سکندر حیات خان کے احسانات کا بدلہ !راجہ عمرفاروق


سکندر حیات خان کے احسانات کا بدلہ
راجہ عمرفاروق

سردار سکندر حیات خان نے اپنے ادوار حکومت 1985تا 2006 آزادکشمیر بھر میں متعدد افراد کو حکومتی سیٹ اپ میں ایڈجسٹ کیا تھا، یہ ایڈجسٹمنٹ سینئر کانفرنسی رہنمائوں کو نظرانداز کر کے من پسند افراد کی ہوتی رہی تھی، صدر مسلم لیگ(ن) ضلع میرپور چیئرمین عبدالمالک، سابق امیدوار اسمبلی نذیر انقلابی، چیئرمین اللہ دتہ، سابق چیئرمین چوہدری خالد، سابق چیئرمین راجہ خالد، مرزا ظفر اقبال ایڈووکیٹ،سابق رکن اسمبلی راجہ مقصود، راجہ اقبال، سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سردار رازق ایڈووکیٹ، وزیرحکومت راجہ نثار، ڈی جی وزیراعظم سیکرٹریٹ ملک ذوالفقار، رکن کشمیر کونسل عبدالخالق وصی، شفیق انقلابی، وزیر صنعت نورین عارف، رکن اسمبلی راجہ قیوم، سابق صدر راجہ ذوالقرنین سمیت نکیال اور ضلع کوٹلی بالخصوص اور میرپور اور مظفرآباد مالعموم سردارسکندر حیات خان کے ادوار حکومت میں سیاسی ایڈجسٹمنٹس کے مراکز رہے تھے جہاں متعدد کانفرنسی (موجودہ لیگی) رہنمائوں کی ایڈجسٹمنٹس کر کے انکے قد کاٹھ میں اضافہ اور ریاستی وسائل تک رسائل ممکن بنائی جاتی رہی تھی اور ان ریاستی وسائل سے سردار صاحب کے احسان مند بخوبی بہرہ مند بھی ہوتے رہے تھے یہی وجہ ہے کہ آج یہ افراد دولت اور سیاست کے میدان میں اپنے ہم نوالہ ہم پیالہ دوستوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ سردار سکندر حیات خان کے شعلہ بیاں انٹرویو کے بعد انکے خلاف بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے ، امید تو یہی تھی کہ سب سے پہلے راجہ فاروق حیدر خان سردار صاحب کے الزامات اور تنقید کا جواب دیں گے مگر انکی جگہ پیپلز پارٹی کے صدر لطیف اکبر نے سردار سکندر حیات خان کو جواب دیا، انکا جواب سن کر یہی لگ رہا تھا کہ انکے اندر چھپی فاروق حیدر کی روح سردار سکندر حیات خان کو جواب دے رہی ہے جبکہ راجہ فاروق حیدر خان کے چاہنے والے لیگی رہنمائوں نے بھی اپنی توپوں کے رخ سردار سکندر حیات خان کی طرف موڑ رکھے ہیں مگر مجال ہے کہ سکندر حیات خان کے کسی احسان مند نے انکے حق میں بیان جاری کیا ہے، رکن اسمبلی راجہ قیوم ، پروفیسر فیاض اور راجہ اعجاز دلاور نے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کی اپنی سی کوشش کی ہے مگر سردار سکندر حیات خان کو انکے چاہنوں والوں نے کندھا نہیں دیا جو یقینا آزادکشمیر میں احسان فراموشی کی درخشاں مثال ہے۔
نذیر انقلابی حال ہی میں حلقہ اسلام گڑھ چکسواری سے سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کے مدمقابل الیکشن لڑا اور بہت کم لیڈ سے ہارے مگر انکے سیاسی کیرئیر کے آغاز پر نظر دوڑائی جائے تو 2001 کے الیکشن میں مضبوط ترین امیدوار کیپٹن(ر) سرفراز خان کو کمزور کرنے کے لئے سردار سکندر حیات خان نے نذیر انقلابی کو آگے کیا تھا ۔ ٹکٹ کا میرٹ کیپٹن(ر) سرفراز خان کا بنتا تھا اور اگر ٹکٹ انہیں ملتا تو وہ باآسانی الیکشن جیت جاتے مگر نذیر انقلابی سے انتخابی سیاست کا آغاز کرانا مقصود تھا۔ چیئرمین عبدالمالک اور چیئرمین اللہ دتہ کو ہمیشہ سکندر حیات خان نے کندھا دیئے رکھا اور ہر معاملہ پر انہیں اکاموڈیٹ کیا ، سابق چیئرمین بلدیہ میرپور چوہدری خالد حسین بھی سردار سکندر حیات خان کے فیورٹ لوگوں میں ہوا کرتے تھے اور انہیں کی بدولت وہ چیئرمین بلدیہ بنے ، میرپور میں انکے سر پر ہمیشہ سکندر حیات خان کا ہاتھ رہا ، چکسواری سے چیئرمین بلدیہ راجہ خالد اور چیئرمین ضلع کونسل چوہدری انور کے سر پر بھی سردار سکندر حیات خان کا ہاتھ رہا اورانہی کی بدولت وہ سیاسی عہدوں پر رہے ، میرپور سے معروف قانون دان سردار رازق ایڈووکیٹ خود کو کریلوی خاندان کا فرد گردانتے ہیں اور سردار سکندر نے اپنے دور حکومت میں انہیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر ایڈجسٹ کیا ، مرزا ظفر اقبال آف برنالہ پر بھی سکندر حیات خان نے ہمیشہ اپنے احسانات کی بارش
کئے رکھی اسی طرح سماہنی سے مسلم کانفرنسی رکن اسمبلی چوہدری رشید مرحوم کو جماعت سے نکال کر راجہ مقصود کو جماعت کا ٹکٹ دیکر الیکشن لڑایا اور جتوایا گیا اور ہمیشہ انکے سر پر اپنا ہاتھ رکھا ، موجودہ وزیر برقیات راجہ نثار، وزیر صنعت نورین عارف، رکن اسمبلی راجہ قیوم، امیدوار اسمبلی راجہ اقبال پر بھی سردار سکندر حیات خان نے اپنے احسانات کا سلسلہ جاری رکھا اور جب جب حکومت میں آئے ان افراد کو سیاسی و حکومتی عہدوں، وزارتوں اور ترقیاتی سکیموں کے ذریعے ایڈجسٹ کیا ، موجودہ حکومت میں ڈی جی وزیراعظم سیکرٹریٹ ملک ذوالفقار، وزیراعظم کے سٹاف آفیسر شفیق انقلابی اور موجودہ رکن کشمیر کونسل عبدالخالق وصی سردار سکندر حیات خان کی ٹیم کہلاتی تھی جو آجکل راجہ فاروق حیدر خان کے ارد گرد پائے جاتے ہیں، ان پر احسانات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی آبائی یونین کونسل سے کونسلر کا الیکشن لڑ کر جیتنے کی پوزیشن میں آج بھی نہیں ہے مگر 1985 سے 2006 تک ہر دور حکومت میں یہ لوگ سکندر ٹیم کا حصہ ہوتے تھے ۔ ان میں سے صرف عبدالخالق وصی کی بات کی جائے تو انہیں ہمیشہ سکندر حیات نے اپنے ساتھ کچن کیبنٹ کا حصہ رکھا مگر آج انہوں نے اپنے فیس بک پر کرنل خان محمد خان مرحوم کی برسی کی تقریب کی جو تصاویر شیئر کی ہیں ان میں سب لیگی قیادت کے نام لکھے ہیں مگر سردار سکندرحیات خان کو تصویر میں سے کاٹ دیا گیا اور انکا نام تک لکھنا گوارہ نہ کیا گیا۔
سردار سکندر حیات خان کے ادوار حکومت ریاست کے مضبوط ترین ادوار حکومت کہلاتے تھے وہ آج کل کے وزرائے اعظم کی طرف وزیراعظم نہیں تھے بلکہ انکے دور میں آزادکشمیر میں جہاں ایک طرف ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جا رہا تھا وہیں انکے ارد گرد پیسوں کا سمندر بہا کرتا تھا جس میں انکی ٹیم کے بیشتر افراد ”اشنان” کیا کرتے تھے مگر انکی زندگی میں ہی انکے احسان مندوں نے انکے
احسانوں کا بدلہ چکا دیا ہے۔جس کے بعد راجہ فاروق حیدر خان کو یہ خوش فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ وقت آنے پر یہ لوگ انکے احسانوں کا بدلہ موجودہ بدلے سے بہتر چکا پائیں گے۔ وقت بدلتا ہے اور تب سے بدل رہا ہے جب سے دنیا قائم ہوئی اور تب تک بدلتا رہے گا جب تک دنیا قائم ہے مگر وقت کی رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ جب انسان بدل رہے ہوں تو احسان کرنے والوں کو بھی احسان کرتے وقت اسکے صلہ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ۔