتیاتی ہتھیار، مشینی انسان وغیرہ، یا جو ابھی تیاری یا تحقیق کے مراحل میں ہیں، اُن میں سے کوئی بھی عوامی جذبات کے ہتھیار سے زیادہ ہلاکت خیز اور استعمال میں آسان نہیں۔ چنانچہ یہ انتہائی ہلاکت خیز اور سہل استعمال کا ایک نادر امتزاج ہے ۔ اس کی انفرادیت صرف یہی نہیں کہ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید مشکلات کے باوجوداس کے استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا، دیگر ہتھیاروں سےیہ اس لیے بھی منفرد ہے کہ اسے ملک میں ہی تیار کیاجاتا ہے،یہیں اس کی جانچ ہوتی، بہتری کے مراحل سے گزار ا جاتا ہے اور پھر اسے ہمارے خلاف ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دنیا میں شاید اس کی کوئی مثال نہ ملے کہ ملک میں تیار کردہ کسی تباہ کن قوت کو پوری شدت کے ساتھ اسی ملک کے خلاف استعمال کیا جائے ۔ لیکن باقی دنیا سے ہماری عنصری ترکیب کچھ زیادہ ہی خاص ہے ۔ اور پھر ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں سے از حد ممتاز دکھائی دیں۔
اس ہتھیار کی تیاری کے پیچھے برس ہا برس کی محنت اور تحقیقاتی کاوش کارفرما ہے ۔ اس کے حالیہ تجربات عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنانمبر 1 اور 2،ا ور دھرنا نمبر 3 تھے ۔ پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک کی وسیع وعریض لیبارٹر ی میں سینکڑوں کیمروں کی موجودگی میںاس جدید سیاسی ہتھیارکے مختلف مقاصد کی جانچ ہوئی ۔ نتائج حیران کن تھے ۔ چند ہزار افراد ایک سڑک پر قبضہ کرکے ایک منتخب شدہ حکومت کے غیر فعال ہونے کا جاندار تاثر پید اکرسکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ ہتھیار اتنی طاقت بھی رکھتا ہے کہ تمام پارلیمان کو بلاک، ا ور طاقتور عدلیہ کو اس نہج تک پہنچا سکتا ہے کہ جہاں فاضل جج صاحبان احتجاجی مظاہرین سے یہ کہتے سنائی دیں کہ بس اُنہیں کسی پریشانی کے بغیر گزرنے کے لیے راستہ دے دیا جائے ۔ تینوں ٹیسٹ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت بنیادی طور پر احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس ہتھیار کی ایک جھلک اس پربے حد نقاہت طاری کردیتی ہے۔ یہ تھرتھر کانپنے لگتی ہے کہ کہیں طاقت کے اندھے استعمال کا الزام لگا کرمیڈیا اسے ادھیڑ کر نہ رکھ دے ۔
اسلام آباد کے مرکز میںدھرنا ٹیسٹوں، جس کی ایک چھوٹی سے جانچ پی پی پی دور میں بھی ہوئی جب ڈاکٹر قادری اپنے گروہ کو اس شہر میں لا کر بیٹھ گئے، سے ا س بات کا بھی پتہ چلا کہ اسلام آباد کے شہری، جو دولت مند اور کم کوش ہیں، اپنے حقوق کو پامال اور سلب کیے جانے کے خلاف آواز بلند کرنے کی تاب وتواں نہیں رکھتے ۔ اس جانچ سے ایک اور دلچسپ نتیجہ برآمد ہوا: ایک مرتبہ جب لوگوں کے سامنے کوئی بھی جواز( جیسا کہ دھاندلی یا بدعنوانی) رکھ کر احتجاج کے لیے گھروں سے باہر نکال لیا جاتا ہے، تو وہ بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کے باوجود احتجاج جاری رکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ اُنہیں سرکاری عمارتوں پر حملے کرنے پر بھی اکسایا جاسکتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں، رات ہو یا دن، دھرنے والے ہی راج کرتے ہیں ۔ ماڈل ٹائون ہلاکتوں کی مثال سے دھرنا ہتھیار کی آزمائش کرنے والے اس جواز کو تقویت دیتے رہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والوں کی حماقت یا کسی سازش کی وجہ سے وہ سانحہ دوبارہ بھی پیش آسکتا ہے ۔
شاید اس آزمائش سے جس اہم چیز کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ دھرنے اپنے ہدف کو بے پناہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا نشانہ بننے والی حکومت بید ِ مجنوں کی طرح لرزہ براندام، ریت کے گھروندے کی طرح کمزور، اور ایسا لگتا ہے کہ ہوا کا ایک جھونکا اسے خزاں رسیدہ پتے کی طرح گرادے گا۔ عوامی مینڈیٹ کا تمام زعم ایک مذاق سا بن جاتا ہے ۔ یہ ہتھیار عوامی نمائندوں کو اتنا لاچار اور بے بس کردیتا ہے کہ وہ اخلاقی رنگ میں رچے بسے کچھ جملے بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ عملی طور پر ایک انگلی تک اٹھانے کی مجال نہیں، یا ’’جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ،،۔ اس کے ساتھ ہی یہ تصور ارزاں کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ منتخب شدہ حکومتی نظام اور عوامی نمائندگی ایک بوگس تصور ہے ۔ اور عام شہری یہ سب کچھ اپنی نظروںسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ڈی چوک کی تجربہ گاہ میں کی جانے والی پیہم اور معروضی جانچ کے بعد اب یہ ہتھیار استعمال کے لیے تیار ہے ۔ اس کی مختلف اشکال اوردرجہ بندیاں موجود ہیں۔ حالیہ دھرنا اپنے دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے دوسروں سے قدرے مختلف ہے ۔ یہ ہتھیار جمہوری انقلاب یا ’’نیاپاکستان،، کی بجائے مذہبی جذبات سے لبریز ہے ۔ اس مواد کے علاوہ اس کے دیگر حصے وہی ہیں جو اسلام آباد میں ٹیسٹ کیے گئے دیگر ہتھیاروں کے ۔ چونکہ اس کا مواد انتہائی حساس مذہبی ایشو ہے، اس لیے اس کی ہلاکت خیز ی کہیں بڑھ کرہے ۔ یہ بغیر تاسف کے کسی کو بھی ہلاک کرسکتا ہے، اور قاتلوں کو عظیم صلے کی نوید سناسکتا ہے ۔ اس پر قومی بحث بھی ممنوع ہے، چنانچہ عملی طور پر اسے ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے ۔ اور پھر جب قتل کا جواز فراہم کرنے کے لیے درجنوں فتوے موجود ہوں تو پھر بحث ویسے بھی ناممکن ہوجاتی ہے ۔
اس سے بھی اہم بات یہ کہ ایک مرتبہ جب اس جیسا ہتھیار کہیں نصب کردیا جائے تو اسے قر ب وجوار کی مساجد اور مزارات کا نیٹ ورک دستیاب آجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دوہفتوں سے یہ احتجاج جاری ہے ۔اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ اگر ان کے خلاف انتہائی ایکشن لیا گیا تو ملک کے ہر ضلع(کم از کم پنجاب میں) میں اس تحریک جیسے ماڈل دیکھنے کو ملیں گے ۔ جب ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو حکومت کے زیادہ تر وزرا نے اسی تشویش کا اظہار کیا ۔ جب میں نے ایک وفاقی وزیر سے پوچھا کہ اُنہیں دھرنا ختم کرانے کے لیے عدالتی حکم نامے کا کیوں انتظار ہے تو تو اُن کا برملا جواب تھا۔۔۔’’ہم اُنہیں ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہتے کیونکہ وہ پنجاب کی ہر مسجد سے احتجاجی مظاہرے کرنا شروع کردیں گے، اور یہ ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ دھرنے والوں کو مقامی طور پر دستیاب سیاسی مدد سے بہت ہوشیاری سے اس مقام تک لایا اور بٹھایا گیا۔ ان کی خوراک، طبی امداد اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جارہا ہے ۔ یہ ایک دھماکہ خیز صورت ِحال ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ا س کا کوئی حل نہیں۔، ،
اس آخری جملے سے عوامی جذبات کے ہتھیار کی ہلاکت خیزی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یہ کسی بھی حکومت کے سینے پر شدید گھائو لگا سکتا ہے، کسی بھی جوابی الزام کا منہ توڑسکتا ہے، جمہوریت کو سہار ا دینے والی اقدار کو پائے حقارت سے روند سکتا ہے ۔ مزید یہ کہ اسے قاطع جمہوریت سے تبدیل کرکے جمہوری عمل میں حصہ لینے والی ایک قوت کے طور پر بھی ڈھالا جاسکتا ہے ۔ چاہے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے مشترکہ دھرنے ہوں، پاکستان عوامی تحریک کی تنہا پرواز ہو، یا حالیہ دھرنا ہو، عوامی احتجاج کے ہتھیار میں ایک مشترکہ عامل اپنی جگہ پرموجو دہے کہ یہ بہتری لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے مکمل تباہی پھیلاتا ہے ۔ہمارا ماضی اور حال ایسے مہلک سیاسی ہتھیاروں کے استعمال کے گواہ ہیں۔ ان کے مہیب سائے مستقبل پر بھی دراز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ انتخابات کے قریب ان کی اختراع میں مزید جدت طرازیاں دیکھیں گے ۔
تاہم عوامی جذبات کوبھڑکا کر ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرنے میں ایک خطرہ اپنی جگہ پر موجو د ہے ۔ یہ بومرنگ کی طرح پلٹ کر بھی وار کرتا ہے، اور یہ وار بہت ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ اس کے ’’ضمنی نتائج،، (side-effects)بھی بہت شدید ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حکومت کو نشانہ بنانے سے زیادہ یہ ملک اور قوم کے لیے اجتماعی تباہی کا باعث بنتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت اور اس کے وزرا چھپ چھپا کر، یا معمولی زخم کھانے کے بعد اپنا بچائو کرنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اس ہتھیار نے ملک کے امیج اور عوام کی زندگیوں کو گہنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں