تلوارزنی/گتگاہ بازی ! ذوالفقار حسین سلہریا

تلوار زنی/گتگاہ بازی
تحریر: ذوالفقار حسین سلہریا

حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں پہلے پیغمبر اور انسان ہیں ۔کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے انسانی ارتقاء کے ساتھ ہی انسانوں میں میل جول،ہمدردی،رہائش ،خوراک پوشاک،ضروریات اور خواہشات جیسے قدرتی عناصر موجود ہیں۔آدم کو ماننے سے شیطان نے انکار کیا۔یوں ایک نئے اختلافی عنصر کو دنیائے زندگی میں جگہ ملی جو اختلاف کی صورت میں سامنے آیا۔اختلاف نے ہی ایک دوسرے سے دشمنی،جنگ و جد ل کو جنم دیا۔کہیں پیغمبروں سے اختلاف ہوا تو کہیں بادشاہوں سے کہیں ضرورت نے جنگ چھیڑی تو کہیں خواہش یالالچ نے۔کہا جا سکتا ہے کہ جہاں اختلافات ،دشمنی جنگ و جدل ہوئے ہونگے وہاں ہتھیار یا اوزار بھی استعمال ہوئے ہونگے۔بہت پرانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ تلوار کا استعمال کہا ں سے شروع ہوا۔لیکن جب بھی ہم ماضی کی بڑی جنگوںکا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے دشمنی اور جنگ کے پہلے بڑے ہتھیار ایک اللہ کا دین جو حضرت آدم کے حصہ میں آیا اور دوسرا اختلاف اور شیطانی اعمال کا ہتھیار جو ابلیس یعنی شیطان کے حصے میں آیا۔اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ان زمانوں میں ٹھوس جسامت میں جنگ کا کوئی ہتھیار نہیں تھا۔اسی طرح پیغمبروںکے مقابلے میں فرعون،نمرود ،شداد جیسے کئی مخالفین بھی آئے۔کہیںروحانی کہیں لفظی کہیںپتھر کہیں تلوارکہیں ڈنڈے اور کہیں تیر کے ہتھیاروں سے لڑائی یاجنگ ہوئی۔حضرت موسی علیہ السلام کا عصا مبارک اور اسکے واقعات بہت مشہور ہیں یوں یہ بھی لکڑی کا ایک ہتھیار تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے آگے باضابطہ کلہاڑے یالوہے کے ہتھیاروں کا استعمال کا ذکر ملتا ہے۔حضور اکرم ۖ کے دور سے آگے تلوار سے لڑی گئی جنگوں اور واقعات کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔جس میں نہ صرف تلوار بلکہ تیر کمان اور دیگر کئی جنگی ہتھیاروں اور سازو سامان کا ذکر ہے ۔کچھ روایات میں ہے کہ
حضور اکرمۖ نے جنگ بدر میں ایک درخت سے لکڑی کی شاخ توڑی اور اسے تلوار کی استعمال کیا ۔اس کا مطلب ہے گتگاہ کا آغاز یہاں سے ہو گیا تھا۔
لفظ گٹکا،گٹگا،کٹکا،گٹکہ،کتکا،گتکہ،GATKA،کتکا،کتکہ بہت سے علاقوں کی مختلف زبانوں اور مختلف لہجوں میں مختلف لکھا پڑھا جاتا ہے۔لیکن میرے نزدیک اصل لفظ گتگاہ ہے۔جو دو لفظوں سے مل کر بنتا ہے۔ہمارے علاقوں میں اس کا مطلب پرانے وقتوں میں یہی لیا جاتاآ رہا ہے ایک لفظ گت یعنی کسی چیز کا طریقہ یا تربیت اور دوسرا گاہ ایسا جگہ یا ایسی رسم۔دونوں سے مل کر معنی دیتا ہے سیکھنے کی جگہ یا اس چیز کی سکھلائی عام الفاظ میں تلوار یا گتگاہ کی سکھلائی کے بنتے ہیںکچھ غیر تواتر روایات سے اندازہ ہوتاہے کہ حضرت عمر کے دور سے فوج کو تلوار کی باضابطہ تربیت دی جاتی لیکن تلوار کی جگہ کوئی اور چیز ہاتھوں میں رکھی جاتی تھی جس سے دوسرے کو ضرب یا نقصان نہ آئے کا استعمال ہوتا تھا۔اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا گیا اور تاریخ کے اعتبار سے گتگاہ کے نام کا باقاعدہ استعمال اور ترتیب کے بارے میں حضرت علی کے دور سے ہوتا معلوم ہوتا ہے۔
میں نے اپنی تحقیق میں یہ پڑااور بہت سے لوگوں سے معلوم ہوا کہ حضر ت علی کے دور سے تلوار کی جگہ لکڑی اور عام چھڑی کا استعمال کیا گیا باضابطہ ایک کھاڑے یا میدان لشکر یا فوج کو تلوار کی تربیت دی جاتی تھی جو گتگاہ کے ذریعے دی جاتی تھی اور یہ لکڑی کی مضبوط چھڑی کے ہواکرتے تھے۔اس وقت اس کی سکھلائی کی ابتدائ، دوران اور اختتام کی دعائیں بھی پڑھی جانی شامل ہوئیں۔جو ایک دو خاص دُعائیںیہ ہیںاور آج بھی پڑھی جاتی ہے۔
ھاف کبو بعد مہرہ چار پہلو گن کلی ساقیہ
من عضو کا سر کہ کرو بسم اللہ یا علی
علی شاہ مرداں شیر یزداں
قوت پروردگار لافتح الا علی
لا سیف الا ذوالفقار
حضرت علی علیہ السلام کی تلوار کا نام ذوالفقار ہے۔اسکے علاوہ بھی بہت سی دعائوں یا روایات نے جگہ لی ہوئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ امام حنیف نے دو تلوار اکٹھی بھی چلائی جو مائی حنفی کے بیٹے تھے یوں گتگاہ تلوار کی سکھلائی کا رواج بن گیا۔
مزید ایک تحقیق کے مطابق لکھا گیا ہے کہ گتکا پنجابی کا لفظ ہے۔اردو میں گٹکالکھتے ہیں۔بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کاقدیم روایتی کھیل ہے اور مشترکہ فارم میں تلوار کی جگہ لکڑیوں کی چھڑیاں استعمال کر کے میچ کھیلے جاتے ہیں۔مشرقی بھارت مارٹیل آرٹس اس کو شاسترہ دیدیا کہتے ہیں۔سنسکرت میں اس کا مطلب ہے ہتھیاروں کا علم ۔شاستراہ کا تعلق زیادہ پنجابی سکھوں سے بتایا جا تا ہے جو بہت شو ق اور روایتی طور پر اسے کھیلتے ہیں۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھی زیادہ گتگاہ کھیلا جاتا ہے۔آج کے گتگا اور تلوار نے تربیت سے زیادہ بطور کھیل اور رسم جگہ بنا لی ہے۔
سندھ ،پنجاب،سرحد ،گلگت پلتستان بالخصوص مانسہر ہ ،ایبٹ آباد،ہری پور ،ٹیکسلا ،حویلیاں،تنولا اور آزاد کشمیر میں بے حد شوق اور تیاری و طریقہ سے کھیلا جاتاہے۔مظفرآباد
میں بالخصوص گھن چھتر ،کھلہ ،بانڈی کریم حیدر شاہ بالا،بٹلیاں،مالدہی ،نیاز پورہ ،نورا سیری ،دچھور میراں،ٹھنگر،دبن،لنگر پورہ ،پنجکوٹ اور کیل ،شاردہ ،آٹھمقام و دیگر علاقوں میں کھیلا جاتا ہے۔تلوار اور گتگاہ کو برصغیر کے مسلمان حکمرانوں اور بادشاہوںجاٹ،سکھوں اور راجپوتوں سے بھی زیادہ منسوب کیا جاتا ہے۔کشمیر بھی چونکہ صدیوں مختلف حکمرانوں کی آماجگاہ رہی اور جنگ و جدل کا سلسلہ رہا۔یہ چیزیں یہاں بھی رواج رہیں آہستہ آہستہ تلوار گتگاہ نے جنگی تیاریوں سے زیادہ رسمی شکل اختیار کر لی اور بالخصوص شادی بیاہ کی خوشی کی رسم میں ڈھول کی تھاپ پر کھیلا جانے لگا اور یہ سلسلہ چلتے چلتے ہم تک پہنچا۔
دو،تین صدی کی پہلے کی وہ شخصیات جن کے ذریعے یہ سب ہم تک پہنچا اگر ان کے نام تحریر نہ ہوں تو نا انصافی ہو گی۔کیونکہ انہوں نے اس رسم یا کھیل کو پورے علاقے میں پھیلانے میں بہت کردار ادا کیا۔جن میں قابل ذکر دوسہ راجہ،پھتو اُستاد،حاجی عنایت اللہ،حاجی حسن علی،میر مہند علی،میر عبدالعزیز ،اُستاد راجہ غیاث خان اور دیگر کئی قابل ذکر شخصیات ہیں۔میرا شوق بھی اس رسم یا کھیل میں بہت پیدا ہوادلچسپی کے ساتھ ساتھ میں نے اس کھیل کے بارے میں جاننے اور معلومات لینے کے لیے اپنا کام شروع کیا۔سب سے پہلے اس کھیل کو اچھی طرح کھیلنے والے لوگوں اور اُن علاقوں تک رسائی کی جہاں یہ زیادہ کھیلا جاتا ہے۔اُستا د راجہ غیاث خان صاحب مرحوم ،ان کے بیٹے راجہ اعجا ز ،منیر شاہ،غلام حسین شاہ،میر شبیر،نزاکت حسین،چوہدری نظام دین،قاضی میر،اشفاق سلہریا،شاہ نواز میر،محمد ریاض ،شربت استاد،اسماعیل نیہرہ کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے ہر قدم مجھ سے تعاون کیا۔ہم نے آزاد کشمیر سطح پر ایک تلوار زنی گتگاہ بازی ایسو سی ایشن قائم کی اس پلیٹ فارم پر تلوار اور گتگاہ سے متعلق اکثریت لوگ اکھٹے ہوئے۔
مختلف علاقوں میں جہاں لوگ زیادہ کھیلتے تھے وہاں ہم نے 15سے 30لوگوں پر مشتمل کلب بنائے۔ان کا ایک یونیفارم سفید کپڑے ،جوتے اور واسکٹ (کلب رنگ) بیج اور کارڈ کا سلسلہ بھی شروع کیا کیونکہ موجودہ وقت میں سکیورٹی حالات کے پیش نظر گارڈ یا بیج کا ہونا انتہائی لازم تھا۔شروع میں تلوار گتگاہ صرف شادیوں یا عرس تقریب میں کھیلے جاتے تھے اب الحمد اللہ شادی بیاہ جملہ خوشی کی تقاریب و ایام عرس،آزاد کشمیر و پاکستان کے جملہ اہم ایام کے موقع پر تلوار گتگاہ بازی کا بھرپور مظاہر ہ ہوتا ہے۔جس کے لیے ہم محکمہ سپورٹس کلچرل اکیڈمی ،اے جے کے یونیورسٹی،ٹورزم،محکمہ سیاحت،لبریشن سیل کے بھرپور مشکور ہیں جنہوں نے ہماری تجاویز کو بھرپور پذیرائی بخشی،ہمارے کلبز رجسٹرڈ کیے،کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور اب یہ کھیل اس قدر دلچسپ اور ضروری ہو کر رہ گیا ہے کہ جس پروگرام میں یہ نہ ہو ہر کوئی بہت کمی محسوس کرتا ہے اور جہاں ہو ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے۔ماشاء اللہ 17سال سے بھرپور طریقے سے ہر جگہ گتگاہ و تلوار بازی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔گتگاہ میں پنجتنی،سلامی،چھُٹ ،ترے بارہ،دورہ تمانچہ کے انداز اور دیگر کئی انداز اپنائے جاتے ہیں اور ڈھول کی ملتی جلتی تھاپ پر کھیلا جاتا ہے۔کم ازکم 30×20 فٹ کی میدانی جگہ درکار ہوتی ہے۔جدید گیم میں اب دو سے زیادہ کھلاڑی بھی کھیل لیتے ہیں اور سلامی بھی کرتے ہیں۔
اور کھیل کے قانون کے مطابق ایک یونیفارم میں کھیلا جاتا ہے۔کم از کم 20منٹ کا کھیل ہوتا ہے اور جتنا بڑھانا چاہیں بڑھایا جا سکتا ہے۔ایک اُستاد /انسٹرکٹر اور اناؤنسر کا ساتھ ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن یہاں اکثر مواقعوں پر استاد یا انائونسسر کے کردارکو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس وجہ سے کھیل کا بھرپور مظاہرہ نہیں ہو تا۔انعامی یا بڑی ٹیموں کے درمیان اگر مقابلہ ہو تو ہنگامی صورت حال میں ایمبولینس کا ہونا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔گتگاہ میں کوہ نامی یا لونڑکی مضبوط لکڑی ڈھائی فٹ یا زیادہ لمبی اور قدرے موٹی چھڑی کو خوبصورتی ٹیپ سے تیار کیا جاتا ہے اور خوبصورت دستی ہو تی ہے۔وار کو روکنے کے لیے بائیں ہاتھ میں پھری رکھی جاتی ہے جو فوم اور چمڑے کی بنی ہوتی ہے۔اس طرح تلوار بھی تیز دھار لوہے کی ہوتی ہے اور ڈھال ایک موٹے چمڑے کی جس پر لوہے کی رکاوٹیں لگی ہوتی ہیں۔ یوں یہ کھیل کھیلے جاتے ہیں اور طے شدہ طریقہ کے مطابق وار کرنے ہوتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارا کا م مکمل ہو گیا ہے ابھی بھی ہم اس کھیل یا رسم کے بارے میں تحقیق اور اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں اور اس کھیل کو عالمی سطح تک اُجاگر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔جن اداروں نے ہمیں یہاں تک لانے میں پذیرائی بخشی امید ہے آئندہ بھی بھرپور تعاون کریں گے اورحکومت آزاد کشمیر کے سامنے یہ تجویز رکھتے ہیں کہ اس اہم کھیل یا رسم کو جو کشمیر میں بہت زیادہ شوق سے اور ہر جگہ کھیلا جاتا ہے جسے ہزاروںلوگ دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں اگر اس روایتی کھیل کو ریاستی یا قومی کھیل کے طور پر شامل کیا جائے تو اس سے بہتر عمل اور کوئی نہ ہو گا۔ساتھ ہی اس کھیل کو زندہ رکھنے والے،اپنا وقت اور اپنی زندگیاں صرف کرنے والے اور اس سے وابستہ افراد کی حکومتی سطح پربھرپورحوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔