پی سی بی آئین میں تبدیلی کی تیاریاں

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ میں چہیتوں کونوازنے کیلیے آئین میں تبدیلی کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی نے گورننگ بورڈ کا اجلاس 22 نومبر کو لاہور میں طلب کر لیا۔
نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد سابق بورڈ سربراہ شہریارخان کی باقیات کے خلاف ضروری اقدامات کرنے اور اپنے من پسند چہیتوں کونوازے کے لیے کمر کس لی ہے، ذرائع کے مطابق چیئرمین بورڈ نے گورننگ بورڈ کا اجلاس22 نومبر کو لاہور میں طلب کیا ہے، نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے کے بعد گورننگ بورڈ کا یہ پہلا اجلاس ہوگا۔
میٹنگ کا حصہ بننے والے ارکان عارف اعجاز، جنرل (ر) مزمل حسین واپڈا، نعمان کے ڈار ایچ بی ایل، مفتاح اسمعیل سوئی سدرن گیس، منصور مسعود خان یو بی ایل، کوئٹہ کے مراد اسمعیل، سیالکوٹ کے محمد نعمان بٹ اور لاہور ریجن کے شاریز عبداللہ خان روکھڑی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کا اہم ایجنڈا ریجن کرکٹ کے صدر کی میعاد بڑھانے کے لیے آئین میں ترمیم پر غور ہوگا، اس اقدام کی صورت میں سب سے زیادہ فائدہ چیئرمین نجم سیٹھی کے چہیتے شکیل شیخ کو ہوگا جو 2 بار اسلام آباد ریجن کے صدر رہ چکے ہیں، پی سی بی آئین میں ترمیم کی صورت میں شکیل شیخ کے تیسری بار صدر بننے میں حائل رکاوٹ ختم ہو جائے گی۔
اجلاس میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، چیئرمین بورڈ گورننگ بورڈ کو سری لنکا کی پاکستان آمد اور ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان کے راستے میں حائل رکاوٹوں پر بھی ارکان کو تفصیلی بریفنگ دینے کے ساتھ آئندہ برس فروری اور مارچ میں شیڈول پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کی تیاریوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ لیگز کے دونوں سیمی فائنلز لاہور اور فائنل کراچی میں ہوا تو اس کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے حوالے پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاک بھارت کرکٹ سریز کے لیگل معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان 2015 تا 2023 کے عرصے کے دوران مجموعی طور پر8 سیریز ہونا تھیں لیکن بھارتی بورڈ کے انکار کے بعد پی سی بی کو 50 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، اس نقصان کے ازالے کے لیے پی سی بی عالمی عدالت میں کیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے ایک ارب روپے کی خطیر رقم بھی مختص کردی گئی ہے جب کہ سابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان واضح کرچکے ہیں کہ اس کیس سے پاکستان کو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہی ہوگا، اجلاس میں اس حوالے سے بھی باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا۔
مزید معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے معاملات پر بھی بحث ہوگی اور قائد اعظم ٹرافی کے دوران اسپانسر نہ ملنے، ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کے انٹرنیشنل لیگز میں چلے جانے اور اس سسٹم میں موجود خامیوں پر بھی غور کیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں