گیلانی صاحب! شیخ عبداللہ کا زمانہ گزر گیا ! ریاض مسرور

گیلانی صاحب! شیخ عبداللہ کا زمانہ گزر گیا ہے
ریاض مسرور

۔1971میں جب پاکستان دو لخت ہوگیا ، تو بنگلہ دیش کے قیام اور کشمیر کی مزاحمتی سیاست کا ارتقاء بیک وقت شروع ہوگیا تھا۔ احباب تو سمجھتے ہیں کہ شیرکشمیرکہلانے والے شیخ محمد عبداللہ نے سلطان کشمیر بننے کے عزائم اُسی دور میں ترک کردئے تھے، لیکن حقیقت حال جو بھی ہے اسے رہنے دیتے ہیں ،یہاں ہم موجودہ حالات کی بات کرتے ہیں۔حکومت ہند کی طرف سے جاری مذاکرات کے سائڈشوکے بیچ سید علی گیلانی کے ساتھ منسوب ایک بیان جاری ہوا جس میں بتایا کہ ’’قربانیوں کا سودا ناقابل قبول ہے، کسی کو شیخ عبداللہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
گیلانی صاحب فی الوقت عمر کے نویں عشرے کی طرف گامزن ہیں۔ پیرانہ سالی کے مسائل سے دو چار مزاحمتی تحریک کے اس بزرگ رہنما کو ایک دہائی سے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے گرد این آئی اے کا محاصرہ ہے۔ایسے میں جب گیلانی صاحب عین روایت کے مطابق یہ انتباہ دیتے ہیں کہ ’’کسی کو شیخ عبداللہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ تو حساس حلقے اس وارننگ میں بہت کچھ پڑھتے ہیں۔ کیا نیا شیخ عبداللہ ہندنواز خیمے سے بننے والا ہے، یا گیلانی صاحب کے لشکر میں ہی کچھ حوصلہ مند لوگ شیخ عبداللہ بننے کی آرزو میں چھٹپٹا رہے ہیں؟
جو بھی ہو، کشمیر کے حالات، یہاں کی مزاحمتی تحریک کے جدید اجزائے ترکیبی اور جنوب ایشیا میں علاقائی قوتوں کے درمیان کھلیا جا رہا گریٹ گیم یہ اخذ کرنے کے لئے کافی ہے کہ 2017کسی بھی نوعیت سے 1971نہیں ہے۔ گزشتہ تیس سال کے دوران جہلم سے پانی کے ساتھ ساتھ بہت خون بہہ چکا ہے، کشمیریوں کی چوتھی نسل بھی اُسی نعرے کا اعادہ کررہی ہے جو محاذ رائے شماری کے دوران شیخ عبداللہ کے حواریوں نے دیا، پھر مسلم متحدہ محاذ کے سپاہئیوں نے بلند کیا اور بعد میں حریت کانفرنس نے بیسویں صدی کے وسط میں گھر گھر پہنچایا۔ حالات جو بھی ہوں، مجبوریاں جیسی بھی ہوں، سیاست یا سفارتکاری میں جس قدر ابہام ہو، لیکن ایک نظریاتی اور مطالباتی تسلسل ہے جو موجودہ تحریک کا خمیر بن چکا ہے۔
لیکن پھر بھی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1947سے 1975تک بھی لوگوں نے قربانیاںدی تھیں۔ جموں کے قتل عام کو جوڑ دیں، تو تین لاکھ کے قریب مسلمان مسلہ کشمیر کے گرد کھیلے گئے خونین کھیل کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔نوجوان نسل بھی کانشس تھی اور تعلیمی اداروں میں آزادی کا اکٹیوازم معمول کا شغل تھا۔ لیکن مزاحمت کے وہ سبھی سُرخیل آج کل سرکاری اداروں میں اونچے عہدوں پر فائز ہیں اور بہت سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ اپنی مزاحمتی طبعیت کی مالِش میں مصروف ہیں۔ شائد گیلانی صاحب کا کنسرن اسی تکلیف دہ روایت کے پس منظرمیں ہے۔
1971میں جب مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو اُسوقت بھارت اورسویت روس کے بیچ دفاعی تعلق اس قدر مضبوط تھا کہ امریکہ نے سقوط ڈھاکہ کے وقت منہ پھیر لیا تھا۔سویت یونین اُس دور میں وسط ایشیا کے گرم پانیوں تک رسائی کا روڈ میپ بنا چکا تھا، اور افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان اور ہندوستان میں بھی اشتراکی نظریہ کی دھوم تھی۔نظریاتی زمین کی اس ہمواری کا نتیجہ یہ نکلا کہ روسی فوج 1979میں افغانستان پر چڑھ دوڑی۔جنوب ایشیا کی جیوپالیٹکس قلابازیاں کھارہی تھی اور کشمیر کے سیاہ و سفید پر جس طلسماتی شخصیت کا راج تھا وہ اس تذبذب کی سیاست سے ہوکر آئی تھی اور اب بھارتی وفاق میں ہی نیم بادشاہت پر ہی قانع تھی۔بعد میں بہت کچھ ہوا۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے کے باوجود پاکستان نے نیوکلیائی قوت حاصل کرلی اور افغانستان میں امریکی جنگ کا ٹھیکہ اپنے سر لے کر خطے میں اسلام کی حفاظت کا علم بلند کرڈالا۔ اس دوران انقلابِ ایران نے بھی سوچ کے دھارے پلٹ دئے اور کشمیر دانستہ یا نادانستہ اس علاقائی جنگ کی ایک کڑی کے طور اُبھرا۔
گزشتہ تین عشروں کے دوران بھی ایسے کئی مراحل آئے جب یہ خدشہ تھا کہ شیخ عبداللہ کی روح کسی نہ کسی جسد میں سرایت کرجائے گی۔پہلے تو مسلح تحریک کی کمر توڑ دی گئی اور بات چیت کا ڈھول پیٹا گیا، لیکن کسی کو شیخ عبداللہ بننے کا موقعہ نہیں ملا۔ پھر نائن الیون کے بعد جب جنرل مشرف نے خود یہ اعتراف کیاکہ وہ ملی ٹینسی کا خاتمہ نہیں کرتے تو امریکی پاکستان پر بمباری کرکے اسے پتھروں کے زمانے میںپہنچادیتے۔ مذاکرات کے فوٹوسیشن ہوئے، لیکن شیخ ماڈل دُور دُور تک نظر نہیں آیا۔
اب کی بار بھی حالات دگر گو ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے ریکس ٹلرسن کے جنوب ایشائی دورے سے قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکہ نے بھارت کو پاکستان پر نظرگزررکھنے کے لئے کہا ہے۔ پھر یہ بات سامنے آئی کہ 20مسلح گروپوں کی فہرست پاکستان کو سونپ دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کا قلعہ قمہ کیا جائے۔ اب یہ اشارے مل رہے ہیں حافط سعید ، مسعود اظہر وغیرہم کو سیاسی مین سٹریم میں لانے کے لئے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دن رات کام کررہا ہے۔بلوچستان اور گلگت بلتستان میں علحدگی پسند ی کی سوچ کو اغیار نئی شدت کے ساتھ مہمیز دے رہے ہیں ۔
واقعی پاکستان فی الوقت بہت بڑے چیلنج سے دوچار ہے، لیکن پھر بھی دُور دُور تک کوئی ایسا امکان نظر نہیں آرہا ہے کہ کشمیرمیں ایک اور شیخ عبداللہ پیدا ہوسکتا ہے، جو پاکستان کے عسکری و سفارتی محاصرے سے دل ملول ہوکر کوئی متبادل راستہ تلاش کرے۔گیلانی صاحب کو معلوم ہے کہ اگر وہ خود ایسے کسی شفٹ پرنیک نیتی سے بھی آمادہ ہوجائیں تو شیخ عبداللہ کا ہیڈلانگ ممکن ہی نہیں۔
کشمیر بہت آگے نکل چکا ہے اور جنوب ایشیا میں امریکہ اور چین کی مسابقتی جنگ میں بھارت اور پاکستان بری طرح پھنس گئے ہیں۔ فی الوقت شیخ عبداللہ کا ماڈل غیر متعلق ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ کسی کو شیخ عبداللہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، زمینی حقائق سے بعید ایک بات ہے۔ عبداللہ نے جو کیا سوکیا، کشمیریوں کودراصل ایک نئے شیخ السیاست کی ضرورت ہے، جو ان کے قومی وجود کو منوانے اور ان کی سیاسی ریلونس کو اُبھارنے کے لئے شیخ سے بھی بڑا رِسک لینے کے لئے تیار ہو۔ لیکن بات پھر وہی ہے، سیاسی رہنما بڑے فیصلوں کا رِسک تب ہی لیتے ہیں جب وہ عوامی حمایت کے بارے میں نہ صرف اعتماد رکھتے ہوں بلکہ اپنے ہمرقابوں پر بھی وہی گرفت رکھتے ہوں جو شیخ عبداللہ رکھتے تھے۔ شیخ عبداللہ کو جانے دیجئے، یہ وقت کشمیری مسلمانوں کی بقاء کے لئے فکرمند ہونے کا ہے اورلوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مزاحمت کا مطلب باقی رہنا ہے یا فنا ہوجانا۔
بشکریہ ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں