کابل، قراقلی ٹوپی اور کشمیر ،ریاض مسرور

کابل، قراقلی ٹوپی اور کشمیر
ریاض مسرور

کوئی سو سال پہلے جب افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان نے قراقلی ٹوپی سر پہ رکھی تو کابل سے لاہور اور وہاں سے دلی تک یہ ٹوپی دانشورانہ سیاست کی علامت ٹھہری۔ یہاں تک کہ مغربی اقدار پر یقینِ راسخ رکھنے والے محمد علی جناح نے اس ٹوپی کو برٹش انڈیا میں پنپنے والی مسلم نیشنلزم کا گویا نقیب بنادیا۔افغانستان اور بعض وسط ایشیائی خطوں میں قراقل دراصل بھیڑ کی ہی ایک قبیل ہے جس کے نوازائد کی فروالی کھال سے کشتی نما ٹوپی بنائی جاتی ہے۔کشمیر میں تو عزت دار ، اہل رسوخ اور ارباب ِ حل وعقد کی پہچان ہی قرہ قلی ہے۔ شیخ عبداللہ کے جناح صاحب سے لاکھ اختلافات لیکن قرہ قلی کے بغیر ان کی تصویر پہچانی نہیں جاتی۔ مفتی سید، غلام نبی آزاد، فاروق عبداللہ وغیرہ نے قرہ قلی کو اس قدر عام کیا کہ راجیو گاندھی بھی اس کے رسیا ہوگئے تھے۔
اس طرح افغانستان کی قرہ قلی پاکستان ہوتے ہوئے کشمیر پہنچی ہے۔اتفاق ہے کہ افغانستان سے ہی مسلح مزاحمت کی ہوائیں بھی پاکستان ہوتے ہوئے کشمیر پہنچی ہیں۔کابل، قندہار اور کشمیر کا استعارہ تو سیاسی لہجوں پر جذبات کا تڑکا دینے کا دیرینہ حربہ رہا ہے۔ جنوب ایشیائی تناظر میں دیکھیں تو سات عشروں سے بھارت اور پاکستان افغانستان میں ایک دوسرے کو قراقلی ٹوپی پہناتے رہے، لیکن فی الوقت حال یہ ہے کہ بھارت میں کوئی بھی سیاست دان اب کشمیریوں کی خوشنودی میں قراقلی نہیں پہنے گا، پاکستان میں بھی جناح کیپ کہلانے والی قراقلی کومولانا فضل الرحمٰن کے رنگین دستار نے مات دے دی ہے ، رہی بات افغانستان کی تو وہاں اب قراقلی میوزیم میں آویزان پرانی تصویروں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔لے دے کے کشمیر ہے ، جہاں مولوی سے لے کر سیاستدان اور تاجر رہنما سے لے کر مذہبی رہنما تک سب لوگ ابھی بھی قراقلی کو ہی سماج میں امتیازی حیثیت کا پاسپورٹ سمجھتے ہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگرگزشتہ 30 سال کے دوران افغانستان میں بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کو ٹوپی نہیں پہنا سکے، تو خواہی نخواہی کشمیریوں کو ہی ٹوپی پہننا پڑے گی!
بھارت کی خارجہ پالیسی کے تو کیا کہنے ۔ بنگلہ دیش بنانے کی خاطر دنیا کو سکھا دیا کہ سماجی ارتعاش پیدا کرکے لانچ پیڈ کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسی طرح سری لنکا میں تمل ٹائیگرس کے لئے خفیہ تربیت گاہیں قائم کرکے یہ بھی بتادیا کہ پراکسی وار کس چڑیا کا نام ہے۔لیکن یہ سب اُسوقت ہوا جب پروپگنڈا ابھی پاور پالیٹکس کا حصہ نہیں تھا، ٹی وی نیوز ابھی سرکاری عمل تھا اور گوگل، فیس بک، وٹس اپ وغیرہ سے لوگ ابھی نابلد ہی تھے۔ایسا نہ ہوتا تو سقوط ڈھاکہ کے باوجودجب کمزور پاکستان نے مذاکرات کے ذریعہ قریب ایک لاکھ جنگی قیدیوں کی رہائی کا کرشمہ دکھایا تو بھارت میں اندرا گاندھی کی کایا پلٹ جاتی ۔
ویسے بھی بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی فوکس پاکستان ہی رہا ہے اوریہ پاکستان ہی ہے جس نے بھارت کو گزشتہ پندرہ سال کے دوران روایتی حلیف روس کی عنایات سے منکر ہوکر امریکہ کی جھولی میں گرا دیا ہے ۔ امریکیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کو کبھی کبھار ایک آدھ ڈانٹ کھلا کر وہ بھارت کو خوش کرتے رہیں گے لیکن بھارت کا اصل کردار افغانستان میں دیکھا جارہا ہے۔ ڈیڑھ دہائی سے امریکہ اُس جنگ میں جوجھ رہا ہے جسے کابل پر بمباری کے وقت ’’شاٹ وار‘‘ کہا گیا تھا۔ اب امریکہ بھارت کو چین اور پاکستان کے خلاف ایک خندق کے طور استعمال کررہا ہے اور فی الوقت بھارت کو افغانستان میں معاشی ہی نہیں بلکہ فوجی کردار نبھانے کے لئے آمادہ کیا جارہا ہے۔
امریکہ جنوب ایشیا میں ایک منی وار زون چاہتا ہے جس کے کردار مقامی ہوں تاکہ ان چھوٹی موٹی جنگوں کے طفیل چین اور روس کی وسط ایشیا تک رسائی کومزید کئی دہائیوں تک روکا جاسکے۔ اس نئے گریٹ گیم میں کشمیر تذویراتی طور پر متعلق ہورہا ہے، لیکن کشمیریوں کی حالت اُسی گول پتھر کی سی ہے جو جھرنے میں بہتے بہتے اپنی سِل گھلا رہا ہو۔اور اب زمانہ یہ آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی بجائے افغانستان ہی ’’کور ایشو‘‘ کے طور اُبھر رہا ہے، اور کشمیریوں کو سی پیک کی میٹھی گولی کھلائی جارہی ہے۔
حالانکہ پاکستان کے تذویراتی حلقوں میں آج کل 1979میں امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے روس مخالف جنگ میں کود جانے اور 9/11 کے بعد مسلح قوتوں کی خفیہ پرورش کو ناقص خارجہ پالیسی کہا جارہا ہے۔لیکن دوسری طرف سی پیک کو اللہ دین کے چراغ کے طور پروجیکٹ کرکے پاکستانیوں اور کشمیریوں کو بہلایا جارہا ہے۔چین کے ساتھ تعلقات کی مدت چار نہیں بیس سال ہے۔پاکستان کی معیشت کا شائد ہی کوئی شعبہ ہوگا جہاں چینی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، 2006میں چین۔پاک فری ٹریڈ معاہدہ کے تحت باہمی تجارت کو 1500کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا جو ہدف باندھا گیا تھا، وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ ایسے میں سی پیک کو ہی ساری بیماریوں کا تریاق قرار دے کر ایک کروڑ تیس لاکھ کشمیریو ں کی دیرینہ سیاسی خواہشات کو سی پیک کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے۔سی پیک بلاشبہ ایک نئی گریٹ گیم کا آغاز ہے، جس میں فی الوقت پاکستان کو قدرے اپر ہینڈ حاصل ہے، لیکن بھارت کے ساتھ مفاہمت کرنی ہے یا مخاصمت ، اس کا دارومدار آج بھی اس بات پر ہے کہ انڈیا کابل میں کیا کررہا ہے۔
اب جبکہ بھارت یا پاکستان میں افغانی قراقلی ٹوپی کا رواج نہیں رہا، قراقلی کو ابھی تک سروں پر رکھنے والے کشمیریوں کو دو باتیں یاد رکھنی ہونگی۔ایک یہ کہ کشمیرکی سابقہ لیڈرشپ نے بھارت کو لاکھ سمجھایا کہ کشمیریوں کی تہذیبی اور سیاسی شناخت کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے بغیر اس سرزمین پر دلی کا اقتدار قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن دلی والے اب سیاسی اقتدار کے بجائے قبضہ پر قانع ہیں، اور آبادی منجملہ ہندمخالف ہوگئی۔ اسی طرح اب کشمیر کی موجودہ لیڈرشپ پاکستان کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہی ہے کہ ہماری تہذیبی شناخت اور سیاسی آرزؤں کا دفاع کیجئے ، لیکن پاکستان افغانستان کے زاوئے سے کشمیر کا ٹمپریچر گھٹاتا اور بڑھاتا رہا ہے۔دونوں ملکوں کو سمجھنا ہوگا کہ کشمیری آج بھی قراقلی پہنتے ہیں!
لہٰذا افغانستان کے کھیل میں دونوںملکوں کو جو ملے سو ملے، کشمیریوں کو احساس شکست ہوا تو سارا گیم ہی خراب ہوجائے گا۔
بشکریہ ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں