سول گو ر نمنٹ پر سپر گو ر نمنٹ ! راجہ عمر فاروق

سول گورنمنٹ پر سپر گورنمنٹ
تحریر:راجہ عمر فاروق

آزادکشمیر میں دو حکومتیں ایک ساتھ چل رہی ہیں، ایک سول حکومت جس کے اختیارات زبانی جمع خرچ، تقریریں کرنا اور کریڈٹ لینا ہے جبکہ دوسری حکومت عام شہریوں کو نظر نہیں آتی لیکن لامحدود اختیارات کے ساتھ مضبوط ترین حکومت ہے اور اس حکومت کا نام ہے بیوروکریٹک حکومت۔ کبھی کبھار یہ حکومت سول حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کو نظر آجاتی ہے اور کبھی سردار سکندر حیات خان کو اور اس حکومت کے خلاف سول حکومت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کو شکایتیں لگائی جاتی ہیں مگر چونکہ فاروق حیدر ’’بلڈی سویلین‘‘ کے کھاتے میں آتے ہیں اس لئے وہ اس گمنام مگر مضبوط حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ اس حکومت کا دارالحکومت بھی مظفرآباد میں ہے اور ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے کشمیر ہاؤس میں، اس حکومت کے وزیراعظم سول وزیراعظم کے ساتھ ہی بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے ہیں مگر عام لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ بیوروکریٹک حکومت کے وزیراعظم کو عام شہری اور سول حکومت کے وزراء پرنسپل سیکرٹری جبکہ بیوروکریسی وزیراعظم کے نام سے جانتی ہے۔ یہ دونوں متوازی حکومتیں ایک ساتھ ایک جگہ اور ایک ہی وقت میں چلتی ہیں ، سول حکومت اس نظرنہ آنے والی حکومت کے کاموں میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتی کیونکہ سول حکومت اسی بیوروکریٹک حکومت کی ماتحت سمجھی جاتی ہے۔ سول کے فرمودات و احکامات اجرائیگی کے بعد بیوروکریٹک وزیراعظم کے پاس پہنچتے ہیں آگے پھر انکی اپنی حکومت شروع ہوتی ہے اور ان پرمنحصر ہے کہ وہ کن احکامات کو شرف قبولیت بخشتے ہیں اور کن کو نظرانداز کر کے یا لفظوں کا ہیرپھیر کر کے اپنے احکامات بنا لیتے ہیں۔ اس بیوروکریٹک حکومت کے وزیراعظم پر سپر وزیراعظم چیف سیکرٹری کے نام سے بیٹھتے ہیں جبکہ اسکے وزیرخزانہ کو سیکرٹری مالیات اور اس حکومت کے وزیر داخلہ کو آئی جی آزادکشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ درحقیقت یہی اصلی حکومت ہوتی ہے جبکہ سول حکومت پانچ سال اس سپر گورنمنٹ کی گاڑیاں چلانے، ہوٹر بجانے کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام اضلاع میں ’’میں وزیراعظم ہوں، ہاں میں وزیراعظم ہوں‘‘ کہتی نظر آتی ہے جب سول حکومت کے سربراہ یہ الفاظ کہتے ہیں تو سپر گورنمنٹ کے وزیراعظم اور وزراء مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔سپر گورنمنٹ کی نشانیاں بیان کرنا کافی طویل المدت کام ہے لہذا شارٹ کٹ اختیار کرتے ہوئے نچلی سطح پر سول اور بیوروکریٹ حکومتوں کے تضادات پر بات کرتے ہیں۔

آزادکشمیر میں تمام قومی دن سول اور بیوروکریٹ حکومتیں ایک ساتھ مناتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ سول حکومت وزیراعظم، وزراء اور پاکستان کے وزرائے اعظم اور وزراء کے استقبال، قومی دن کی مناسبت سے تقریبات میں سول حکومت کے غریب ووٹروں کے بچوں کے ذریعے مناتی ہیں جبکہ اس دن ان بیوروکریٹس کے بچے اپنے گھروں میں یا کسی ’’فن ہاؤس‘‘ میں چھٹی منا رہے ہوتے ہیں۔ سول حکومت کے کسی سابق عہدیدار کی برسی ہو تو آزادکشمیر کے غریب ووٹرز کے بچوں کو چھٹی دیدی جاتی ہے جبکہ قائد اعظم، علامہ اقبال کے قومی دنوں پر بھی غریبوں کے بچوں کو چھٹی دیدی جاتی ہے کہ گھر جا کر ’’گلی ڈنڈہ‘‘ کھیلیں جبکہ بیوروکریٹ حکمرانوں کے بچے اس دن بطور خاص اپنے عالی شان مہنگے سکولوں میں جاتے ہیں اور موقع کی غنیمت کا فائدہ اٹھا کر غریبوں کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ معیاری تعلیم کا لطف اٹھاتے ہیں اور سول ووٹروں کے بچے اس دن ’’مولا بخش‘‘ سے جان چھوٹنے کا جشن کرکٹ کھیل کر مناتے ہیں۔بیوروکریٹ حکومت کے وزیر بلدیات (سیکرٹری لوکل گورنمنٹ) کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سول سیاست دانوں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں لہذا انہوں نے اپنے ’’حلقہ انتخاب‘‘ میں کروڑوں روپے کے فنڈز منظور کروائے ہیں اور انکے علاقے میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں تاکہ ریٹائرمنٹ پر انکا کریڈٹ لیکر سیاست کا آغاز کیا جاسکے۔
ٍ
یہ سپرگورنمنٹ بعض و اوقات مختلف مقامات پر مختلف بلنڈرز کا شکار بھی ہو جاتی ہے، اب اسی سے اندازہ لگا لیں کہ سپر گورنمنٹ نے حکم دیا تھا کہ ریاست کے تمام انٹری پوائنٹس پر نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں مسافروں کی فہرستیں متعلقہ چوکی افسر کو فراہم کی جایا کریں گے لہذا کوہالہ ، ہولاڑ اور بھمبر کے انٹری پوائنٹس پر تو ہر آنے جانے والی پبلک بس یا وین کے ڈرائیور سے لسٹ لی جاتی ہے جبکہ منگلا پل پر آنے والوں کا اندراج نہیں ہوتا جبکہ جانے والوں کی لسٹ لے لی جاتی ہے، حالانکہ آنے والوں کی فہرست لیا جانا زیادہ ضروری ہے مگر چونکہ سپر گورنمنٹ ہے لہذا انکی مرضی ’’انڈے دیں یا بچے‘‘۔ نیشنل ایکشن پلان شریف کا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ آزادکشمیر بھر میں کسی مسجد میں جمعہ کا خطبہ بھی لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی اجازت نہیں اور لاؤڈ اسپیکرز کا مذہبی استعمال شجرممنوع قرار دیا جا چکا ہے تاہم اسلام گڑھ ضلع میرپور کے ایک مقام پر گزشتہ شب شہریوں کی سماعتوں کا بھرپور امتحان لیا گیا اور پوری رات سیاسی بنیادوں پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کر کے شعر خوانی کروائی گئی مگر مجال ہے کہ کوئی پولیس اہلکار انکے پاس یہ درخواست لیکر پہنچا ہو کہ حضور رات کافی ہو گئی ہے اب لوگوں کو سونے دیں۔ سپر گورنمنٹ ہے تو انکی مرضی ’’انڈے دیں یا بچے‘‘۔

سپر گورنمنٹ کے سپروزیراعظم ، وزیراعظم کی لمبی چوڑی کابینہ ہوتی ہے اور ہر وزیر کے ماتحت ہزاروں ملازمین ہوتے ہیں جنکے ذریعے وہ اپنی وزارتیں چلاتے ہیں جبکہ سول حکومت کے وزیراعظم اور وزراء کے ماتحت سپر گورنمنٹ کے ہی وزیراعظم اور وزراء ہوتے ہیں جنکی مرضی ہے وہ سول کی بات مانیں یا اپنی من مانی کریں ، سپرگورنمنٹ کے وزراء اپنے سول وزراء کو کم ہی لفٹ کراتے ہیں جبکہ سپر گورنمنٹ کے ضلعی کوارڈنیٹرز تو بالکل ہی لفٹ نہیں کرواتے لہذا سپر گورنمنٹ کی عزت کیجئے، اسکے ساتھ جڑے رہیے تاکہ آپ کو حکومت کے اصل ثمرات سے بہرہ مند ہونے کا شرف حاصل ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں