مُرغی کی آبروریزی ، حافظ آباد میں لڑکا گرفتار


پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وسطی ضلع حافظ آباد میں ایک چودہ سالہ لڑکے کو ایک مرغی پر جنسی حملے اور اس کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انگریزی روزنامے دی ایکسپریس ٹرائبیون میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اس لڑکے نے حافظ آباد کے علاقے جلال پور بھٹیاں کے نزدیک واقع ایک گاؤں ٹھٹھہ گاہرہ میں 11 نومبر کو اس مرغی پر جنسی حملہ کیا تھا۔

مرغی کے مالک نے جلال پور بھٹیاں تھانے میں یہ رپورٹ درج کرائی ہے کہ اس لڑکے نے ’’مقتولہ‘‘ کو چوری کر لیا تھا ۔ وہ اس کو اپنے گھر لے گیا تھا جہاں اس نے اس کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا یا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔ مالک نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ لڑکے کے مرغی سے غیر فطری فعل کو دو مقامی افراد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

مالک کی رپورٹ پر مردہ مرغی کا طبی معائنہ کیا گیا تھا اور اس سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ اس کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لڑکے نے پولیس کے روبرو اپنے غیر فطری جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 اور 429 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس جرم کے ارتکاب پر اس لڑکے کو کیا سزا سنائی جا سکتی ہے۔اس کو آج منگل کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں