چمنِ خاص سے !محمد قمر الحق قمر

مکتبِ علی اکبر اعوان ، میری جان ، میری جان
تحریر:محمد قمر الحق قمر

نہ جانے قسمت نے کھوکھلے مجسمے کواس گلشنِ جنت میںکیسے پہنچا دیا ۔ کہاں ہماری قسمت تھی کہ ہم بھی اس کوچہِ جنت کا حصہ بنتے۔لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرم و احساں نے ہماری مقدر آزمائی کیلئے ایک اور راستہ نکال ہی دیا۔دیہات کے اک کوچہِ ویراں سے جھٹ نکل کرارتقا کی منازل کو چھوُتے ہوئے جماعتِ نہم میں داخلے کی خاطر شہر ِ مظفرآباد کے مشہور اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے چُنائو کا مرحلہ آن پڑا۔یہ تو معلوم ہی تھا کہ یہاں کا ماحول ہمارے دیسی ماحول سے ذرا سا ہٹ کے تھا ۔المختصر علی اکبر اعوان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول چھتر دومیل میں داخلے کا فیصلہ ہوا۔جناب والدِگرامی کو اس سکول کے چرچوںاور اس سکول کی تربیتِ خاص نے کافی حد تک مُتااثر کر رکھا تھا۔خیر”بسم اللہ” کر کے داخلہ لے لیا گیا ۔پڑھائی زور و شور سے شروع ہوئی۔انتہائی شفیق و محنت کش اُساتذہ کے زیرِ سایہ زندگی کے نہایت ہی قسمت آزما اور محنت طلب دور میں پروان چڑھنے لگا ۔رفتہ رفتہ یادِ ماضی سے بھی جان چھوٹتی گئی ۔ بوجھ ذرا سا ہلکا ہو گیا ۔ ابتدائی مراحل میں گرچہ تھوڑی بہت مشکلات نے آن گھیرا ۔ کچھ مصیبتیں گلے پڑیں۔لیکن آخر ان سب نے تو سبق ہی سکھانا تھا ۔ بہت کچھ سیکھا۔اُمید سے بھی بڑھ کر۔رفتہ رفتہ اس ناشناس ماحول سے واستہ پڑنے لگا ۔ بعد ازاں آشنائی بھی مل گئی ۔ایک یہ کہ علی اکبر اعوان سکول کی عمارت نے جیسے جادو سا کر دیا ۔عمارت سے یاد آیا کہ جس دن میرا داخلہ کرا نے کے لئے ہم لوگ یہاں اس سکول میں آئے تو میرا چھوٹا بھائی بھی ساتھ تھا ۔ وہ اس سکول کی عمارت کو دیکھ کر کہنے لگا کہ ” ابو جی ! مجھے بھی بھائی کے ساتھ اسی سکول میں داخل کرو ! میںبھی یہاں ہی پڑھوں گا!۔ہم نے کہا سوچتے ہیں۔”اس کے بعد اس سکول کے گرِد و نواح میں بھی کا فی کشش دیکھنے کو ملی۔

جہاں تک تعلق ہے ایک ان جان راہی کی کے سفرِ خاص کا تو وہ شروع ہو چکا تھا ۔اب اگلا مرحلہ لگن اور شوق کے ساتھ پڑھنے کا تھا۔خیر پڑھابھی۔ لیکن اس طرح نہیں کہ جس طرح پڑھنا چاہیئے تھا۔
لیکن جو مقدر میں ہوتا ہے ۔ وہ تو مل ہی جاتا ہے۔ علی اکبر اعوان میں دو سال نہ جانے کیسے گزرے ! پتا ہی نہیں چل سکا۔ خیر ماضی کی ہی بات کرتے ہیں۔ ابتدائی لمحات میں ، اس چمنِ محبت میں قدم رکھنے کے بعد مجھے جن اصحاب کے زیرِ سایہ پرون چڑھنے کا انتہائی حسیں موقع ملا ، نہایت ادب واحترام سے ان پیارے پیارے اسمائے گِرامی لیتے ہوئے ان کا تذکرہ کرتا چلوں۔ان اساتذہ میں ،منیر احمد مُغل صاحب جنھوں نے محض ایک سال ہی ہمیں پڑھا یا بعد ازاں ان کا تبادلہ ہو گیا تھا اور اس انداز سے کہ شائد ہی کوئی استاد مجھے میری زندگی میں اپنے سکول سے جانے کے بعد یاد آئے ہوں ۔ اسکے بعد محمود الحسنین بُخاری صاحب ، خدا ان کی مغفرت فرمائے جو ہم میں نہیں رہے۔ان کی یاد بھی بے حد ستاتی رہتی ہے۔ اس کے بعد فرید اعوان صاحب ، جن کا ہر طرف شُہرہِ عام ہے، جنھوں نے ڈیڑھ سال تک ہمیں پڑھایا۔ اور خود سے ہمیں روشناس کروایا۔ اس کے بعد طاہر ہاشمی صاحب ، امجد صاحب،اظہار الحق اعوان صاحب،شیخ اقبال صاحب ، آصف اعوان صاحب۔ اس کے بعد جماعتِ دہم میں ضیاء ُالحق مُغل صاحب، سفیر احمد کھوکھر صاحب، احمد علی سعیدی صاحب،اسماعیل صاحب ، فرہاد احمد اعوان صاحب۔ اور ہاںاس مقامِ خاص پر اگر میں ایک صاحب کا نام نہ لوں تو یقینا یہ زیادتی ہو گی اس ادارے کے سفیر جنھیں کہ سکتے ہیں ،محمد رضوان یوسف صاحب اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔مجھے نہیں یاد پڑتاکہ ہمارے مظفرآبادمیں یا پھر مظفرآباد سے باہر بھی کسی بھی مقام پر کوئی بھی کسی چیزکے مقابلہ جات ہوں تو وہ ان کی نظروں میں نہ آئیں اور ہمارے علی اکبر اعوان سکول کے طالب علم اس میں شرکت نہ کریں ۔ ہمارے ہیومن اپیل کے پروجیکٹ احساس کوالٹی ایجوکیشن کے زیرِ انتظام جتنے بھی مقابلہ جات ہوئے ہیں اس میں انہی صاحب کی بدولت ہم آگے گئے اور کچھ نہ کچھ جیت کر آئے۔ احساس پروجیکٹ کے ممبر سید اعجاز حسین بخاری صاحب جب ہمارے سکول میں آئے تو انہوں نے رضوان یوسف صاحب کی ڈیلنگز (dealings) وغیرہ کو دیکھ کر کہا کہ ” آج تک میں نے اپنی زندگی میں اتنا تیز ترین شخص اس معاملے میں کبھی نہیں دیکھا”۔ضوان یوسف صاحب نے ک بیشتر مرتبہ اس ادارے کے چند ہونہار بچوں کے کے ساتھ پاکستان میں آزاد کشمیر کی نمائندگی بھی کی ۔رضوان یوسف صاحب کے بھائی عمران یوسف صاحب بھی اسی ادارے میں علم کے دیے جلا رہے ہیں۔۔۔۔۔اس کے علاوہ ،پی ۔ای ۔ٹی ممتاز صاحب، پی۔ ای ۔ٹی وسیم صاحب،عقیل احمد قریشی صاحب،فاروق صاحب ، ساجد بٹ صاحب، اُلفت صاحب، روشن صاحب، جواد صاحب،وسیم صاحب، المختصر جن کے نام میں لے سکا اور جن کے پیارے پیارے نا م نہ بھی لے سکا ، سب کا شُکر گُزار ہوں اور سب سے بڑھ کر اس ادارے کے نہایت ہی شفیق صدرِ معلم سیّد ممتاز حُسین بُخاری صاحب جن کے تبادلے کا واقعہ بھی دِ لخراش تھا ۔المختصر ان سب استاذان ِ گرامی سے بہت مُتا اثر ہوا ۔ بہت استفادہ حاصل کیا۔ بہت کچھ سیکھا۔ نہایت احترام سے ان سب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شُکریہ ادا کرنا لازم و ملزوم سمجھتا ہوں کہ جنھوں نے میرے زندگی کو زندگی بنایا ۔ میری زندگی کو زندگی سے ملایا۔ پھر جماعت دہم کے وسط میں اسی ہی ادارے کی جماعتِ دہم میں جس میں میں بھی پڑھا کرتا تھا ۔ اک اُڑتا ہوا شاہین اور مُریدِ اقبال، ” مُحمد اسرار الحق شجر (مُغل) کی صورت میں ملا ۔ جسے دُنیائے پاکستان ”شاعرِ کشمیر” جیسے ناموں سے یاد کرتی ہے ۔ جس نے مجھ پہ احساں کی انتہا کر دی ۔ وہی مجھے دُنیائے سُخن اور دُنیائے فِکر میں لانے کا موجب بنا ۔آج کل بھی اس اُڑتے ہوئے اس معصوم سے پرندے سے مُلاقات ، اتفاقاََ ہو ہی جاتی ہے ۔ لیکن بہت کَم ۔ پھر ایک اور بُلبُلِ علی اکبر و شانِ علی اکبر اور شاہِ ترنم ” زعفران احمد عباسی” جو کہ اس گُلشنِ خاص کی خاص زینت آج بھی ہیں ان سے بھی واسطہ پڑا۔ خیر جو بھی ہوا قسمت ہی تھی کہ علی اکبر جیسی درس گاہ ہمارا مقدر بنی۔ ہمارے اس چمنِ خاص سے چلے جانے کے بعد اس کی زیب و زینت کو مزید جِلا بخش دی گئی۔ نئے آنے والے پر نسپل نصیر احمد سُلہریا صاحب کی کاوشوں اور ان کی محنت و لگن کے سبب اس سکول کی حالت مزید بہتر سے بہتر تُر ہو گئی ۔ادارے کے استقبیالیہ کوبھی متحرک کر دیا گیا۔نظم و ظبط کی قاعدے کلیے تبدیل ہو گئے ۔سارا کا سارا ماحول بدل دیا۔نئے آنے والے نہایت ہی قابل اساتذہ کرام اور ان کی محنتوں سے بھی اس مکتبِ علی اکبر کو چار چاند لگ گئے۔ سارا چمنِ علی اکبر جگمگا اُٹھا۔چمک دمک اُٹھا ۔جو بھی ہے :
مکتب ِ علی اکبر ا عوان ۔۔۔۔۔۔
میری جان ، میری جان ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں